قومی زبان

کسی کے عشق میں یہ حال زار رہتا ہے

کسی کے عشق میں یہ حال زار رہتا ہے سکون پا کے بھی دل بے قرار رہتا ہے وہ مے کدہ میں بہت باوقار رہتا ہے جو بے خودی میں بھی کچھ ہوشیار رہتا ہے مجھے بہار گلستاں پہ ناز ہو کیوں کر مری نظر میں مآل بہار رہتا ہے دل حزیں غم دوراں سے آشنا نہ سہی تمہارے غم سے مگر ہمکنار رہتا ہے کوئی تو بات ...

مزید پڑھیے

قلب وارفتہ محبت میں کہیں ایسا نہ ہو

قلب وارفتہ محبت میں کہیں ایسا نہ ہو جس کو تو اپنا سمجھتا ہے وہی بیگانہ ہو ہر ستم پر مسکرانا میری فطرت ہے مگر دیکھیے اس ضبط کا انجام کیا ہو کیا نہ ہو میں نے مانا آپ نے سب کچھ بھلا ڈالا مگر غیرممکن ہے کبھی میرا خیال آتا نہ ہو حسن کو یہ غم کہ جلوے ہو رہے ہیں بے نقاب عشق کو یہ فکر ...

مزید پڑھیے

زخم دل کو تسلیاں دے دو

زخم دل کو تسلیاں دے دو میرے پھولوں کو تتلیاں دے دو سچ کو تم قتل کر نہ پاؤ گے چاہے جتنی گواہیاں دے دو چاند تارے شفق دھنک آکاش ان دریچوں کو کنجیاں دے دو غزلیں بے کیف ہو رہی ہیں مری اپنے ہونٹوں کی سرخیاں دے دو کیا کرو گے نشانیاں رکھ کر ان ہواؤں کو چھٹیاں دے دو ہچکیاں رات درد ...

مزید پڑھیے

زہر تو لا جواب تھا اس کا

زہر تو لا جواب تھا اس کا دن ہی شاید خراب تھا اس کا جبکہ میرا سوال سیدھا تھا پھر بھی الٹا جواب تھا اس کا وہ محض دھوپ کا مسافر تھا ہم سفر آفتاب تھا اس کا آنکھ جیسے کوئی سمندر ہو اور لہجہ شراب تھا اس کا مطمئن تھا وہ ذات سے اپنی خود ہی وہ انتخاب تھا اس کا

مزید پڑھیے

اس پر تو کبھی دل کا کوئی زور نہیں تھا

اس پر تو کبھی دل کا کوئی زور نہیں تھا ہم سا بھی زمانے میں کوئی اور نہیں تھا جس وقت وہ رخصت ہوا بارات کی مانند اک ٹیس سی اٹھی تھی کوئی شور نہیں تھا ویران سی اس دنیا میں ہم کس سے بہلتے جنگل تھا اداسی تھی کوئی مور نہیں تھا دل ٹوٹ گیا تھا تو جڑاتے کہیں جا کر اس کام کا دنیا میں کوئی ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو نہیں شبنم نہیں کچھ غم نہیں

آنکھ میں آنسو نہیں شبنم نہیں کچھ غم نہیں زخم ہیں جن پر کوئی مرہم نہیں کچھ غم نہیں درد وہ دے کر مسلسل حالت دل پوچھتے ہیں یے عنایت بھی تو ان کی کم نہیں کچھ غم نہیں رات کا پچھلا پہر ہے اور ہم خانہ بدوش کوئی در دیوار کا ماتم نہیں کچھ غم نہیں ہر طرف ہیں خون سے رنگین کپڑے اور تن یے ...

مزید پڑھیے

چہرہ پہ کوئی رنگ شکایت کا نہیں تھا

چہرہ پہ کوئی رنگ شکایت کا نہیں تھا لیکن وو تبسم ہی محبت کا نہیں تھا چھوڑا بھی مجھے اور بہت خوش بھی رہے ہو افسوس کے میں آپ کی عادت کا نہیں تھا وقتوں کے سیاہ رنگ سے ذروں پہ لکھا ہے دنیا میں کوئی دور شرافت کا نہیں تھا اب سر کو پٹکنے سے کوئی فیض نہیں ہے مرنے کا تقاضہ تھا وو ہجرت کا ...

مزید پڑھیے

ہمارے حق میں دعا کرے گا

ہمارے حق میں دعا کرے گا وہ اک نہ اک دن وفا کرے گا بچھڑ گیا ہے مگر یقیں ہے کبھی کبھی وہ ملا کرے گا تو اپنے عاشق کو ساتھ رکھ لے بچھڑ گیا تو نشہ کرے گا جو اپنی حالت کا خود سبب ہو وہ کیا کسی سے گلا کرے گا اگر یہ دنیا اجڑ گئی تو کبھی یہ سوچا ہے کیا کرے گا میں جانتا ہوں کہ اک فرشتہ جو ...

مزید پڑھیے

کہاں اور کب کب اکیلا رہا ہوں

کہاں اور کب کب اکیلا رہا ہوں میں ہر روز ہر شب اکیلا رہا ہوں مجھے اپنے بارے میں کیا مشورہ ہو میں اپنے لئے کب اکیلا رہا ہوں اداسی کا عالم یہاں تک رہا ہے میں ہوتے ہوے سب اکیلا رہا ہوں یہاں سے وہاں تک ادھر سے ادھر تک میں پشچم سے پورب اکیلا رہا ہوں بہت حوصلہ مجھ کو میں نے دیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا

تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا بچپن سے اپنے آپ سنبھل کر بڑا ہوا غیروں کو اپنا مان کے جیتا رہا ہوں میں اس راہ پل صراط پہ چل کر بڑا ہوا میں نے کبھی بھی رات سے شکوہ نہیں کیا ہر شب کسی چراغ سا جل کر بڑا ہوا پتھر سے کوئی واسطہ مطلب نہ تھا مگر ہر آئنے کی آنکھ میں کھل کر بڑا ہوا مخمل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2302 سے 6203