قومی زبان

قیاس بن باس کو معانی دے

قیاس بن باس کو معانی دے دے مجھے پھر کوئی کہانی دے بخش جذبوں کو دائمی شوبھا شعر کو عمر جاودانی دے کربلا! میری جد پہ گزری کیا حال احوال کچھ زبانی دے خاتم زر کہ آنسوؤں کے گہر جو بھی دیتا ہے تو نشانی دے ڈال گندم پہ کیسری چندری دھان کے سر پہ شال دھانی دے کوئی اعجاز‌ محرمانہ ...

مزید پڑھیے

دو ایک سال ہی اک سے سراہی جاتی ہے

دو ایک سال ہی اک سے سراہی جاتی ہے اسی طرح سے ہمیشہ تو چاہی جاتی ہے ''کریں نہ بیاہ، ملیں، سکھ سہائیں فلسفہ خوب'' ترے بزرگوں کی سب کج کلاہی جاتی ہے ہے تجھ میں مجھ سے بگاڑ اب اک اور کے آگے تری سکھی تری دینے گواہی جاتی ہے براجے گھر میں مجھے چاہے تجھ کو بہکائے لے تیری بہن کی اب سربراہی ...

مزید پڑھیے

گھر والے بھی سوئے ہیں ابھی شب بھی گھنی ہے

گھر والے بھی سوئے ہیں ابھی شب بھی گھنی ہے آ جانا مرے پیچھے جہاں ناگ پھنی ہے رسوا ہوئی کچھ تیاگ کے تو پیار کے سمبندہ کچھ باعث تشہیر مری بے وطنی ہے سو بار مرا تیرا ملن موہ ہوا ہے کس ناز کس انداز پہ تو اتنا تنی ہے آنکھوں کا سبھاؤ ہے کہ صبحوں کی کنولتا پلکوں کا جھکاؤ ہے کہ نیزے کی ...

مزید پڑھیے

حسرت عہد وفا باقی ہے

حسرت عہد وفا باقی ہے تیری آنکھوں میں حیا باقی ہے بات میں کہنہ روایات کا لطف ہاتھ پر رنگ حنا باقی ہے ابھی حاصل نہیں ظالم کو دوام ابھی دنیا میں خدا باقی ہے بجھ گیا گر کے خنک آب میں چاند سطح دریا پہ صدا باقی ہے گوپیاں ہی کسی گوکل میں نہیں بنسیوں میں تو نوا باقی ہے پاؤں کے نیچے ...

مزید پڑھیے

پران پریتم پہ وار کر دیکھو

پران پریتم پہ وار کر دیکھو سر سے گٹھری اتار کر دیکھو وہ یم ذات ہو کہ رود فرات کوئی دریا تو پار کر دیکھو پوس کی اوس سے بدن دھو کر ماس کو مشک بار کر دیکھو مشک تھا مو بریدہ ہاتھوں سے سر کو کاندھوں پہ بار کر دیکھو سنو جنگل میں پنچھیوں کی صدا بہتے دریا سے پیار کر دیکھو اوڑھ کر تن پہ ...

مزید پڑھیے

نین نشے کی چڑھتی نمو پر

نین نشے کی چڑھتی نمو پر باقی بدن سب جام و سبو پر چڑیاں مور ممولے وادی ہم تم ایک کنار جو پر لکھی گئی تاریخ ہماری کوفے تیرے کاخ و کو پر ہم نے اپنی کویتا گوندھی مٹی کی سوندھی خوشبو پر کربل حرب، ہراول، حملہ کربل آخری ضرب عدو پر

مزید پڑھیے

لفظوں کی سنگلاخ سلوں میں سمو دیا

لفظوں کی سنگلاخ سلوں میں سمو دیا یاروں نے فن کے پھول کو پتھر میں بو دیا میری حقیقتوں پہ نہ تو ہنس کہ تجھ کو بھی جدت کے شوق نے سر ساحل ڈبو دیا ڈستی ہے اب بھی دل کو کسی کی ٹھٹھکتی چاپ اک آب جو پہ جلتا ہے جب شام کو دیا کیسا خیال ہے یہ کہاں کی ہے طرز فکر آیا تو وہ لجا گیا بچھڑا تو رو ...

مزید پڑھیے

اور سفر لمبا ہوا ہر گام پر

اور سفر لمبا ہوا ہر گام پر تھک کے جب بیٹھے کبوتر بام پر آ سکھی دہرائیں پھر بچپن کے دن آ سکھی ڈالیں ہنڈولے آم پر یہ الگ دفتر میں جا کر گم ہوئے خیر سے لگ تو گئے وہ کام پر ایک کاٹا رام نے سیتا کے ساتھ دوسرا بن باس میرے نام پر گیارہویں کے چاند تو چمکا تو تھا شاہ کے لٹتے ہوئے خیام ...

مزید پڑھیے

دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے

دل سے حصول زر کے سبھی زعم ہٹ گئے فکر معاش بڑھ گئی خانوں میں بٹ گئے پھر یوں ہوا کہ مجھ سے وہ یونہی بچھڑ گیا پھر یوں ہوا کہ زیست کے دن یونہی کٹ گئے کھینا سکھی سکھی نہ سجن کی طرف مجھے لینا سکھی سکھی مرے پاؤں رپٹ گئے آئینہ اس کو دیکھ کے مبہوت ہو گیا گلدان میں گلاب لجا کر سمٹ ...

مزید پڑھیے

دل کو جب آگہی کی آگ لگے

دل کو جب آگہی کی آگ لگے تب سخن سوچ کو سہاگ لگے ان بھری بستیوں کے لوگ مدام ان ہری کھیتیوں کو بھاگ لگے منتشر ہو تو گر میں گیان کہاں سر ملیں سب تو ایک راگ لگے ہونٹ گوری کے رس بھرے انجیر لٹ کا لچھا لٹک کے ناگ لگے کشٹ ٹوٹے تو شاعری چھوٹے آب ٹھہرے تو جم کے جھاگ لگے ہاتھ کنگن کو آرسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2294 سے 6203