قومی زبان

دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے

دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے بند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہے دل سے ہے آنکھ تک آئی اثر گرمیٔ شوق اشک حسرت سے نگہ آبلہ پا آتی ہے گل ہوا کوئی چراغ سحری او بلبل ہاتھ ملتی ہوئی پتوں سے صبا آتی ہے تیری آنکھوں کا ہوں بیمار میں او عیسیٰ دم نہ دعا آتی ہے مجھ کو نہ دوا آتی ہے آئنہ ...

مزید پڑھیے

ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی

ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی دل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسی کافر نہ گھمنڈ رکھ خود آرائی کا سب کچھ ہوں جو بت تو پھر خدائی کیسی نیت میں تو ہے کہ پاؤں صہبائے طہور اے شیخ یہ تیری پارسائی کیسی کہتا تھا وہ بد زبان ہے مت چھیڑ نسیمؔ چپتی تو نہ ہوگی کیوں سنائی کیسی

مزید پڑھیے

دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرم (ردیف .. ف)

دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرم حق جو پوچھو ایک در ہے دو طرف خواہ کعبہ خواہ بت خانہ کو جا دشت دل کا رہ گزر ہے دو طرف کفر و ایماں دونوں جانب کی سنے اس لئے گوش بشر ہے دو طرف رخنہ اندازوں کی کب چھپتی ہے آنکھ چشم روزن کی نظر ہے دو طرف باغ ہو یا دشت ہو قسمت نسیمؔ کوچ کی اپنے خبر ہے دو طرف

مزید پڑھیے

تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا

تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا تمہارے ہمارے ہمارا تمہارا لیا دل تو لو جان بھی کیوں رہے جی تمنا ہماری تقاضا تمہارا یہ تصویر چہرہ اتر کیوں گیا ہے کھنچے کس سے ہو کیا ہے نقشہ تمہارا نہ تیر آہ کا دست قدرت میں اپنے نہ شمشیر ابرو پہ قبضہ تمہارا چلے ہم تو حسرت ہی لے کر رقیبو مبارک رہے تم ...

مزید پڑھیے

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا آشنا سے ہو کے بیگانہ چلا قلقل مینا سے آتی ہے صدا بھر چکا جس وقت پیمانہ چلا بے زبانوں کو بھی آئی ہے زباں بیڑی غل کرتی ہے دیوانہ چلا عشق بازی باز لے شطرنج ہے چال ناداں رہ گیا دانا چلا رشک آتا ہے کہ زلف یار میں ہت کندھے پر میرے کیوں شانہ چلا شب جو آیا ...

مزید پڑھیے

پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے

پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے زلف کرتی ہے بل سمجھ لیں گے ہم سپاہی ہیں او کمان ابرو تیغ پکڑے اجل سمجھ لیں گے نیت شب حرام اے ساقی آج تو سوئیں کل سمجھ لیں گے آج بے مثل ہو سخن میں نسیمؔ چار دن میں مثل سمجھ لیں گے

مزید پڑھیے

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے جو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھے دلوں میں ٹالتے ہو دم نکل ہی جاوے گا میں ناتواں ہوں بہت آزمائیے نہ مجھے بہت دنوں سے مسیحائی کا ہو دم بھرتے مرا ہوا ہوں تمہیں پر جلائیے نہ مجھے خط آپ بھیجیں گے مجھ کو پتنگ پر لکھ کر یہ ڈورے جاتے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا

نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا تو چشم بد کو میں آنکھوں کا تل جلا لیتا جو اس کے خاک کف پا بھی ملتے ہم چشمو تو راہ پر اسے میں سرمہ سا لگا لیتا جو ان لبوں سے نہ ہوتا مشابہ آب حیات خضر نہ چھوڑ سکندر کو راستہ لیتا ہوئے نہ تھے جو ابھی صاف پیچ زلفوں کی بلا سے پنجۂ مژگاں ہی وہ لڑا ...

مزید پڑھیے

عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا

عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا جان کا دشمن ہے دل کا آشنا بحر الفت سے کنارہ خوب ہے کھا گیا غوطہ تو ڈوبا آشنا روز بد سے ڈر کہ ہو جاتے ہیں پھر دوست دشمن آشنا ناآشنا دہر میں کم یاب کیا نایاب ہیں کیمیا درویش سچا آشنا شاغلان عشق کا یہ درد ہے یا محب یا مہربان یا آشنا پاک الفت ہو تو پھر کیا ...

مزید پڑھیے

صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر

صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر ساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پر زر ہو تو ہاتھ آئیں حسینان سیم تن صیاد کا شکار ہے موقوف دام پر قاصد کو یار کے ہوں پیمبر میں کہہ رہا زاہد سنائیں گے صلوٰۃ اس کلام پر

مزید پڑھیے
صفحہ 2006 سے 6203