قومی زبان

سیم و زر چاہے نہ الماس و گہر مانگے ہے

سیم و زر چاہے نہ الماس و گہر مانگے ہے دل تو درویش ہے الفت کی نظر مانگے ہے جب غزل مجھ سے کوئی مصرعۂ تر مانگے ہے کاوش فکر مرا خون جگر مانگے ہے دل کو ہے عافیت انجمن گل کی طلب زندگی دشت مغیلاں کا سفر مانگے ہے مجھ کو لے جائے جو انجانے دیاروں کی طرف میری آوارہ مزاجی وہ ڈگر مانگے ...

مزید پڑھیے

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا ہے کلب کے رنگ و رامش میں بھی میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

بادل امبر پہ نہ دھرتی پہ شجر ہے بابا

بادل امبر پہ نہ دھرتی پہ شجر ہے بابا زندگی دھوپ میں صحرا کا سفر ہے بابا تم کہاں آ گئے شیشوں کی تمنا لے کر یہ تو اک سنگ فروشوں کا نگر ہے بابا ہم ہیں قید در و دیوار سے آزاد ہمیں جس جگہ رات گزاری وہی گھر ہے بابا من ہو درویش تو پھر تن پہ قبا ہو کہ عبا جوگ بانا نہیں انداز نظر ہے ...

مزید پڑھیے

ٹوٹتا ہوں کبھی جڑتا ہوں میں

ٹوٹتا ہوں کبھی جڑتا ہوں میں جاگتی آنکھ کا سپنا ہوں میں اپنی صورت کو ترستا ہوں میں آئنہ ڈھونڈنے نکلا ہوں میں کبھی پنہاں کبھی پیدا ہوں میں کس فسوں گر کا تماشا ہوں میں خلش خار کبھی نکہت گل ہر نفس رنگ بدلتا ہوں میں دیکھیے کس کی نظر پڑتی ہے کب سے شوکیس میں رکھا ہوں میں کوئی تریاک ...

مزید پڑھیے

ظلمت شب سے الجھنا ہے سحر ہونے تک

ظلمت شب سے الجھنا ہے سحر ہونے تک سر کو ٹکرانا ہے دیوار میں در ہونے تک اب تو اس پھول کی نکہت سے مہکتی ہے حیات زخم دل زخم تھا تہذیب نظر ہونے تک دل ہی جلنے دو شب غم جو نہیں کوئی چراغ کچھ اجالا تو رہے گھر میں سحر ہونے تک

مزید پڑھیے

کانٹے کو پھول سنگ کو گوہر کہا گیا

کانٹے کو پھول سنگ کو گوہر کہا گیا اس شہر میں گدا کو سکندر کہا گیا بے چہرہ لوگ حسن کا معیار بن گئے پرچھائیوں کو نور کا پیکر کہا گیا جلاد کو مسیحا نفس کی سند ملی انسان دشمنوں کو پیمبر کہا گیا کچھ جس کے پاس نیش و نمک کے سوا نہ تھا چاک جگر کا اس کو رفو گر کہا گیا کیا شے ہے مصلحت بھی ...

مزید پڑھیے

کبھی دہکتی کبھی مہکتی کبھی مچلتی آئی دھوپ

کبھی دہکتی کبھی مہکتی کبھی مچلتی آئی دھوپ ہر موسم میں آنگن آنگن روپ بدل کر چھائی دھوپ اس کو زخم ملے دنیا میں جس نے مانگے تازہ پھول جس نے چاہی چھاؤں کی چھتری اس کے سر پر چھائی دھوپ جانے اپنا روپ دکھا کر کس نے پردہ تان لیا کس کی کھوج میں آوارہ ہے انگنائی انگنائی دھوپ چڑھتے سورج ...

مزید پڑھیے

اس میں رہ کر اس کے باہر جھانکنا اچھا نہیں

اس میں رہ کر اس کے باہر جھانکنا اچھا نہیں دل نشیں کے دل کو کمتر آنکنا اچھا نہیں جس کی آنکھوں میں ہمیشہ بس ہمارے خواب ہوں اس کی پلکوں پر اداسی ٹانکنا اچھا نہیں اس کی خاموشی کو بھی سننا سمجھنا چاہیے ہر گھڑی بس اپنی اپنی ہانکنا اچھا نہیں ایک دن دل نے کہا جا ڈھانک لے اپنے گناہ ہم ...

مزید پڑھیے

جذبۂ درد محبت نے اگر ساتھ دیا

جذبۂ درد محبت نے اگر ساتھ دیا بات بن جائے گی قسمت نے اگر ساتھ دیا آپ اٹھیں گے کب آغوش تمنا سے مری زندگی کا شب فرقت نے اگر ساتھ دیا ساتھ دے گی نہ کبھی میری محبت میرا آپ کی چشم عنایت نے اگر ساتھ دیا نہیں معلوم کہ انجام محبت کیا ہو غم کا خود غم کی حقیقت نے اگر ساتھ دیا کہیں گمنام ...

مزید پڑھیے

جام خالی ہیں مئے ناب کہاں سے لاؤں

جام خالی ہیں مئے ناب کہاں سے لاؤں آپ کا دیدۂ پر آب کہاں سے لاؤں کہہ سکوں ان کی نگاہوں کا تبسم جس کو ایک ایسا دل بے تاب کہاں سے لاؤں عشق خود اپنی جگہ پر ہے مکمل لیکن حسن کا جوہر نایاب کہاں سے لاؤں سامنا تم سے محبت میں جو ہو جائے کبھی اک نیا عالم اسباب کہاں سے لاؤں کعبہ و دیر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2254 سے 6203