قومی زبان

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو ملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کو دکھائے جا روانی توسن عمر رواں مجھ کو ہلال برق سے رکھ ہم رکاب و ہم عناں مجھ کو بنایا ناتوانی نے سلیمان زماں مجھ کو اڑا کر لے چلے موج نسیم بوستاں مجھ کو دم صبح ازل سے میں نوا سنجوں میں ہوں تیرے بتایا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ

مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤ ہوں قد آدم غبار کاروان لکھنؤ خون حسرت کہہ رہا ہے داستان لکھنؤ رہ گیا ہے اب یہی رنگیں بیان لکھنؤ گوش عبرت سے سنے کوئی مری فریاد ہے بلبل خونیں نوائے بوستان لکھنؤ میرے ہر آنسو میں اک آئینۂ تصویر ہے میرے ہر نالہ میں ہے طرز فغان لکھنؤ ڈھونڈھتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو نہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو بغل گیر آرزو سے ہیں مرادیں آرزو مجھ سے یہاں اس وقت تو اک عید ہے تم جلوہ گر کیا ہو مقدر میں یہ لکھا ہے کٹے گی عمر مر مر کر ابھی سے مر گئے ہم دیکھیے اب عمر بھر کیا ہو مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو ...

مزید پڑھیے

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا ہائے اے پیر مغاں کیا ہوگا باغ جنت میں سماں کیا ہوگا تو نہیں جب تو وہاں کیا ہوگا خوش وہ ہوتا ہے مرے نالوں سے اور انداز فغاں کیا ہوگا دور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑے اتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا دیکھ لو رنگ پریدہ کو مرے دل جلے گا تو دھواں کیا ہوگا ہوگا بس ایک ...

مزید پڑھیے

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف ہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف بیٹھے بیٹھے دل غمگیں کو یہ کیا لہر آئی اٹھ کے طوفان چلا دیدۂ گریاں کی طرف دیکھنا لالۂ خود رو کا لہکنا ساقی کوہ سے دوڑ گئی آگ بیاباں کی طرف رو دیا دیکھ کے اکثر میں بہار شبنم ہنس دیا دیکھ کے اکثر گل ...

مزید پڑھیے

اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح

اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرح آ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرح انگلیاں کانوں میں رکھ کر اے مسافر سن ذرا آ رہی ہے صاف آواز درا اچھی طرح چشم موسیٰ لا سکی اک اس کے جلوہ کی نہ تاب چشم دل سے جس کو دیکھا بارہا اچھی طرح فاصلہ ایسا نہیں کچھ عرش کی زنجیر سے کیا کہوں بڑھتا نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں

کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں فردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میں تھے محو لالہ و گل کس کیف بے خودی میں زخم جگر کے ٹانکے ٹوٹے ہنسی ہنسی میں یاران بزم عشرت ڈھونڈوں کہاں میں تم کو تاروں کی چھاؤں میں یا پچھلے کی چاندنی میں ہر عقدہ میں جہاں کے پوشیدہ ہے کشاکش ہے موج خندۂ گل ...

مزید پڑھیے

تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے

تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے وہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہے ہنگامہ اک پری کی سواری کا دیکھنا کیا دھوم ہے کہ سیکڑوں دیوانہ ساتھ ہے دل میں ہیں لاکھ طرح کے حیلے بھرے ہوئے پھر مشورہ کو آئینہ و شانہ ساتھ ہے روز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانیے جب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے اپنے دل کو فگار کر بیٹھے صبر کی اک قبا جو باقی تھی اس کو بھی تار تار کر بیٹھے آج پھر ان کی آمد آمد ہے ہم خزاں کو بہار کر بیٹھے وائے اس بت کا وعدۂ فردا عمر بھر انتظار کر بیٹھے خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراں کس غضب کا سنگھار کر بیٹھے ہم تہی دست تجھ کو ...

مزید پڑھیے

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف چلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرف بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف رہ وفا کو نہ چھوڑا وہ عندلیب ہوں میں چھٹا قفس سے تو پرواز کی چمن کی طرف گریز چاہئے طول امل سے سالک کو سنا ہے راہ یہ جاتی ہے راہزن کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2173 سے 6203