قومی زبان

ترا نصیب بنوں تیری چاہتوں میں رہوں

ترا نصیب بنوں تیری چاہتوں میں رہوں تمام عمر محبت کی وحشتوں میں رہوں خمار حسرت دیدار میں رہوں ہر دم سواد عشق یونہی تیری شدتوں میں رہوں یہ زندگی کی حرارت ترے سبب سے ہے میں لمحہ لمحہ جنوں کی تمازتوں میں رہوں یہ اہتمام شب و روز ہو مری خاطر ترے خیال کی رنگین خلوتوں میں ...

مزید پڑھیے

کچھ اس ادا سے ہمیں غم گسار ملتے ہیں

کچھ اس ادا سے ہمیں غم گسار ملتے ہیں ہزار زخم پس اعتبار ملتے ہیں شب فراق کی وحشت نہ پوچھئے ہم سے ہم اپنے ہجر سے دیوانہ وار ملتے ہیں یہ شہر زخم فروشاں ہے ہائے کیا کیجے کہ پائے گل بھی یہاں خار خار ملتے ہیں وہ جن کی کوکھ میں شوق خرد پنپتا ہے وہ ولولے بھی جنوں کا شکار ملتے ہیں سجا کے ...

مزید پڑھیے

پہلے دکھ درد کئی دل میں سنبھالے میں نے

پہلے دکھ درد کئی دل میں سنبھالے میں نے پھر کیا خود کو ترے غم کے حوالے میں نے کیوں کھلے تجھ پہ سفر میں تھی عزیت کیسی کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے تو نے ہر گام جو بخشے ہیں اندھیرے مجھ کو ان اندھیروں میں ترے خواب اجالے میں نے تیری تصویر مرے پاس تھی یعنی تو تھا دن ترے ہجر ...

مزید پڑھیے

ہر اک موسم کی نیت جانتی ہیں

ہر اک موسم کی نیت جانتی ہیں ہوا کے ڈر سے شاخیں کانپتی ہیں کوئی ان کا بھی آ کر ہاتھ روکے وہ یادیں جو دلوں کو کاٹتی ہیں مجھے ہے بد دعا شاید کسی کی مری آنکھوں سے نیندیں بھاگتی ہیں بدن میں سرسراتی ہے خموشی رگوں میں وحشتیں سی ناچتی ہیں عجب سی کیفیت ہے بے بسی کی میں سو جاؤں تو آنکھیں ...

مزید پڑھیے

جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی

جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی میں نے پھر کس کے لیے شمع جلا رکھی تھی رکھ دیا ان کو بھی جھولی میں ستم گاروں کی میں نے جن ہاتھوں سے بنیاد وفا رکھی تھی جانتا کون بھلا کیسے کسی کے حالات وقت نے بیچ میں دیوار اٹھا رکھی تھی اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر میری شہ رگ پہ مری ماں ...

مزید پڑھیے

دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو

دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو ترقیوں کا فسانہ سنا دیا مجھ کو ابھی ہنسا بھی نہ تھا اور رلا دیا مجھ کو میں ایک ذرہ بلندی کو چھونے نکلا تھا ہوا نے تھم کے زمیں پر گرا دیا مجھ کو سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پر فصیل شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ ...

مزید پڑھیے

روز خوابوں میں نئے رنگ بھرا کرتا تھا

روز خوابوں میں نئے رنگ بھرا کرتا تھا کون تھا جو مری آنکھوں میں رہا کرتا تھا انگلیاں کاٹ کے وہ اپنے لہو سے اکثر پھول پتوں پہ مرا نام لکھا کرتا تھا کیسا قاتل تھا جو ہاتھوں میں لیے تھا خنجر چپکے چپکے مرے جینے کی دعا کرتا تھا ہائے قسمت کہ یہی چھوڑ کے جانے والا عمر بھر ساتھ نباہیں ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر سادگی کے تصور سے ہٹ کے دیکھ

کچھ دیر سادگی کے تصور سے ہٹ کے دیکھ لکھا ہوا ورق ہوں مجھے پھر الٹ کے دیکھ مانا کہ تجھ سے کوئی تعلق نہیں مگر اک بار دشمنوں کی طرح ہی پلٹ کے دیکھ پھر پوچھنا کہ کیسے بھٹکتی ہے زندگی پہلے کسی پتنگ کی مانند کٹ کے دیکھ تا عمر پھر نہ ہوگی اجالوں کی آرزو تو بھی کسی چراغ کی لو سے لپٹ کے ...

مزید پڑھیے

یہ ہیں تیراک مگر حال یہ ان کے دیکھے

یہ ہیں تیراک مگر حال یہ ان کے دیکھے غرق ہوتے ہوئے طوفان میں تنکے دیکھے چھین لیتے ہیں جو انسان سے احساس نظر وہ اندھیرے کسی شب کے نہیں دن کے دیکھے آ گیا یاد انہیں اپنے کسی غم کا حساب ہنسنے والوں نے مرے اشک جو گن کے دیکھے وہ عجب شان کا گھر ہے کہ جہاں پر سب لوگ ایک ہی شکل کے اور ایک ...

مزید پڑھیے

جو داڑھی مونچھ ادھر غائب تو چوٹی ہے ادھر غائب

جو داڑھی مونچھ ادھر غائب تو چوٹی ہے ادھر غائب میاں ہیں مو بہ مو غائب تو بیوی سر بہ سر غائب اسی سے عاشقوں کی فوج کا اندازہ کر لیجے ہوا دو چار دن میں گھس گھسا کر سنگ در غائب ہر اک نا اہل یوں چپکا ہوا ہے اپنی کرسی سے سمجھتا ہے یہ سرکی اور ہوا سب کر و فر غائب نہ تھی بندش قفس میں چیخنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2230 سے 6203