قومی زبان

پھر لہلہا اٹھا سمے آموں پہ بور کا

پھر لہلہا اٹھا سمے آموں پہ بور کا جانے سکھی کب آئے مسافر وہ دور کا اس گاؤں کے نشیب میں بہتی ہے اک ندی ندی پہ ایک پیڑ جھکا ہے کھجور کا نیلم سی مرگ نین نگہ دل کے آر پار جیون کے ارد گرد کرن کنڈ نور کا اک پل ملاپ پھر کڑے کڑوے کٹھن ویوگ مقصد تھا بس یہی ترے میرے ظہور کا پکی سڑک کے ...

مزید پڑھیے

یخ بستہ ٹھنڈکوں میں اجالا جڑا ہوا

یخ بستہ ٹھنڈکوں میں اجالا جڑا ہوا کہرے کے ساتھ راہ پہ کوڑا پڑا ہوا اب بھی بلند تر ہیں سپاہ خدا کے سر پرچم ہے اب بھی چوب علم پر چڑھا ہوا نمرود کی چتا کہیں پاٹا ہے کربلا ہر جگ میں امتحان ہمارا کڑا ہوا بے آبرو ہے فن ابھی آواز بے بدن سر پر ابھی ہے ہجر کا بادل کھڑا ہوا چاہت کی انتہا ...

مزید پڑھیے

نئی نکور نرالی پر

نئی نکور نرالی پر دل آیا متوالی پر چاند گھٹا کے گھونگھر میں خوشبو ڈالی ڈالی پر کنتھ ملے کجرا مہکا رنگ رچے دیوالی پر رادھا رانی پھول سمان ہری گئے ہریالی پر رمے کرن ریجھے جگنو اکھیاں کجیلی کالی پر دھیان اک بیتے ملن کے دوار لب چائے کی پیالی پر سرسوں سہاگن سونے سے تیتریوں کے ...

مزید پڑھیے

تو شرافتوں کا مقام ہے تو صداقتوں کا دوام ہے

تو شرافتوں کا مقام ہے تو صداقتوں کا دوام ہے جہاں فرق شاہ و گدا نہیں ترے دین کا وہ نظام ہے جنہیں ترے نام کی چاہ ہے یہ زمین ان کی گواہ ہے وہیں کربلا کا وہ دشت ہے وہیں قصر کوفہ و شام ہے کہیں کنکروں کو زبان دے کہیں سچ کو حرف بیان دے در حد حد انعام ہے سر قد قد الہام ہے ترا روپ روح کے ...

مزید پڑھیے

دل مٹے پیار کی اپیلوں پر

دل مٹے پیار کی اپیلوں پر تہمتیں لگ گئیں قبیلوں پر قافلوں کی کتھا کتابوں میں فاصلوں کی صدا فصیلوں پر بھیج سکھیوں کے ہاتھ مت سندیس یوں بھروسہ نہ کر وکیلوں پر سیب چہکار جنگلی چڑیاں رات وادی میں چاند جھیلوں پر اور جی کو پیا ملن کے جتن اور پریتم کا گاؤں میلوں پر کھیلنا چن کے ...

مزید پڑھیے

پاس بھی رہ کر دور ہے تو

پاس بھی رہ کر دور ہے تو میں بے بس مجبور ہے تو پیاسی اکھیاں ڈھونڈھ تھکیں بول کہاں مستور ہے تو روگ اور جوگ اٹوٹ سہی آس یا پاس ضرور ہے تو ایک اکیلا میں بے کل تنہا چکنا چور ہے تو پیار اقرار سے جوڑ سبھی میں دنیا دستور ہے تو ہاتھ سے دور نگہ سے جدا دل میں نور ظہور ہے تو ہر چوکھٹ میں ...

مزید پڑھیے

ابر ناریل ندی راستے پہ میں اور تو

ابر ناریل ندی راستے پہ میں اور تو آتما کو کلپائے کوئلوں کی کو ہو کو کوفہ تیرے کوچوں سے اپنا کارواں گزرا سر سوار نیزوں پر قبلہ رو ستارہ جو یا درون افسانہ تیری میری چاپ ابھرے مدھ ملن کی راتوں میں یا جلیں بجھیں جگنو روز آفرینش سے اپنی ہم قدم سجنی پنچھیوں کی چہکاریں بنسیوں کی ہاؤ ...

مزید پڑھیے

ضد نہ کر مت سمے ملن کا اجاڑ

ضد نہ کر مت سمے ملن کا اجاڑ پریت کا روگ تجھ کو دے گا پچھاڑ بیٹھ کر گھر میں لکھ نئے اشعار جا کے سڑکوں پہ لڑکیوں کو نہ تاڑ عشق اور وصل دو رخ اک تصویر رائی کو تو سمجھ رہی ہے پہاڑ دیکھ اب کتنے شادماں ہیں یہ لوگ ڈال کر مجھ میں اور تجھ میں بگاڑ رس کی ہر لہر کے عجب موسم دھوپ کے پوہ ...

مزید پڑھیے

سورج سرخ دشا میں اترا

سورج سرخ دشا میں اترا دن ڈوبا دریا میں اترا ہوٹل سبزہ لان لب جو گھرتا ابر گھٹا میں اترا اٹ کر گرد معاش سے ابھرے پھٹ کر درد دعا میں اترا شہر پناہ کی گلیاں جاگیں چاند جو محل سرا میں اترا سوئے اوڑھ کے مقتل کو ہم دشت بلا صحرا میں اترا بام پہ شام ہوئی گوری کو انگ کا رنگ ادا میں ...

مزید پڑھیے

دھن نہیں کوئی مدعا کیسا

دھن نہیں کوئی مدعا کیسا دل ہوا دیکھ بے صدا کیسا میری توصیف سال صدیاں ثنا میں نہیں جب تو پھر خدا کیسا لفٹ کھمبے تو اور میں پیڑ پہاڑ وقت وادی میں جم گیا کیسا دوسروں کی کہی سنی پہ نہ جا تو بتا تجھ سے میں رہا کیسا شب کی شب ساتھ پھر نہ بول نہ بات کیا کہوں ہے وہ سانورا کیسا میں تجھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2295 سے 6203