قومی زبان

ربط بھی توڑا بنی نت کی طلب کا بیس بھی

ربط بھی توڑا بنی نت کی طلب کا بیس بھی پتر بھی اس نے لکھے بھیجے مجھے سندیس بھی چوکھٹا دل کا یہاں ہے ہو بہو تجھ سا کوئی ہونٹ بھی آنکھیں بھی چھب ڈھب بھی تجھی سا فیس بھی زیست کے پتھ پر نہیں ہونا تھا تجھ مجھ میں ملاپ ہر جنم میں پریت نے دیکھے بدل کر بھیس بھی پوت کی ساڑی گلابی آفتابی ...

مزید پڑھیے

وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں

وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں تمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیں جلا بھنا ہوں مجھے خواہش کباب نہیں پلا دے دھو کے سبو ہی اگر شراب نہیں سنا ہے ہم نے کہ عارض پہ ہے غبار سا کچھ بلا سے خط کا ہمارے اگر جواب نہیں تری خبر کے لئے دیکھتے ہیں سب اخبار مطالعہ میں کسی کے کوئی کتاب ...

مزید پڑھیے

آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا

آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا میری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایا عین مستی میں جو وہ شوخ ہوا سر کہ جبیں یہ اڑے ہوش کہ نشے نے ہرن دکھلایا جھٹ پٹا وقت ہوا موت کا ساماں شب وصل سحر ہجر کا مردوں نے کفن دکھلایا چاند کو دیکھتے ہیں لوٹتے انگاروں پر تم نے کیوں کبک دری کو یہ چلن ...

مزید پڑھیے

ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسے

ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسے بنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسے ہوئے خاک دور جہاں کیسے کیسے ہوئے حادثے ہیں یہاں کیسے کیسے سنے وصل میں ہم بیاں کیسے کیسے بہانے کئے وہ عیاں کیسے کیسے قلق ہجر کے ہیں یہاں کیسے کیسے گماں کرتے ہیں وہ وہاں کیسے کیسے ہے کس کا دہن وصف لب میں تمہارے سخنور ...

مزید پڑھیے

آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا

آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا دریا بہا دے بزم میں اشک کباب کا اس آفتاب رخ پہ نظر اپنی پڑتے ہی شبنم کی طرح اڑ گیا پردہ حجاب کا کس بے وفا پہ مرتا ہے کیا کیجیے اسے گھر اور ہو کہیں دل خانہ خراب کا کرنے تو دو سوال کریں ہیں تو کیا عاشق ہوں میں بھی اک بت خانہ خراب کا ہر دم وہ مجھ کو دیکھ ...

مزید پڑھیے

جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی

جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی بلبل‌ جاں مری بسمل کبھی ایسی تو نہ تھی وعدۂ وصل کیا کس نے دیا دم کس نے بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی اے شہ حسن رقیب آپ کا قادر نکلا فوج عشاق کی بیدل کبھی ایسی تو نہ تھی مہرباں آئے کدھر آج کدھر نکلا چاند رشک افلاک یہ محفل کبھی ایسی ...

مزید پڑھیے

دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہو

دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہو اے بت خدا تلک بھی ترا آشنا نہ ہو محفل میں اس پری کی جو یہ دل‌ جلا نہ ہو یا رب شراب ناب میں ہی کچھ مزا نہ ہو اس سبز خط کے بوسے لئے میں نے خواب میں یا رب غبار دل میں کہیں آ گیا نہ ہو پلوا رہے ہو روبرو غیروں کو جام مے اور کہتے ہو مجھے تو مری جاں خفا نہ ...

مزید پڑھیے

سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا

سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا سورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرا ریش یعقوب نے رکھی ہے رخ یوسف پر چشم بد دور کہ ہے زلف زلیخا سہرا باغ الفت سے حسینوں نے جو کلیاں بینی اس پری کے لئے پریوں نے بنایا سہرا جدولیں سونے کی یاقوت رقم نے کھینچی یا ہے مصحف پہ سر لوح مطلا سہرا جلوۂ طور ...

مزید پڑھیے

اک عکس دل کے تٹ سے بے اختیار پھوٹے

اک عکس دل کے تٹ سے بے اختیار پھوٹے جب چاند اس نگر کی جھیلوں کے پار پھوٹے صدقہ اتارنے کو تیرے مدھر نین کا ابھرے کئی ستارے غنچے ہزار پھوٹے وہ اور میں ندی کے نغموں پہ بہتی ناؤ ناؤ میں اس کے مکھ سے اجلا نکھار پھوٹے کانوں میں اب بھی کھنکیں گجرے ترے گجردم اس گھر سے جب دھوئیں کا نیلا ...

مزید پڑھیے

حسرت عہد وفا باقی ہے

حسرت عہد وفا باقی ہے تیری آنکھوں میں حیا باقی ہے بات میں کہنہ روایات کا لطف ہاتھ پر رنگ حنا باقی ہے ابھی حاصل نہیں ظالم کو دوام ابھی دنیا میں خدا باقی ہے بجھ گیا گر کے خنک آب میں چاند سطح دریا پہ صدا باقی ہے آنکھ میں اسم محمد کی مہک ہونٹ پر حرف دعا باقی ہے گوپیاں ہی کسی گوکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2293 سے 6203