قومی زبان

خواب کیا تھا جو مرے سر میں رہا

خواب کیا تھا جو مرے سر میں رہا رات بھر اک شور سا گھر میں رہا اک کرن محراب سے لپٹی رہی ایک سایا ادھ کھلے در میں رہا ٹوٹتی بنتی رہیں پرچھائیاں خواہشوں کا عکس پیکر میں رہا میں سر طاق صدا جل بجھ گیا تو وہ شعلہ تھا کہ پتھر میں رہا پانیوں میں مشعلیں بہتی رہیں آسماں ٹھہرا سمندر میں ...

مزید پڑھیے

دل تنگ ہوں مکان کے اندر پڑا ہوا

دل تنگ ہوں مکان کے اندر پڑا ہوا باہر ابد کا قفل ہے در پر پڑا ہوا مجھ پر گراں گزرتی ہے میری صدا کی گونج چپ ہوں درون گنبد بے در پڑا ہوا ممکن جو ہو تو ایک نظر مڑ کے دیکھ لے اک نقش ہے زمین پہ مٹ کر پڑا ہوا میں ہی نہیں ہوں دن کے بگولے کے ساتھ ساتھ سورج کے پاؤں میں بھی ہے چکر پڑا ہوا کھل ...

مزید پڑھیے

گلیاں اداس کھڑکیاں چپ در کھلے ہوئے

گلیاں اداس کھڑکیاں چپ در کھلے ہوئے اکتا گیا ہوں میں تو یہ سب دیکھتے ہوئے ہاتھوں پہ لکھ کے چومتا رہتا ہوں اس کا نام مدت گزر گئی ہے جسے خط لکھے ہوئے خوشبو و رنگ آب و ہوا ساز و خامشی کیا قافلے ہیں دشت خلا میں رکے ہوئے کچھ پوچھتی ہیں پیڑوں کی سرسبز ٹہنیاں کچھ کہہ رہے ہیں راہ میں پتے ...

مزید پڑھیے

دیا جلایا دونوں نے

دیا جلایا دونوں نے دیکھا سایا دونوں نے لکھ کر سادہ کاغذ پر نام بتایا دونوں نے آنکھوں اور چراغوں کو ساتھ جگایا دونوں نے دونوں مہک سے بوجھل تھے پھول کھلایا دونوں نے خاموشی کی بوند گری حرف بنایا دونوں نے کمرے میں وہ دونوں تھے شور مچایا دونوں نے دھوپ کی اجلی چادر میں باندھا ...

مزید پڑھیے

جب کھلا بادبان ہاتھوں میں

جب کھلا بادبان ہاتھوں میں آ گیا آسمان ہاتھوں میں شعلہ تھا وہ گلاب تھا کیا تھا پڑ گئے ہیں نشان ہاتھوں میں گرتے جاتے ہیں پھول بستر پر کھلتا جاتا ہے تھان ہاتھوں میں اس نے ہاتھوں پہ ہونٹ کیا رکھے آ گئی ساری جان ہاتھوں میں پھول کیا کیا کھلاتی جاتی ہے کوئی شاخ گمان ہاتھوں میں وہی ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں کو مری شکل دکھا دے کوئی

میری آنکھوں کو مری شکل دکھا دے کوئی کاش مجھ کو مرا احساس دلا دے کوئی غرض اس سے نہیں وہ کون ہے کس بھیس میں ہے میں کہاں پر ہوں مجھے میرا پتا دے کوئی ڈھونڈھتا پھرتا ہوں یوں اپنے ہی قدموں کے نشاں جیسے مجھ کو مری نظروں سے چھپا دے کوئی دل کی تختی سر بازار لیے پھرتا ہوں کاش اس پر تری ...

مزید پڑھیے

رات کنارا دریا دن

رات کنارا دریا دن رات کے پیچھے بہتا دن تو دھرتی کی پہلی رات میں دھرتی کا پہلا دن تیرے بدن میں جاگی رات میرے بدن میں ڈوبا دن ڈھلتا سورج شاخ ہوا جھکا ہوا ہے ٹوٹا دن خالی کشتی ساحل پر چڑھتا دریا چڑھتا دن موم کی بتی جیسی شام تیز ہوا کا جھونکا دن اس نے خط میں بھیجے ہیں بھیگی رات ...

مزید پڑھیے

شاخ میں سبزہ دھوپ میں سایہ واپس آیا

شاخ میں سبزہ دھوپ میں سایہ واپس آیا رات کو چھو کر دن کا جھونکا واپس آیا لہر نے کسے صدا دی دوری کے ساحل سے کشتی واپس آئی دریا واپس آیا بوند گری تھی جلتے موسم کے ہونٹوں پر آنکھ میں آنسو دل میں شعلہ واپس آیا کتنے دنوں کے بعد شجر نے چھتری کھولی کتنے دنوں میں دن بارش کا واپس ...

مزید پڑھیے

نیند جب خواب کو پکارتی ہے

نیند جب خواب کو پکارتی ہے رات اپنا لباس اتارتی ہے میں اسے کیسے جیت سکتا ہوں وہ مجھے اپنا جسم ہارتی ہے میں دیا ہاتھ پر اتارتا ہوں اور دیے پر وہ لو اتارتی ہے میں اکیلا اسے پکارتا تھا اب ہوا بھی اسے پکارتی ہے وہ مرے ساتھ نیم خوابی میں رات کی طرح دن گزارتی ہے کچھ تو وہ بھیگتی ہے ...

مزید پڑھیے

جاگتے ہیں سوتے ہیں

جاگتے ہیں سوتے ہیں حرف آنکھیں ہوتے ہیں روشنی کے پیالے میں انگلیاں ڈبوتے ہیں صبح جیسی آنکھوں میں آسمان سوتے ہیں جیسی نیند ہوتی ہے ویسے خواب ہوتے ہیں پینے والے پانی سے لوگ پاؤں دھوتے ہیں بارشوں کی راتوں کے دن عجیب ہوتے ہیں دھوپ جیسی چڑیا کے سائے پر بھگوتے ہیں جب وہ ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2215 سے 6203