قومی زبان

وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے

وہ اس انداز کی مجھ سے محبت چاہتا ہے مرے ہر خواب پر اپنی حکومت چاہتا ہے مرے ہر لفظ میں جو بولتا ہے مجھ سے بڑھ کر مرے ہر لفظ کی مجھ سے وضاحت چاہتا ہے بہانہ چاہئے اس کو بھی اب ترک وفا کا میں خود اس سے کروں کوئی شکایت چاہتا ہے اسے معلوم ہے میرے پروں میں دم نہیں ہے مرا صیاد اب مجھ سے ...

مزید پڑھیے

وقت رخصت مجھے قدموں میں مچل جانے دو

وقت رخصت مجھے قدموں میں مچل جانے دو یہ تمنا تو مرے دل کی نکل جانے دو عہد و پیمان تمہارے نہ بدلنے پائیں ساری دنیا جو بدلتی ہے بدل جانے دو لب کشائی کی اجازت جو نہیں ہے نہ سہی میری پلکوں سے مرے اشک تو ڈھل جانے دو اپنے آنگن کی خنک چھاؤں مبارک ہو تمہیں مجھ کو صحرا کی کڑی دھوپ میں جل ...

مزید پڑھیے

پلک پلک سیل غم عیاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل

پلک پلک سیل غم عیاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل کسک یہ کیسی درون جاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل ہماری بستی میں ہر طرف انقلاب نو کا عمل تھا جاری نہ جانے یہ کون سا جہاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل لہو اچھلنے کا شور جیسے فضا میں گونجا کبھی نہیں تھا یہ حکم شہر ستمگراں ہے نہ کوئی آہٹ ...

مزید پڑھیے

شفق کا رنگ کا خوشبو کا خواب تھا میں بھی

شفق کا رنگ کا خوشبو کا خواب تھا میں بھی پرائے ہاتھ میں کوئی گلاب تھا میں بھی نہ جانے کتنے زمانے مرے وجود میں تھے خود اپنی ذات میں اک انقلاب تھا میں بھی کہانیاں تو بہت تھیں مگر لکھی نہ گئیں کسی کے ہاتھ میں سادہ کتاب تھا میں بھی نہ جانے کیوں نظر انداز کر دیا مجھ کو جہاں پہ تم تھے ...

مزید پڑھیے

چاند کی کشتی سجی ہے اور میں

چاند کی کشتی سجی ہے اور میں جھیل ہے اک جل پری ہے اور میں لو دیے کی سسکیاں لیتی ہوئی ٹمٹماتی روشنی ہے اور میں دھوپ قرنوں کی مسافت سے نڈھال تیز لمحوں کی ندی ہے اور میں گوش بر آواز ہیں دیوار و در بے وضاحت نغمگی ہے اور میں پھر اسی آواز کا موہوم عکس پھر وہی حرف خفی ہے اور میں علم کا ...

مزید پڑھیے

مرے غبار سفر کا مآل روشن ہے

مرے غبار سفر کا مآل روشن ہے شفق شفق ابھی نقش زوال روشن ہے صدائے گنبد تعبیر سن رہا ہوں میں فضائے خواب میں کرنوں کا جال روشن ہے وہ ایک فکریہ لمحہ اسی طرح ہے ابھی ترے جواب سے میرا سوال روشن ہے پرند کیوں نہ اڑائیں ہنسی اندھیروں کی مرے شجر کی ابھی ڈال ڈال روشن ہے سرور تیری رفاقت کا ...

مزید پڑھیے

نقش پا اس کے راستہ اس کا

نقش پا اس کے راستہ اس کا مڑ کے دیکھا تو کچھ نہ تھا اس کا مبتلا کر گیا عذابوں میں ایک کمزور فیصلہ اس کا اختیارات کم نہ تھے میرے میں نے چاہا نہیں برا اس کا کام تو اور ہی کسی کا تھا نام بد نام ہو گیا اس کا لوگ جس زہر سے ہلاک ہوئے کتنا میٹھا تھا ذائقہ اس کا جو مری ہار پر بہت خوش ...

مزید پڑھیے

لہو اچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا

لہو اچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا جہاں سفید گلابوں کا خواب تھا روشن وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں مری نگاہ کی حد سے وہ دور جا نکلا طلسم ٹوٹا جب اس کے حسین لہجے کا مری امید کے برعکس فیصلہ نکلا نہ جانے کب سے ...

مزید پڑھیے

زیست کی گھڑیاں کہیں روتے رہے ہنستے رہے

زیست کی گھڑیاں کہیں روتے رہے ہنستے رہے سادے کاغذ کے لکھے کو عمر بھر پڑھتے رہے زندگی تجھ سے عبارت ہے مری پہچان ہے ایک طوطے کی طرح بس یہ سبق رٹتے رہے ناامیدی کے اندھیروں میں کبھی ڈوبے نہ ہم چاند کی مانند ہم بڑھتے رہے گھٹتے رہے زندگی اپنی گزرتی کیوں نہ پھر آرام سے دوستوں سے ہم ...

مزید پڑھیے

رہ نوردی کا سبق کام اس کے آخر آ گیا

رہ نوردی کا سبق کام اس کے آخر آ گیا پھر پلٹ کے دشت میں ٹوٹا مسافر آ گیا میں ہی کچھ اپنے میں گم تھا ورنہ منظر تھا حسیں چاندنی میں ناچنے کو ایک طائر آ گیا اس سلگتی دھوپ میں اپنا خیاباں چھوڑ کر دیکھ لے وہ زخم کھانے تیری خاطر آ گیا سارے رشتے سانپ بن کر ڈس گئے نصرتؔ مجھے تھا فریب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2079 سے 6203