قومی زبان

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں اے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوں اک حد بنا رہا ہوں شہر ہوس میں اپنی در کھولنے کی خاطر دیوار کر رہا ہوں معلوم ہے نہ ہوگی پوری یہ آرزو بھی پھر دل کو بے سبب کیوں بیمار کر رہا ہوں پھولوں بھری یہ شاخیں بانہوں سی لگ رہی ہیں اب کیا بتاؤں کس کا دیدار کر ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہے

خواب آنکھوں میں سوالی ہی رہے کاسۂ تعبیر خالی ہی رہے رقص کرتی خواہشوں کے زیر پا دل شکار پائمالی ہی رہے خاک ہو جاتے لہو کی آگ میں جسم کے کوزے سفالی ہی رہے زندگی ان سے سوا نکلی یہاں فلسفے سارے خیالی ہی رہے سبزۂ میداں پہ کب اتری خزاں شور اس کا ڈالی ڈالی ہی رہے چاند نکلا تو غضب ...

مزید پڑھیے

اس کا ابا ہی پہلوان تھا اچھا خاصا

اس کا ابا ہی پہلوان تھا اچھا خاصا ورنہ شادی کا تو امکان تھا اچھا خاصا اس کی اماں سے پریشان نہ تھا میں ہی فقط میرا ابا بھی پریشان تھا اچھا خاصا شیخ صاحب نے مسائل میں جکڑ رکھا ہے ورنہ اسلام تو آسان تھا اچھا خاصا حسن کو اس کے نظر لگتی تو کیسے لگتی اس کے اک گال پہ مکران تھا اچھا ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے بس اک لمحہ آتا ہے ٹل جاتا ہے تجھ سے مجھ کو بیر سہی پر کبھی کبھی دنیا تیرا جادو بھی چل جاتا ہے جان لیا ہے لیکن ماننا باقی ہے تو سایہ ہے اور سایہ ڈھل جاتا ہے اک دن میں اشکوں میں یوں گھل جاؤں گا جیسے کاغذ بارش میں گل جاتا ہے کس کے قبضے میں ہے خزانہ ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا یہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیا تذبذب کا عالم رہا دیر تک بالآخر میں اس سے جدا ہو گیا اسے کیا مجھے بھی نہیں تھی خبر کہ میں قید سے کب رہا ہو گیا زمیں پیاس سے اتنی بے حال تھی سمندر نے دیکھا گھٹا ہو گیا یہ دنیا ادھوری سی لگنے لگی اچانک مجھے جانے کیا ہو ...

مزید پڑھیے

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے ململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہے کوئی پتہ دے اس کو میری کتاب جاں کا دنیا کے ساتھ وہ بھی اک باب ہو گئی ہے پھولوں بھری زمیں ہو خوشبو بھری ہوں سانسیں یہ آرزو بھی میری کیا خواب ہو گئی ہے میں بس یہ کہہ رہا ہوں رسم وفا جہاں میں بالکل نہیں مٹی ہے کم ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گا

آنکھوں میں اک خواب ہے اس کو یہیں سجاؤں گا تھوڑی زمیں ملی تو اک دن باغ لگاؤں گا شہر جو تم یہ دیکھ رہے ہو اس میں کئی ہیں شہر میرے ساتھ ذرا نکلو تو سیر کراؤں گا میرے لیے یہ دیوار و در جیسے ہیں اچھے ہیں اس گھر کی آرائش کر کے کسے دکھاؤں گا ساری دنیا دیکھ رہی ہے خوشیوں کے انبار اتنی ...

مزید پڑھیے

کیا پھر زمین دل کی نمناک ہو رہی ہے

کیا پھر زمین دل کی نمناک ہو رہی ہے اک بیل آرزو کی پیچاک ہو رہی ہے یلغار کر رہا ہے اک روشنی کا لشکر تاریکیوں کی چادر پھر چاک ہو رہی ہے اس کو سکھا رہا ہے عیاریاں زمانہ دنیا بھی رفتہ رفتہ چالاک ہو رہی ہے اس نے بنا دیا ہے ماتم کدہ جہاں کو خلقت فسردگی کی خوراک ہو رہی ہے اس کے سبب سے ...

مزید پڑھیے

یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہے

یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہے اے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہے جگنو کی طرح پھرتے ہیں تارے مرے دل میں کس سوچ میں گم ہوں یہ مرے دھیان میں کیا ہے کیا ان پہ گزرتی ہے سنو ان کی زبانی زخموں سے کبھی پوچھو نمک دان میں کیا ہے انکار سے اقرار کا رشتہ ہے بھلا کیا یہ کفر کی صورت مرے ...

مزید پڑھیے

کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیا

کب تک اس کا ہجر مناتا صحرا چھوڑ دیا جینے کی امید میں میں نے کیا کیا چھوڑ دیا میرے ساتھ لگا رہتا ہے یادوں کا بادل دھوپ بھرے رستوں پر اس نے سایہ چھوڑ دیا ہر چہرے پر اک چہرے کا دھوکہ ہوتا ہے کس نے مجھ کو اس بستی میں تنہا چھوڑ دیا دنیا سب کچھ جان گئی ہے میرے بارے میں بنت الم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2060 سے 6203