جل بھی ملن کے کشٹ کا تھل بھی امین تھا
جل بھی ملن کے کشٹ کا تھل بھی امین تھا یہ بھی کبھی تری مری چاہت کا سین تھا سوچا تو دور تھے کئی فرسنگ اس کے انگ دیکھا تو سامنے وہ ستارہ جبین تھا اک عرش تھا جھکا ہوا گرنے کو سوئے فرش اک جسم صد شگاف سر سطح زین تھا فتحوں سے ہم کنار بیاباں میں بے مزار تو معنیٔ مبین تو تشریح دین تھا دن ...