قومی زبان

انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی

انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی اللہ نگہبان یہاں بھی ہے وہاں بھی خوں خوار درندوں کے فقط نام الگ ہیں ہر شہر بیابان یہاں بھی ہے وہاں بھی ہندو بھی سکوں سے ہے مسلماں بھی سکوں سے انسان پریشان یہاں بھی ہے وہاں بھی رحمان کی رحمت ہو کہ بھگوان کی مورت ہر کھیل کا میدان یہاں بھی ہے ...

مزید پڑھیے

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی اس اندھیرے میں تو ٹھوکر ہی اجالا دے گی رات جنگل میں کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے ...

مزید پڑھیے

رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی

رات کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی دن نہیں بدلے گا تاریخ بدل جائے گی ہنستے ہنستے کبھی تھک جاؤ تو چھپ کے رو لو یہ ہنسی بھیگ کے کچھ اور چمک جائے گی جگمگاتی ہوئی سڑکوں پہ اکیلے نہ پھرو شام آئے گی کسی موڑ پہ ڈس جائے گی اور کچھ دیر یوں ہی جنگ سیاست مذہب اور تھک جاؤ ابھی نیند کہاں آئے ...

مزید پڑھیے

سنا ہے میں نے

سنا ہے میں نے! کئی دن سے تم پریشاں ہو کسی خیال میں ہر وقت کھوئی رہتی ہو گلی میں جاتی ہو جاتے ہی لوٹ آتی ہو کہیں کی چیز کہیں رکھ کے بھول جاتی ہو کچن میں! روز کوئی پیالی توڑ دیتی ہو مسالہ پیس کر سل یونہی چھوڑ دیتی ہو نصیحتوں سے خفا مشوروں سے الجھن سی کمر میں درد کی لہریں رگوں میں ...

مزید پڑھیے

بوڑھا

ہر ماں اپنی کوکھ سے اپنا شوہر ہی پیدا کرتی ہے میں بھی جب اپنے کندھوں پر بوڑھے ملبے کو ڈھو ڈھو کر تھک جاؤں گا اپنی محبوبہ کے کنوارے گربھ میں چھپ کر سو جاؤں گا ہر ماں اپنی کوکھ سے اپنا شوہر ہی پیدا کرتی ہے

مزید پڑھیے

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی ہر طرف بھاگتے دوڑتے راستے ہر طرف آدمی کا شکار آدمی روز جیتا ہوا روز مرتا ہوا ہر نئے دن نیا انتظار آدمی گھر کی دہلیز سے گیہوں کے کھیت تک چلتا پھرتا کوئی کاروبار ...

مزید پڑھیے

گرج برس پیاسی دھرتی پھر پانی دے مولا

گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا دو اور دو کا جوڑ ہمیشہ چار کہاں ہوتا ہے سوچ سمجھ والوں کو تھوڑی نادانی دے مولا پھر روشن کر زہر کا پیالہ چمکا نئی صلیبیں جھوٹوں کی دنیا میں سچ کو تابانی دے مولا پھر مورت سے باہر آ کر چاروں اور بکھر ...

مزید پڑھیے

مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں

مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں جدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیں آج اور کل کی بات نہیں ہے صدیوں کی تاریخ یہی ہے ہر آنگن میں خواب ہیں لیکن چند گھروں میں تعبیریں ہیں جب بھی کوئی تخت سجا ہے میرا تیرا خون بہا ہے درباروں کی شان و شوکت میدانوں کی ...

مزید پڑھیے

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالم ہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے یہ وقت جو تیرا ہے یہ وقت جو میرا ہے ہر گام پہ پہرا ہے پھر بھی ...

مزید پڑھیے

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا

کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا ہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیا چھوٹی تھی عمر اور فسانہ طویل تھا آغاز ہی لکھا گیا انجام رہ گیا اٹھ اٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے دہشت گروں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا اس کا قصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا اب کیا بتائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2178 سے 6203