سیم و زر چاہے نہ الماس و گہر مانگے ہے
سیم و زر چاہے نہ الماس و گہر مانگے ہے دل تو درویش ہے الفت کی نظر مانگے ہے جب غزل مجھ سے کوئی مصرعۂ تر مانگے ہے کاوش فکر مرا خون جگر مانگے ہے دل کو ہے عافیت انجمن گل کی طلب زندگی دشت مغیلاں کا سفر مانگے ہے مجھ کو لے جائے جو انجانے دیاروں کی طرف میری آوارہ مزاجی وہ ڈگر مانگے ...