قومی زبان

خوں بہا کا خط لا دعوی دیا

خوں بہا کا خط لا دعوی دیا جی لیا تھا اسے ناحق جی دیا سوزن مژگاں نے تار اشک سے بن ترے آنکھوں کو میرے سی دیا عشق بن دل دل نہ تھا تو جان یوں تیل بن بتی بنا ہتی دیا اوس مسیحا نے مرے مرقد پہ آ کیا جلایا جب دیے کو جی دیا داد پر جب چڑھ چکا دل او نسیم اب کی بازی گر بچی اب کی دیا

مزید پڑھیے

چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی

چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی تیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنی آج مہتابی پہ چڑھتا ہے وہ بہر سیر ماہ جانتا ہوں کچھ ترا چمکا ستارا چاندنی بے ضرورت خوش نہیں آتی جہاں میں کوئی چیز فصل سرما میں نہیں ہوتی گوارا چاندنی تو چڑھا شب کو جو مہتابی پہ بہر چشم بد آسماں سے اترے ...

مزید پڑھیے

بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر

بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر آ جائے نہ آفت کہیں دو چار کے اوپر قطرات عرق ہیں نہیں یہ سلک گہر ہیں کیا عکس فگن اس رخ گلنار کے اوپر خوں ریزی پہ باندھے گا کمر جب کہ وہ سفاک گلزار بنا دے گا تن زار کے اوپر بوسہ جو طلب میں نے کیا بولے یہ اغیار تلوار چلے گی اسی تکرار کے اوپر وعدہ ...

مزید پڑھیے

نام پر حرف نہ آنے دیجے

نام پر حرف نہ آنے دیجے جان اگر جائے تو جانے دیجے یاس کی آس نہ ٹوٹے جس میں آس کو پاس نہ آنے دیجے پارۂ دل نہ تھما مردم چشم بیٹھیے مجھ کو اوٹھانے دیجے غصہ کیا اب تو گیا یاں سے نسیمؔ آئیے بیٹھیے جانے دیجے

مزید پڑھیے

دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے

دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے بندہ خانی میں خداوند جہاں رہتا ہے عشق کے آتے ہی سب جاتے رہے ہوش و حواس جانور رہتے نہیں شیر جہاں رہتا ہے ایک اقلیم میں دو شاہ نہیں رہ سکتے عشق جب آیا لو آرام کہاں رہتا ہے ڈھونڈیئے دل کو تو کہتے ہیں وہ یہ سینہ سپر اک مرے خانۂ زنجیر میں یہاں رہتا ...

مزید پڑھیے

کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے

کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے آدمی سے قصور ہوتا ہے مئے الفت سے پھر گیا جو دل صورت شیشہ چور ہوتا ہے خاک عاشق سے جو درخت اگا طور ہوتا ہے نور ہوتا ہے جس کو دیکھا وہ اس زمانے میں اپنے نزدیک دور ہوتا ہے خاکساری وہ ہے کہ ذروں پر روز باران نور ہوتا ہے کس کی لیتا نہیں خبر رزاق آلودگی ...

مزید پڑھیے

چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا

چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا برنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہوا کہانی کہہ کے سلاتے تھے یار کو سو اب فسانہ عمر ہوئی خواب وہ خیال ہوا جنوں کی چاک زنی نے اثر کیا واں بھی جو خط میں حال لکھا تھا وہ خط کا حال ہوا نسیمؔ دزدیٔ مضموں نہ چھوڑیں گے شعرا اگرچہ شہر کا تبدیل کوتوال ہوا

مزید پڑھیے

اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا

اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا جب تک موئے بلوں سے نکلنا محال تھا دیتے نہ چاٹ اگر لب شیریں کے ذکر کی مچلے تھا طفل اشک بہلنا محال تھا پیری میں طرز عشق جوانی وہی رہا صورت کے ساتھ دل کا بدلنا محال تھا قاتل تری گلی میں ہوئے سب کے سر قلم کیسے تھے کوچے راستہ چلنا محال تھا شکر خدا ...

مزید پڑھیے

چمن میں گل نے کہیں دعوئے جمال کیا

چمن میں گل نے کہیں دعوئے جمال کیا جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا بہار رفتہ پھری اب ترے تماشے کو چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا رہی تھی دم کی کشاکش گلے پہ کچھ باقی وہ تیغ یار نے جھگڑا ہے انفصال کیا

مزید پڑھیے

اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا

اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا دیدۂ گریاں سے پردہ کھل گیا دل سے امڈے اشک خوں آنکھوں کی راہ جوش مے سے خم کا ڈھکنا کھل گیا کوچۂ جاناں کی ملتی تھی نہ راہ بند کیں آنکھیں تو رستہ کھل گیا ہر گرہ میں اس کے تھے عاشق کے دل زلف کے کھلتے ہی عقدہ کھل گیا نرگس جادو ہے اب عالم فریب زلف کا لوگوں پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2007 سے 6203