قومی زبان

اب رشتوں میں گہرائی

اب رشتوں میں گہرائی بہتے پانی پر کائی تم کمروں میں بند رہے دھوپ نہیں تھی ہرجائی جب ہونٹوں سے چھوتے تم لگتا میں ہوں شہنائی تم سے مل کر دیر تلک اچھی لگتی تنہائی بچوں سے گھر چہکے یوں جیوں کوئل سے امرائی تنہا کالی راتوں کی اف کیوں بڑھتی لمبائی بیتی بات ادھیڑو مت نیرجؔ سیکھو ...

مزید پڑھیے

ادھر یہ زباں کچھ بتاتی نہیں ہے

ادھر یہ زباں کچھ بتاتی نہیں ہے ادھر آنکھ کچھ بھی چھپاتی نہیں ہے پتہ ہے رہائی کی دشواریاں پر یہ قید قفس بھی تو بھاتی نہیں ہے کمی رہ گئی ہوگی کچھ تو کشش میں سدا لوٹ کر یوں ہی آتی نہیں ہے مجھے راس ویرانیاں آ گئی ہیں تری یاد بھی اب ستاتی نہیں ہے خفا ہے کرم فرما ہے کون جانے ہوا جب ...

مزید پڑھیے

زبان پر سبھی کی بات ہے فقط سوار کی

زبان پر سبھی کی بات ہے فقط سوار کی کبھی تو بات بھی ہو پالکی لئے کہار کی گلوں کو تتلیوں کو کس طرح کرے گا یاد وہ کہ جس کو فکر رات دن لگی ہو روزگار کی بگڑ کے جس نے پا لیا تمام لطف زندگی نہیں سنے گا پھر وہ بات کوئی بھی سدھار کی وہ خوش رہے یہ سوچ کر سدا میں ہارتا گیا کسی کے ساتھ جب لڑی ...

مزید پڑھیے

یاد ہر پل تجھ کو کرنے کا صلہ پانے لگا

یاد ہر پل تجھ کو کرنے کا صلہ پانے لگا مجھ کو آئینہ تیرا چہرہ ہی دکھلانے لگا دل کی بنجر سی زمیں پر جب تو برسا پیار سے ذرہ ذرہ کھل کے اس کا جھومنے گانے لگا جسم کے ہی راج پتھ پر ڈھونڈتا تھا میں جسے دل کی پگڈنڈی پے اب وہ سکھ نظر آنے لگا حسرتوں کی املیاں گرنے لگیں تب پیڑ سے حوصلہ کا جب ...

مزید پڑھیے

بات سچ مچ میں نرالی ہو گئی

بات سچ مچ میں نرالی ہو گئی اب نصیحت ایک گالی ہو گئی یہ اثر ہم پر ہوا اس دور کا بھاونا دل کی موالی ہو گئی ڈال دیں بھوکے کو جس میں روٹیاں وہ سمجھ پوجا کی تھالی ہو گئی طے کیا چلنا جدا جب بھیڑ سے ہر نظر دیکھا سوالی ہو گئی قید کا اتنا مزہ مت لیجئے رو پڑیں گے گر بحالی ہو گئی اک اماوس ...

مزید پڑھیے

مشکلوں میں مسکرانا سیکھئے

مشکلوں میں مسکرانا سیکھئے پھول بنجر میں اگانا سیکھئے جو چلے پرچم اٹھا کر دوستو ساتھ اس کا ہی نبھانا سیکھئے کھڑکیوں سے جھانکنا بے کار ہے بارشوں میں بھیگ جانا سیکھئے آندھیاں جب دے رہی ہوں دستکیں تب دیے کی لو بچانا سیکھئے تاک پر دھر کے اصولوں کو کبھی نام اپنا مت کمانا ...

مزید پڑھیے

اجڑا سا جزیرہ

زخم جیسے کہ زباں رکھتے ہیں رات بھر حال سناتے ہیں مجھے جاگتے رہتے ہیں سارے مرے کمرے کے چراغ درد میرا بانٹتے ہیں یک بہ یک دل میں اتر آتا ہے کوئی اجڑا سا جزیرہ اور پھر سسکیاں شور مچاتی ہیں ہواؤں کی طرح اور بڑھتی ہے تری یاد کی شدت مجھ میں غم کا ادراک مرے ہوش بھلا دیتا ہے کچھ بگولے مرے ...

مزید پڑھیے

گڑیا

کھلونا تو نہیں ہوں میں نا مٹی کا کوئی بت ہوں کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں ہوگی مجھے تکلیف کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو چیخیں بھی نہ نکلیں گی بنا سوچے بنا دیکھے مری شادی کسی گڈے سے کر دو گے مرے سر میں کسی بھی نام کا سندور بھر دو گے مجھے مجھ سے بنا پوچھے مجھی سے دور کر دو گے سنو یہ جان لو تم ...

مزید پڑھیے

لا علمی

مرے کمرے کی الماری بھری ہے جن کتابوں سے میں ان کو روز پڑھتی ہوں میں لفظوں میں چھپی ترغیب کے لہجے سمجھتی ہوں کھبی کچھ لائینوں کے درمیاں موجود مطلب کو ورق پہ لکھ کے اپنے پاس یوں محفوظ کرتی ہوں کہ جیسے ماہیت لفظوں کی ساری جان لی میں نے ذرا سا غور کرنے پر حقیقت یوں کھلی مجھ پر کہ جو ...

مزید پڑھیے

خودی کا راز

میری ہر فکر میں طوفان کی طغیانی ہے اور مرے شوق میں جذبوں کی فراوانی ہے یوں جنوں بہتا ہے دریا کی روانی جیسے اور مری سوچ میں پلتی ہے کہانی جیسے میں نے تو ہمت مردان خدا سیکھی ہے میں نے ٹوٹے ہوئے لہجوں کی دعا سیکھی ہے میں نے ہر رنگ کی خوشبو کی ادا سیکھی ہے میں نے ہر ظاہر و باطل کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2153 سے 6203