دیکھا نہیں دیکھے ہوئے منظر کے سوا کچھ
دیکھا نہیں دیکھے ہوئے منظر کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا سیر مکرر کے سوا کچھ مدت سے ہے معمورۂ بازار غریباں یہ شہر نہ تھا جس میں ترے گھر کے سوا کچھ کس حال میں اس شوخ سے وابستہ ہوا دل سوغات میں دینے کو نہیں سر کے سوا کچھ وہ غرفہ نشینی ہے نہ ہے شہر نوردی باقی نہ رہا ہجر میں بستر کے سوا ...