پھر لہلہا اٹھا سمے آموں پہ بور کا
پھر لہلہا اٹھا سمے آموں پہ بور کا جانے سکھی کب آئے مسافر وہ دور کا اس گاؤں کے نشیب میں بہتی ہے اک ندی ندی پہ ایک پیڑ جھکا ہے کھجور کا نیلم سی مرگ نین نگہ دل کے آر پار جیون کے ارد گرد کرن کنڈ نور کا اک پل ملاپ پھر کڑے کڑوے کٹھن ویوگ مقصد تھا بس یہی ترے میرے ظہور کا پکی سڑک کے ...