قومی زبان

انتظار

قابل دید ہے مشاطگئ فصل بہار زلف سنبل میں نیا حسن نظر آتا ہے سرخئ چہرۂ گل سے ہے شفق زار چمن رنگ شبنم کا بھی کچھ سرخ ہوا جاتا ہے دیکھ کر سرخئ رخسار گلستاں گلچیں اپنے دستور میں ترمیم کیے جاتا ہے متنبہ بھی کیے جاتا ہے ہر پتے کو نام بھی فصل بہاراں کا لیے جاتا ہے زیر ترتیب ہے آئین چمن ...

مزید پڑھیے

چھپ کر نہ رہ سکے نگہ اہل فن سے ہم

چھپ کر نہ رہ سکے نگہ اہل فن سے ہم محفل میں جھانکتے ہیں نقاب سخن سے ہم کم بخت ڈھونڈھتی ہے محبت میں فلسفہ تنگ آ گئے ہیں عقل کے دیوانہ پن سے ہم تلخیٔ زندگی میں بھی پانے لگے مٹھاس عاجز ہیں اپنی فطرت کام و دہن سے ہم پیدا کیا ہوا ہے ہمارا ہی سب فروغ بیگانہ کچھ نہیں ہیں تری انجمن سے ...

مزید پڑھیے

اے بے دلو حریف شب تار کیوں ہوئے

اے بے دلو حریف شب تار کیوں ہوئے کچی اگر تھی نیند تو بیدار کیوں ہوئے صحرا کو آج کوستی پھرتی ہیں آندھیاں دیوانے گلستاں کے طرف دار کیوں ہوئے سست اعتباریوں کو نہیں تاب انتظار وعدے سحر کے صرف شب تار کیوں ہوئے شرما گیا چمن میں تبسم بہار کا ہم گل فروش زخم دل زار کیوں ہوئے کیا گلستاں ...

مزید پڑھیے

زندگی نے فصل گل کو بھی پشیماں کر دیا

زندگی نے فصل گل کو بھی پشیماں کر دیا جس بیاباں پر نظر ڈالی گلستاں کر دیا تو نے یہ کیا اے سکوت شکوہ ساماں کر دیا دل کی دل ہی میں رہی ان کو پشیماں کر دیا شکریہ اے موسم گل پاس وحشت ہے یہی گلستاں کو تو نے ہم دیوار زنداں کر دیا کتنے افسانے بنا کر رکھ لئے تھے شوق نے یوں نقاب الٹی حقیقت ...

مزید پڑھیے

بت گریٔ جمال میں گزرا

بت گریٔ جمال میں گزرا عہد کفر ایک حال میں گزرا وقت گزرا جو بے خیالی میں وہ ترے ہی خیال میں گزرا کچھ کٹا وقت رنج دوری میں کچھ خیال وصال میں گزرا ہائے وہ زخم جن کا موسم گل دہشت اندمال میں گزرا پھر دھڑکنے لگا ہے دل اپنا کیا کہوں کیا خیال میں گزرا نگہ دوست کا بھی موسم لطف دل ہی کی ...

مزید پڑھیے

سنا ہے ان کے لب پر کل تھا ذکر مختصر میرا

سنا ہے ان کے لب پر کل تھا ذکر مختصر میرا تصور دے رہا ہے طول اسی کو کس قدر میرا یہ دل سوزیٔ درد آدمیت کیا قیامت ہے کسی کی آنکھ سے آنسو بہیں دامن ہو تر میرا تصور میکدے کا مشترک ہو کس طرح ناصح؟ خرد ساغر شکن تیری جنوں پیمانہ گر میرا یہی عالم رہا گر شوق کی آئینہ بندی کا! تو گم ہو جائے ...

مزید پڑھیے

نپٹیں گے دل سے معرکۂ رہ گزر کے بعد

نپٹیں گے دل سے معرکۂ رہ گزر کے بعد لیں گے سفر کا جائزہ ختم سفر کے بعد اٹھنے کو ان کی بزم میں سب کی نظر اٹھی اتنا مگر کہوں گا کہ میری نظر کے بعد سب زور ہو رہا ہے مری سرکشی پہ صرف کیا ہوگا حال دار و رسن میرے سر کے بعد کوئے ستم سے گزریں تو شوریدگان عشق ہنسنے لگیں گے زخم جگر زخم سر کے ...

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکنوں سے اک داستاں بنانا ہے

دل کی دھڑکنوں سے اک داستاں بنانا ہے آپ کی نگاہوں کو ہم زباں بنانا ہے ماہ و خور اگانے ہیں کہکشاں بنانا ہے اے زمیں تجھی کو اب آسماں بنانا ہے گل فروش تھا مالی ہو گیا چمن خالی آج پتے پتے کو باغباں بنانا ہے اپنے سرخ ہونٹوں کی مسکراہٹیں دے دو بجلیوں کی یورش میں آشیاں بنانا ہے باندھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2018 سے 6203