بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم
بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم دور رہ کر بھی مجھے نزدیک تر لگتے ہو تم کیوں نہ آؤں سج سنور کر میں تمہارے سامنے خوش ادا لگتے ہو مجھ کو خوش نظر لگتے ہو تم تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی مجھ کو میری آرزوؤں کی سحر لگتے ہو تم جس کے سائے میں اماں ملتی ہے میری زیست کو مجھ کو ...