قومی زبان

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا کھلا کہ عشق نہیں ہے کچھ اور اس کے سوا رضائے یار جو ہو اپنا حال کر رکھنا اسی کا کام ہے فرش زمیں بچھا دینا اسی کا کام ستارے اچھال کر رکھنا اسی کا کام ہے اس دکھ بھرے زمانے میں محبتوں سے مجھے مالا مال کر رکھنا بس ...

مزید پڑھیے

ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ زندانی ہے

ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ زندانی ہے کوچۂ یار سے دار و رسن تک ایک سی ہی ویرانی ہے کتنے کوہ گراں کاٹے تب صبح طرب کی دید ہوئی اور یہ صبح طرب بھی یارو کہتے ہیں بیگانی ہے جتنے آگ کے دریا میں سب پار ہمیں کو کرنا ہیں دنیا کس کے ساتھ آئی ہے دنیا تو دیوانی ہے لمحہ لمحہ خواب دکھائے اور سو ...

مزید پڑھیے

کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے

کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے جب زمیں پر ہی پھینکنا تھا مجھے بن گیا میں کتاب قصوں کی اس نے اک لفظ میں کہا تھا مجھے اب نگینہ ہے کل یہی پتھر راستے میں پڑا ملا تھا مجھے اس کا آسیب مجھ پہ برسے گا حادثہ یہ بھی جھیلنا تھا مجھے میں نقیب صبا تھا پھولوں نے پتھروں کی طرح سنا تھا مجھے میں ...

مزید پڑھیے

جھیل کے پار دھنک رنگ سماں ہے کیسا

جھیل کے پار دھنک رنگ سماں ہے کیسا جھلملاتا ہوا وہ عکس وہاں ہے کیسا جلتے بجھتے ہوئے فانوس ہیں منظر منظر نقش در نقش وہ مٹ کر بھی عیاں ہے کیسا کتنے الفاظ و معانی کے ورق کھلتے ہیں میرے اندر یہ کتابوں کا جہاں ہے کیسا مجھ میں اب میری جگہ اور کوئی ہے شاید کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ گماں ...

مزید پڑھیے

تیرے پیار میں رسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگ

تیرے پیار میں رسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگ جانے کیا کیا پوچھ رہے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ ہر لمحہ احساس کی صہبا روح میں ڈھلتی جاتی ہے زیست کا نشہ کچھ کم ہو تو ہو آئیں مے خانے لوگ جیسے تمہیں ہم نے چاہا ہے کون بھلا یوں چاہے گا مانا اور بہت آئیں گے تم سے پیار جتانے لوگ یوں گلیوں ...

مزید پڑھیے

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے زہے وہ دل جو تمنائے تازہ تر میں رہے خوشا وہ عمر جو خوابوں ہی میں بہل ...

مزید پڑھیے

چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب

چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب میں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سب بنیاد بھی میری در و دیوار بھی میرے تعمیر ہوا میں کہ یہ تعمیر ہوئے سب ویسے ہی لکھو گے تو مرا نام بھی ہوگا جو لفظ لکھے وہ مری جاگیر ہوئے سب مرتے ہیں مگر موت سے پہلے نہیں مرتے یہ واقعہ ایسا ہے کہ دلگیر ہوئے ...

مزید پڑھیے

جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی کوئی عزیز نہیں ما سوائے ذات ہمیں اگر ہوا ہے تو یوں جیسے زندگانی ہوئی نہ ہوگی خشک کہ شاید وہ لوٹ آئے پھر یہ کشت گزرے ہوئے ابر کی نشانی ہوئی تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوں وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ...

مزید پڑھیے

کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے

کوچۂ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے تھے گدا تحفۂ نایاب اٹھا کر لے آئے کون سی کشتی میں بیٹھیں ترے بندے مولا اب جو دنیا کوئی سیلاب اٹھا کر لے آئے ہائے وہ لوگ گئے چاند سے ملنے اور پھر اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے ایسا ضدی تھا مرا عشق نہ بہلا پھر بھی لوگ سچ مچ کئی مہتاب اٹھا ...

مزید پڑھیے

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں (ردیف .. ا)

کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب تم باد صبا کہلاؤ تو کیا اک آئنہ تھا سو ٹوٹ گیا اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا تم آس بندھانے والے تھے اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا دنیا بھی وہی اور تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2078 سے 6203