قومی زبان

مجھے اے زندگی آواز مت دے

مجھے اے زندگی آواز مت دے نہیں منزل کوئی پرواز مت دے جئے جاتا ہوں عادت بن چکی ہے نہیں سر لگتے یا رب ساز مت دے نیا ہے روپ عالم کا خدایا انوکھا اب مجھے انداز مت دے نتیجہ جانتا ہوں دل لگی کا سزائیں فاختہ کو باز مت دے پس پردہ رہا ہے بھید اب تک نہیں حامل انہیں تو راز مت دے رہا انجام ...

مزید پڑھیے

درد کی آواز

اڑتی دیش میں گرد نہیں ہے تمہیں ذرا بھی درد نہیں ہے دیش ہے اپنا مانتے ہو نا دکھ جتنے ہیں جانتے ہو نا پیڑ ہے ایک پر ڈالیں بہت ہیں ڈالوں پر ٹہنیاں بہت ہیں پتے ہیں روزانہ اگتے پیلے لیکن گرتے رہتے تم ہو مالی نظر کہاں ہے چمن کی سوچو دھیان کہاں ہے کیا تم سے ہر فرد نہیں ہے تمہیں ذرا بھی ...

مزید پڑھیے

میٹرو شہر کی ایک عام لڑکی

کان پک جاتے ہیں دنیا کی شکایت سن کر کس نے جانا ہے تمہیں کس کا یقیں کر لوں میں وو جو کہتے ہیں کے تم عام سی لڑکی ہو جسے فکر اپنی ہے کسی اور سے مطلب ہی نہیں اپنی روزانہ کی روٹین میں میں جکڑی جکڑی وہ ہی میٹرو کی سواری وہ ہی آپا دھاپی تل نہ دھرنے کی جگہ پھر بھی پہنچنا ہے جسے اپنی ہر چیز ...

مزید پڑھیے

ایک گزارش

شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کو گزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کو بنے سرمایہ ہیں وہ زندگی کا پیار سے رکھنا خودارا یادیں مت لینا یہی یادیں ہیں لے جائیں گی ہم کو آخری دم تک نہ کوئی ہم سفر ہوگا نہ جائے گا کوئی گھر تک یہ گھر احساس کا ہوگا میرا احساس مت لینا خودارا ...

مزید پڑھیے

پری کے آنے کے امکان بنتے جاتے ہیں

پری کے آنے کے امکان بنتے جاتے ہیں یہ دشت سارے گلستان بنتے جاتے ہیں عجب ہوس ہے محلے میں تخت جیتنے کی یہ لوگ ہیں کہ سلیمان بنتے جاتے ہیں میں ان کو دیکھ کے چاہوں کے وہ گلے لگ جائیں وہ مجھ کو دیکھ کے انجان بنتے جاتے ہیں وہ جتنے سوچ کے مشکل سوال کرتا ہے جواب اتنے ہی آسان بنتے جاتے ...

مزید پڑھیے

کتنے اسرار واہمے میں ہیں

کتنے اسرار واہمے میں ہیں ہم کہ مصروف کھوجنے میں ہیں ہم سفر لا مکان کو پہنچا اور ہم پہلے مرحلے میں ہیں تو ابھی تک دکھا نہیں ہے ہمیں ہم ابھی تک مراقبے میں ہیں یہ جو کھڑکی کے پار منظر ہے مسئلہ اس کو دیکھنے میں ہیں اپنی اپنی ہی فکر ہے سب کو اپنے اپنے ہی دائرے میں ہیں واعظا انتظار ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی میں انہیں دل میں آن رکھتا ہوں

کبھی کبھی میں انہیں دل میں آن رکھتا ہوں پھر ایک خواب میں دونوں جہان رکھتا ہوں جب آسمان سبھی کے سروں پہ قائم ہے تو کس کے واسطے میں سائبان کرتا ہوں میں لفظ و معنی بدلتے ہوئے سر قرطاس پلٹ کے پھر وہی نوحہ بیان رکھتا ہوں ازل سے ایک ہی نقصان کھا رہا ہے مجھے ازل سے خود کو فقط رائیگان ...

مزید پڑھیے

عجب آہنگ تھا اس شور میں بھی خرچ ہوئی

عجب آہنگ تھا اس شور میں بھی خرچ ہوئی میری آواز سکوت عجبی خرچ ہوئی ایک ہی آن میں دیدار ہوا بات ہوئی خواہش وصل سر طور سبھی خرچ ہوئی زندگی تیرے تعاقب میں گزاری ہوئی شب بڑی مشکل سے ملی اور یوں ہی خرچ ہوئی صبح تک زلف سیہ رنگ کا جادو تھا عجب رات بوتل میں تھی جتنی بھی بچی خرچ ہوئی صبح ...

مزید پڑھیے

ایک نام ہی کے باعث ادب ہے کمال ہے

ایک نام ہی کے باعث ادب ہے کمال ہے دکھتا نہیں ہے پھر بھی وہ رب ہے کمال ہے ہوتے ہوئے بھی میرا یہاں کچھ نہیں عزیز وہ ہے نہیں پر اس کا یہ سب ہے کمال ہے میں خاک تھا سو خاک کو پھر خاک ہونا ہے یہ واقعہ بھی دکھ کا سبب ہے کمال ہے

مزید پڑھیے

یہ زمیں آسمان رہنے دے

یہ زمیں آسمان رہنے دے کوئی تو سائبان رہنے دے ہم غریبوں کی شان رہنے دے کچھ تو کچے مکان رہنے دے میرا حاکم بھی کچھ نہیں سنتا مجھ کو بھی بے زبان رہنے دے یہ بہت اوپری مسائل ہیں بن پروں کے اڑان رہنے دے

مزید پڑھیے
صفحہ 2064 سے 6203