قومی زبان

کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت

کٹھ پتلی ہے یا جیون ہے جیتے جاؤ سوچو مت سوچ سے ہی ساری الجھن ہے جیتے جاؤ سوچو مت لکھا ہوا کردار کہانی میں ہی چلتا پھرتا ہے کبھی ہے دوری کبھی ملن ہے جیتے جاؤ سوچو مت ناچ سکو تو ناچو جب تھک جاؤ تو آرام کرو ٹیڑھا کیوں گھر کا آنگن ہے جیتے جاؤ سوچو مت ہر مذہب کا ایک ہی کہنا جیسا مالک ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے ہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرنا گھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستے بہتے دریا سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیں چھت سے دیواریں جدا ہوں گی ...

مزید پڑھیے

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پے گھر کیوں نہیں جاتا وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشہ جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی

دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی کچھ لوگ یوں ہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی دیکھا ہے جسے میں نے کوئی اور تھا شاید وہ کون تھا جس سے تری صورت نہیں ملتی ہنستے ہوئے چہروں سے ہے بازار کی زینت رونے کی یہاں ویسے بھی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں

یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی میں جو کھو جاتا ہے مل کر زندگی میں غزل ہے نام اس کا شاعری میں نکل آتے ہیں آنسو ہنستے ہنستے یہ کس غم کی کسک ہے ہر خوشی میں کہیں چہرہ کہیں آنکھیں کہیں لب ہمیشہ ایک ملتا ہے کئی میں چمکتی ہے اندھیروں میں خموشی ستارے ٹوٹتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب سوچتے رہتے ہیں کس ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیں اپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میں کیا ضروری ہے ...

مزید پڑھیے

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے جب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنے کوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدن ہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیں کچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا ...

مزید پڑھیے

محبت میں وفاداری سے بچئے

محبت میں وفاداری سے بچئے جہاں تک ہو اداکاری سے بچئے ہر اک صورت بھلی لگتی ہے کچھ دن لہو کی شعبدہ کاری سے بچئے شرافت آدمیت درد مندی بڑے شہروں میں بیماری سے بچئے ضروری کیا ہر اک محفل میں بیٹھیں تکلف کی روا داری سے بچئے بنا پیروں کے سر چلتے نہیں ہیں بزرگوں کی سمجھ داری سے بچئے

مزید پڑھیے

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کو سمجھایا ہے ہم سے پوچھو عزت والوں کی عزت کا حال کبھی ہم نے بھی اک شہر میں رہ کر تھوڑا نام کمایا ہے اس کو بھولے برسوں گزرے لیکن آج نہ جانے کیوں آنگن میں ہنستے بچوں کو بے کارن دھمکایا ہے اس بستی سے چھٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2180 سے 6203