میں تردد سے کبھی خالی نہیں
میں تردد سے کبھی خالی نہیں عاشقی میں فارغ البالی نہیں کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی میں کسی سے بولنے والی نہیں لوٹتا ہے دل تڑپتا ہے جگر کوئی اپنے کام سے خالی نہیں نوحؔ کو طوفان غم سے خوف کیا اس کی کشتی ڈوبنے والی نہیں
میں تردد سے کبھی خالی نہیں عاشقی میں فارغ البالی نہیں کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی میں کسی سے بولنے والی نہیں لوٹتا ہے دل تڑپتا ہے جگر کوئی اپنے کام سے خالی نہیں نوحؔ کو طوفان غم سے خوف کیا اس کی کشتی ڈوبنے والی نہیں
بحر غم میں دل کا قرینہ لاکھوں موجیں ایک سفینہ ٹوٹا ہے دل شق ہے سینہ دیکھ کر اس ظالم کا قرینہ بھیگ گئی دنیائے محبت آیا تھا کچھ مجھ کو پسینہ شاخیں پھوٹیں کلیاں چٹکیں آ پہنچا پھاگن کا مہینہ حال بھی میرا آپ نہ پوچھیں اتنی رنجش اتنا کینہ مر جانا تکمیل وفا میں ہے معراج کا پہلا ...
ہم عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں مطلب جو ہمارا سن سن کر کہتے ہیں ہم اونچا سنتے ہیں ہم کچھ نہ کسی سے کہتے ہیں ہم کچھ نہ کسی کی سنتے ہیں بیٹھے ہوئے بزم دل کش میں بس دل کے ٹکڑے چنتے ہیں الفت کے فسانے پر دونوں سر اپنا اپنا دھنتے ہیں ہم سنتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم کہتے ہیں وہ ...
بطور یادگار زہد مے خانے میں رکھ دینا مری ٹوٹی ہوئی توبہ کو پیمانے میں رکھ دینا کہا تھا اے دل نافہم و ناداں تجھ سے یہ کس نے خدا خانے کی حرمت کو صنم خانے میں رکھ دینا پسند آئے نہ آئے منحصر ہے یہ طبیعت پر کسی کے سامنے دل ہم کو نذرانے میں رکھ دینا دوبارا پھر کسی دن میرے کام آئے گی اے ...
مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں خطاؤں پر سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کہاں سے میں کہاں آیا کہاں سے دل کہاں پہنچا محبت کی ہوائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں نہیں معلوم کیا روز جزا پیش آنے والا ہے قیامت میں سزائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں کوئی جیتا ہے ان سے اور مرتا ہے ...
حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں شوخیاں لے کر جوانی آ گئیں سر میں سودا دل میں درد آنکھوں میں اشک بستیاں ہم کو بسانی آ گئیں جو بگڑ جاتا تھا باتوں پر کبھی اب اسے باتیں بنانی آ گئیں دل میں لاکھوں داغ روشن ہو گئے عشق کو شمعیں جلانی آ گئیں برق و باراں کے جلو میں بدلیاں ساتھ لے کر آگ پانی ...
گل زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل تر سے دیکھے کوئی معشوق کو عاشق کی نظر سے لو اور سنو کہتے ہیں وہ ہم سے بگڑ کر دیکھو ہمیں دیکھو نہ محبت کی نظر سے وہ اٹھی وہ آئی وہ گھٹا چھا گئی ساقی مے خانے پہ اللہ کرے ٹوٹ کے برسے مے خانہ پہ گھنگھور گھٹا چھائی ہے بیکار کھلنا ہو تو کھل جائے برسنا ہو تو ...
گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا کلیوں سے کہانی کلیوں کی پھولوں سے فسانہ پھولوں کا کیا موسم گل پر اترا کر ہم گائیں ترانہ پھولوں کا دو روز میں آنے والا ہے اک روز زمانہ پھولوں کا ایام خزاں میں اہل چمن صرصر کو ستم سے کیا روکیں بیگانہ ہوا جب سبزہ بھی تو کون یگانہ ...
ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے بت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہے وقت پر کام نہ آیا دل ناشاد کبھی ٹوٹ کر یہ بھی اسی شوخ سے جا ملتا ہے وہ جو انکار بھی کرتے ہیں تو کس ناز کے ساتھ مجھ کو ملنے میں نہ ملنے کا مزا ملتا ہے یہ کدورت یہ عداوت یہ جفا خوب نہیں مجھ کو مٹی میں ملا کر ...
وہ کریں گے مرا قصور معاف ہو چکا کر چکے ضرور معاف حسن کو بے قصور کہتے ہیں ہے قصور آپ کا قصور معاف میں نے یہ جان کر خطائیں کیں ہر خطا ہوگی بالضرور معاف وہ ہنسی آ گئی ترے لب پر ہو گیا وہ مرا قصور معاف بے خودی میں جو ہو خطا ہم سے کم سے کم وہ تو ہو ضرور معاف خامشی ان کی مجھ سے کہتی ...