قومی زبان

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں یاد آتی ہے! چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماں بانس کی کھری کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے آدھی سوئی آدھی جاگی تھکی دوپہری جیسی ماں چڑیوں کی چہکار میں گونجے رادھا موہن علی علی مرغے کی آواز سے بجتی گھر کی کنڈی جیسی ماں بیوی بیٹی بہن پڑوسن ...

مزید پڑھیے

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے

نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے لڑائی دیکھے ہوئے دشمنوں سے ممکن ہے مگر وہ خوف جو دیوار و در میں رہتا ہے خدا تو مالک و مختار ہے کہیں بھی رہے کبھی بشر میں کبھی جانور میں رہتا ہے عجیب دور ہے یہ طے شدہ نہیں کچھ بھی نہ چاند شب میں نہ سورج سحر میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہے لگی ہے آگ کہاں کیوں پتہ کیا جائے جدا ہے ہیر سے رانجھا کئی زمانوں سے نئے سرے سے کہانی کو پھر لکھا جائے کہا گیا ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے یہ کتنا سچ ہے کبھی تجربہ کیا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں حکومتیں جو بدلتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم

جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم خود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے ملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی مجبور ہو کے ملنے لگے ہر کسی سے ہم شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم اچھی بھلی تھی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی پھر یوں ہوا کہ وقت کا پانسہ پلٹ گیا امید جیت کی تھی مگر مات ہو گئی سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی وہ آدمی تھا کتنا بھلا کتنا پرخلوص اس سے بھی آج لیجے ملاقات ہو گئی رستے میں ...

مزید پڑھیے

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے اتنی خوں خار نہ تھیں پہلے عبادت گاہیں یہ عقیدے ہیں کہ انسان کی تنہائی ہے تین چوتھائی سے زائد ہیں جو آبادی میں ان کے ہی واسطے ہر بھوک ہے مہنگائی ہے دیکھے کب تلک باقی رہے سج دھج اس کی آج جس چہرہ سے تصویر ...

مزید پڑھیے

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ

یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھ مگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ میں مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے وقت پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی خزاں نصیب سہی ذہن میں بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں میں گلدستے یوں نہیں سجتے جہاں ہیں پھول وہیں ...

مزید پڑھیے

گھنے اندھیرے میں روشنی کی کلی کھلی ہے بہت بھلی ہے

گھنے اندھیرے میں روشنی کی کلی کھلی ہے بہت بھلی ہے گھٹن سے دم ٹوٹنے لگا تو ہوا چلی ہے بہت بھلی ہے میں اپنی فاقہ زدہ سی امید پر نہ کیوں اپنی جان واروں کہ ان دکھوں میں اور ایسے حالوں بھی یہ پلی ہے بہت بھلی ہے اٹک رہا تھا اندھیرا سانسوں میں خوف خوں میں گلا ہوا تھا اے صبح کاذب جو چھوڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2181 سے 6203