جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگے
جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگے راستے میری طرف لے کر سفر آنے لگے دور تک اڑتی ابابیلوں کی ڈاریں دیکھ کر اونگھتے پنچھی کے بھی جنبش میں پر آنے لگے کائنات شب میں چشم جستجو بھٹکی پھری روشنی کے منطقے آخر نظر آنے لگے کتنی دردانگیز تھی سونی منڈیوں کی پکار اڑ گئے تھے جو پرندے ...