میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں
میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں اے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوں اک حد بنا رہا ہوں شہر ہوس میں اپنی در کھولنے کی خاطر دیوار کر رہا ہوں معلوم ہے نہ ہوگی پوری یہ آرزو بھی پھر دل کو بے سبب کیوں بیمار کر رہا ہوں پھولوں بھری یہ شاخیں بانہوں سی لگ رہی ہیں اب کیا بتاؤں کس کا دیدار کر ...