قومی زبان

جل بھی ملن کے کشٹ کا تھل بھی امین تھا

جل بھی ملن کے کشٹ کا تھل بھی امین تھا یہ بھی کبھی تری مری چاہت کا سین تھا سوچا تو دور تھے کئی فرسنگ اس کے انگ دیکھا تو سامنے وہ ستارہ جبین تھا اک عرش تھا جھکا ہوا گرنے کو سوئے فرش اک جسم صد شگاف سر سطح زین تھا فتحوں سے ہم کنار بیاباں میں بے مزار تو معنیٔ مبین تو تشریح دین تھا دن ...

مزید پڑھیے

بے کل ہے مکھ نگاہ میں بوسوں کی پیاس ہے

بے کل ہے مکھ نگاہ میں بوسوں کی پیاس ہے کچھ تو بتا تو کس سے بچھڑ کر اداس ہے تصویر میں جھکا ہے ندی پر کدم کا پیڑ پانی میں پیرتا ہوا بت بے لباس ہے تیری قسم کہ تجھ کو بنا کر متاع زیست اب کوئی آرزو ہے نہ اب کوئی آس ہے کھلتی ہے روز شام کو اک چمپئی دھنک گاؤں کے اس مکاں پہ جو دریا کے پاس ...

مزید پڑھیے

رت نے روایت کے رخ بدلے ہر مسعود سعود گیا

رت نے روایت کے رخ بدلے ہر مسعود سعود گیا صدقوں سے مفقود ہوئے دل معبد سے معبود گیا دو فصلیں دو ندی کنارے آپس میں کیا ان کا رشتہ گھر میں گری جب املی پک کر باغ سے تب امرود گیا موت محبت کی ور مالا چتا سوئمبر آگ دوشالا پیار پیا کی پریت کا پیاسا نار انہار میں کود گیا چاٹی اور چولہا سب ...

مزید پڑھیے

رنگ اور روپ کے پردیپ میں کھونے دے مجھے

رنگ اور روپ کے پردیپ میں کھونے دے مجھے خود کو چاہت کی چڑھی رو میں ڈبونے دے مجھے تو اگر خوش ہے تو جا قافیہ پیمائی کر شعر کو روح کی لڑیوں میں پرونے دے مجھے پریت کا انت بچھڑنا ہے مگر اور ابھی اپنی باہوں کے کنول کنڈ میں سونے دے مجھے چوم کر اس کے مدھر ہونٹوں کی رس ونت لویں ذہن کو نشوں ...

مزید پڑھیے

تو درد تازہ کے عنوان کی مہورت ہے

تو درد تازہ کے عنوان کی مہورت ہے سکھی سکھی مجھے اب بھی تری ضرورت ہے تجھے گپھاؤں کہیں آب ناؤں میں دیکھا ازل سے آئینہ دل میں تیری صورت ہے رکھوں سنبھال کے کب تک یہ زندگی تجھ بن ترے ملن کا سبب ہے نہ کوئی صورت ہے سڈول پاؤں سبک سوہنا سجل ناؤں نشہ طراز بدن موہنا مدھورت ہے یہی نہ تیرے ...

مزید پڑھیے

سونا لگا بغیر ترے مجھ کو سارا گھر

سونا لگا بغیر ترے مجھ کو سارا گھر بیلیں چڑھیں گلاب کی جب باتھ روم پر اوپر وہ گاؤں نیچے لڑھکتی ڈھلان پر مسجد کو سجدہ ریز خمیدہ سی اک ڈگر کن الجھنوں میں بچے کو پڑھوائی نرسری کن کوششوں سے طے ہوا اک سال اک سفر آٹا بھی گھی بھی گھر بھی یہاں قیمتاً ملیں کیوں آ گیا میں شہر میں گاؤں کو ...

مزید پڑھیے

ترے ہاتھ پہ کھیتوں کی مٹی مرا موتیوں والا جامہ

ترے ہاتھ پہ کھیتوں کی مٹی مرا موتیوں والا جامہ کل چنتے ہوئے سرسوں تو نے کیوں میرا دامن تھاما اصرار نہ کر ضد چھوڑ سکھی جاتی ہوں پیا سے ملنے لے باندھ کلائی پر گجرے لے ڈال گلے میں نامہ وہی آ کے براجے آنگن میں وہی ساجے ندی کے تٹ پر وہی بھینسیں چرائے بیلوں میں وہی چرواہا وہی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے آبگینے بہے پھوٹ پھوٹ کر

آنکھوں کے آبگینے بہے پھوٹ پھوٹ کر یوں دل نے تجھ سے پیار کیا ٹوٹ ٹوٹ کر جنگل سبھی کٹے سجے منڈپ سبھی ہٹے راجیش کھو گئے کہیں رادھا سے روٹھ کر مت کہہ اسے نٹور نگوڑا نڈر سکھی پی ہے مرا میں جاؤں کہاں اس سے چھوٹ کر بندھن جگت کے پاؤں کی زنجیر ہی سہی آ تج کے یہ روایتیں اس سچ کو جھوٹ ...

مزید پڑھیے

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے

کہہ دے من کی بات تو گوری کاہے کو شرماتی ہے شام ڈھلے تجھ کو کس اپرادھی کی یاد ستاتی ہے تجھ کو مجھ سے پریم ہے تو بے کل ہے میری چاہت میں تیری پایلیا کی جھن جھن سارے بھید بتاتی ہے کھول کے گھونگھٹ کے پٹ پیار سے کرتی ہے پرنام مجھے بھور بھئے جب نیر بھرن کو وہ پنگھٹ پر آتی ہے باندھ گئی ...

مزید پڑھیے

کٹے دن سن کئی موسم مہینے

کٹے دن سن کئی موسم مہینے تجھے جی میں بہت ڈھونڈا ہے جی نے چھوا پھولوں نے جھک کر اس کا چہرہ بھگوئے ہونٹ شبنم کی نمی نے ابھی برچھی کے پھل رڑکیں بدن میں ابھی سڑکن بھرے یہ سر یہ سینے پڑھیں رگ‌‌ وید کی پاکیزہ حمدیں پئے نروان جل کے آبگینے بتائی رات کی سب بات آخر کہیں کا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2296 سے 6203