قومی زبان

دیکھا نہیں دیکھے ہوئے منظر کے سوا کچھ

دیکھا نہیں دیکھے ہوئے منظر کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا سیر مکرر کے سوا کچھ مدت سے ہے معمورۂ بازار غریباں یہ شہر نہ تھا جس میں ترے گھر کے سوا کچھ کس حال میں اس شوخ سے وابستہ ہوا دل سوغات میں دینے کو نہیں سر کے سوا کچھ وہ غرفہ نشینی ہے نہ ہے شہر نوردی باقی نہ رہا ہجر میں بستر کے سوا ...

مزید پڑھیے

آگے پہنچا جل کا دھارا بجرا پیچھے چھوٹ گیا

آگے پہنچا جل کا دھارا بجرا پیچھے چھوٹ گیا رستہ چھوڑ سواروں کو میں پیادہ پیچھے چھوٹ گیا یہ بستی کون سی بستی ہے آ کے کہاں بس ٹھہر گئی جس دھام اترنا چاہا تھا وہ قصبہ پیچھے چھوٹ گیا آگے آگے لمبی ڈگر ہے ریت بھرے میدانوں کی جس تٹ اک پل ٹھہرے تھے وہ دریا پیچھے چھوٹ گیا بیٹھے ہیں ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں مت کھول جنس جاں اٹھا لے جائے گا

کھڑکیاں مت کھول جنس جاں اٹھا لے جائے گا گھر کے گھر کو شہر کا ریلا بہا لے جائے گا سب نمک احساس کا ساری حلاوت زخم کی آنے والے دن کا ڈر سارا مزہ لے جائے گا اس برستی رات کا یہ آخری آنسو بھی کل مجھ سے چاہت اس کی آنکھوں سے وفا لے جائے گا کشت دل کو چاٹ لے گا کرم دنیا اور پھر بچ رہے گا کچھ ...

مزید پڑھیے

دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا

دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا میرؔ کو بے عاشقی بھی خوار ہوتے دیکھنا کثرت دانشوراں کو قحط دانش جاننا وسعتوں کو دشت کی دیوار ہوتے دیکھنا رکنے والی ہے فشار دم سے نبض انحراف خود کو اب سر تا بہ پا انکار ہوتے دیکھنا پیر صد سالہ سے سننا قصۂ آسودگی لمحہ لمحہ زیست کو دشوار ہوتے ...

مزید پڑھیے

دھڑکا تھا دل کہ پیار کا موسم گزر گیا

دھڑکا تھا دل کہ پیار کا موسم گزر گیا ہم ڈوبنے چلے تھے کہ دریا اتر گیا خوابوں کی وہ متاع گراں کس نے چھین لی کیا جانیے وہ نیند کا عالم کدھر گیا تم سے بھی جب نشاط کا اک پل نہ مل سکا میں کاسۂ سوال لئے در بدر گیا بھولے سے کل جو آئنہ دیکھا تو ذہن میں اک منہدم مکان کا نقشہ اتر گیا تیز ...

مزید پڑھیے

قہر تھا ہجرت میں خود کو بے اماں کرنا ترا

قہر تھا ہجرت میں خود کو بے اماں کرنا ترا دشت نامحفوظ اور اس میں مکاں کرنا ترا اس کہانی میں مرا کردار ہی گویا نہ تھا یوں حقیقت کو مری بے داستاں کرنا ترا چھن گیا آکاش کا خیمہ تو شام ہجر میں کچھ دھوئیں کے بادلوں کو آسماں کرنا ترا اف! یہ مجبوری کہ جب سارے نشیمن جل گئے ٹوٹنے والے شجر ...

مزید پڑھیے

اپنا بیمار ہے دل عشق کا بیمار نہیں

اپنا بیمار ہے دل عشق کا بیمار نہیں خود تشفی کے سوا ہجر کا آزار نہیں تیرگی ایسی غضب کی کہ عیاذاً باللہ ایسا لگتا ہے کہ گھر ہے در و دیوار نہیں حشر کے بعد بھی ویراں ہی رہے گی جنت کون حق دار ہے کوئی بھی تو حق دار نہیں تہ میں کچھ اور ہیں اوپر سے ہیں خبریں کچھ اور با خبر تم بھی نہیں میں ...

مزید پڑھیے

کشش تو اب بھی غضب کی ہے نازنینوں میں

کشش تو اب بھی غضب کی ہے نازنینوں میں مگر وہ چاند چمکتا نہیں جبینوں میں یہ سب کے چہروں میں یکسانیت سی کیسی ہے حسین تر کوئی جچتا نہیں حسینوں میں جو میرے ذہن میں تھی سبزہ زار خواب میں تھی کہاں وہ فصل اگائی گئی زمینوں میں شعور عمر سے افزوں ہوئی ہے عمر شعور ہمارے سال گزرنے لگے ...

مزید پڑھیے

چھا گیا سر پہ مرے گرد کا دھندلا بادل

چھا گیا سر پہ مرے گرد کا دھندلا بادل اب کے ساون بھی گیا مجھ پہ نہ برسا بادل سیپ بجھتے ہوئے سورج کی طرف دیکھتے ہیں کیسی برسات مری جان کہاں کا بادل وہ بھی دن تھے کہ ٹپکتا تھا چھتوں سے پہروں اب کے پل بھر بھی منڈیروں پہ نہ ٹھہرا بادل فرش پر گر کے بکھرتا رہا پارے کی طرح سبز باغوں میں ...

مزید پڑھیے

میرے بدن کی آگ ہی جھلسا گئی مجھے

میرے بدن کی آگ ہی جھلسا گئی مجھے دیکھا جو آئنہ تو ہنسی آ گئی مجھے میری نمود کیا ہے بس اک تودۂ سیاہ کوندی کبھی جو برق تو چمکا گئی مجھے جیسے میں اک سبق تھا کبھی کا پڑھا ہوا اٹھی جو وہ نگاہ تو دہرا گئی مجھے ہر صبح میں نے خود کو بہ مشکل بہم کیا آئی جو غم کی رات تو بکھرا گئی مجھے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2286 سے 6203