قومی زبان

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا اک عشق نام کا جو پرندہ خلا میں تھا اترا جو شہر میں تو دکانوں میں بٹ گیا پہلے تلاشا کھیت پھر دریا کی کھوج کی باقی کا وقت گیہوں کے دانوں میں بٹ گیا جب تک تھا آسمان میں سورج سبھی کا تھا پھر یوں ہوا وہ چند ...

مزید پڑھیے

من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے

من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے جیون جینا سہل نہ جانو بہت بڑی فن کاری ہے اوروں جیسے ہو کر بھی ہم با عزت ہیں بستی میں کچھ لوگوں کا سیدھا پن ہے کچھ اپنی عیاری ہے جب جب موسم جھوما ہم نے کپڑے پھاڑے شور کیا ہر موسم شائستہ رہنا کوری دنیا داری ہے عیب نہیں ہے اس میں کوئی لال پری ...

مزید پڑھیے

آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی

آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی سہی ہم کہاں کے دیوتا ہیں بے وفا وہ ہیں تو کیا گھر میں کوئی گھر کی زینت ہے چلو یوں ہی سہی وہ نہیں تو کوئی تو ہوگا کہیں اس کی طرح جسم میں جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی سہی میلے ہو جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر ...

مزید پڑھیے

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں ان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے خود کشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میں اور کچھ دن ابھی اوروں کو ستایا جائے باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں کسی تتلی کو نہ پھولوں سے ...

مزید پڑھیے

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا بات بہت ...

مزید پڑھیے

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی جس سے جب تک ملے دل ہی سے ملے دل جو بدلا تو فسانہ بدلا رسم دنیا کو نبھانے کے لیے ہم سے رشتوں کی تجارت نہ ہوئی دور سے تھا وہ کئی چہروں میں پاس سے کوئی بھی ویسا نہ لگا بے وفائی ...

مزید پڑھیے

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ ...

مزید پڑھیے

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہ جس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا دور کے چاند کو ڈھونڈو نہ کسی آنچل میں یہ اجالا نہیں آنگن میں سمانے ...

مزید پڑھیے

جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا

جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا ہمیشہ ایک ہی سے پیار ہو ایسا نہیں ہوتا ہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے دریا میں سفر میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتا کہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجے حقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتا کہیں تو کوئی ہوگا جس کو اپنی بھی ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارے میری آنکھوں سے کہیں کھو گیا منظر میرا مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے جاگتا رہتا ہے ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2179 سے 6203