قومی زبان

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم

بے خبر ہوتے ہوئے بھی با خبر لگتے ہو تم دور رہ کر بھی مجھے نزدیک تر لگتے ہو تم کیوں نہ آؤں سج سنور کر میں تمہارے سامنے خوش ادا لگتے ہو مجھ کو خوش نظر لگتے ہو تم تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی مجھ کو میری آرزوؤں کی سحر لگتے ہو تم جس کے سائے میں اماں ملتی ہے میری زیست کو مجھ کو ...

مزید پڑھیے

چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہے

چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہے تو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے مری جانب لپکتی منزلوں سے پوچھ لینا کسی کے ساتھ چلنے کا ہنر کتنا حسیں ہے وہ میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے میرا ہو کر دعائے نیم شب کا یہ اثر کتنا حسیں ہے زہے قسمت کہ سایہ دار بھی ہے با ثمر بھی مرے سر پر محبت کا شجر ...

مزید پڑھیے

شام اچھی ہے نہ سحر اچھی

شام اچھی ہے نہ سحر اچھی یار بھیجو کوئی خبر اچھی خوب پائی ہے یہ نظر اچھی اس طرف ہے بری ادھر اچھی ہے یہ تصویر کتنے چہروں کی کہیں آنکھیں کہیں کمر اچھی اب کہیں بھی نظر نہیں آتی وہ جو تھی ایک رہ گزر اچھی کس طرف جائے آدمی آخر ہے فضا دشت میں کدھر اچھی اس میں اچھا ہے کیا پتہ ناظمؔ مجھ ...

مزید پڑھیے

یقیں کو دار سے حاصل کیا ہے

یقیں کو دار سے حاصل کیا ہے عقیدہ پیار سے حاصل کیا ہے ترے اقرار پر شک تھا تبھی تو تجھے انکار سے حاصل کیا ہے اسے تلوار ہی جینے نہ دے گی جسے تلوار سے حاصل کیا ہے علاج زندگی اس بار ہم نے کسی بیمار سے حاصل کیا ہے چکانی ہوگی قیمت اس کی ناظمؔ جسے بازار سے حاصل کیا ہے

مزید پڑھیے

آنچل جو ڈھلکتا ہے ان کا کبھی شانوں سے

آنچل جو ڈھلکتا ہے ان کا کبھی شانوں سے پائل کی صدا آ کر ٹکراتی ہے کانوں سے اپنی ہی ہلاکت کا باعث ہوئے جاتے ہیں جو تیر نکلتے ہیں آج اپنی کمانوں سے ہم نے رہ الفت میں آ کر یہی سیکھا ہے منزل کا پتہ لینا قدموں کے نشانوں سے اک بار بھی جو سننا ہم کو نہ گوارا تھا سو بار سنا ہم نے دنیا کی ...

مزید پڑھیے

جیسے جیسے عالم امکاں بدلتا جائے گا

جیسے جیسے عالم امکاں بدلتا جائے گا ذہن انساں نت نئے سانچوں میں ڈھلتا جائے گا ہو سکے تو اپنی خوشیاں درد کے ماروں میں بانٹ زندگی کا کارواں تو یوں ہی چلتا جائے گا عین ممکن ہے اسے دنیا ہوس کا نام دے دل کا جو ارمان بھی دل سے نکلتا جائے گا میرے اس اک اشک کی قیمت مرے ہمدم نہ پوچھ آنکھ ...

مزید پڑھیے

کون پہچانے مجھے شب بھر تو خطروں میں رہا

کون پہچانے مجھے شب بھر تو خطروں میں رہا وہ اندھیرا ہوں جو دن بھر بند کمروں میں رہا سب کی نظریں روز پڑتی تھیں کوئی پڑھتا نہ تھا میں تو ہر اخبار کی گمنام خبروں میں رہا میں نے دنیا چھوڑ دی لیکن مرا مردہ بدن ایک الجھن کی طرح قاتل کی نظروں میں رہا آج کا انسان چادر اوڑھ کر احساس ...

مزید پڑھیے

جب زبانوں میں یہاں سونے کے تالے پڑ گئے

جب زبانوں میں یہاں سونے کے تالے پڑ گئے دودھیا چہرے تھے جتنے وہ بھی کالے پڑ گئے ڈوبنے سے پہلے سورج کے نکل آتا ہے چاند ہاتھ دھو کر شام کے پیچھے اجالے پڑ گئے بلبلے پانی پہ مت سمجھو ہوائیں قید ہیں سانس لینے کے لیے موجوں کو لالے پڑ گئے جب سے اس پر ایک چلو پیاس کے شعلے گرے تب سے سارے ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے

اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مر جانے دے اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی کوئی آنسو مرے دامن پہ ...

مزید پڑھیے

یاد نہیں کیا کیا دیکھا تھا سارے منظر بھول گئے

یاد نہیں کیا کیا دیکھا تھا سارے منظر بھول گئے اس کی گلیوں سے جب لوٹے اپنا بھی گھر بھول گئے خوب گئے پردیس کے اپنے دیوار و در بھول گئے شیش محل نے ایسا گھیرا مٹی کے گھر بھول گئے تجھ کو بھی جب اپنی قسمیں اپنے وعدے یاد نہیں ہم بھی اپنے خواب تری آنکھوں میں رکھ کر بھول گئے مجھ کو جنھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2231 سے 6203