قومی زبان

کسی کا نقش اندھیرے میں جب ابھر آیا

کسی کا نقش اندھیرے میں جب ابھر آیا اداس چہرہ شب درد کا نکھر آیا کھلے کواڑوں کے پیچھے چھپا تھا سناٹا سفر سے ہارا مسافر جب اپنے گھر آیا جواز ڈھونڈے وہ اپنے شکستہ خوابوں کا میں اس کی آنکھوں سے ایسے سوال کر آیا وہ عکس عکس خیالوں کا آئنہ نکلا مجھے وہ شخص اجالے میں جب نظر ...

مزید پڑھیے

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے

شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہے پاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہے جاڑے کی اس دھوپ نے دیکھو کیسا جادو پھیر دیا بے حد سبز درختوں کا بھی رنگ سنہرا لگتا ہے بھیڑیں اجلی جھاگ کے جیسی سبزہ ایک سمندر سا دور کھڑا وہ پربت نیلا خواب میں کھویا لگتا ہے جس نے سب کی میل ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا شور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہوا کوئی آہٹ کوئی دستک کچھ نہیں کچھ بھی نہیں بھولی بسری اک کہانی ہو گئے اچھا ہوا ایک مدت سے ہمارے آئینے پہ گرد تھی آنسوؤں کے سیل اس کو دھو گئے اچھا ہوا بیکلی کوئی نہ تھی تو دل بڑا بے زار تھا اب حوادث درد اس میں ...

مزید پڑھیے

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا دل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھا مری نوا سے تری نیند بھی سلگ اٹھتی ذرا سا اس میں شراروں کا رنگ بھرنا تھا سلگتی ریت پہ یادوں کے نقش کیوں چھوڑے تجھے بھی گہرے سمندر میں جب اترنا تھا ملا نہ مجھ کو کسی سے خراج اشکوں میں ہوا کے ہاتھوں مجھے اور کچھ ...

مزید پڑھیے

دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے

دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے کچھ جگر ہو تو دم انسان بھرے خواہشوں کو میں کروں کیا اے صبر گھر میں مفلس کے ہیں ارمان بھرے ہم تو مژگاں کی نمط ہم چشموں خالی ہاتھ آئے ہیں ارمان بھرے اشک دانا ہے تو نظروں سے نہ گر دامن اس دھبے سے نادان بھرے ضبط روکے نہ تو دکھلاؤں آنکھ پل میں پانی ابھی ...

مزید پڑھیے

یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے

یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے غیر اپنا کون اپنا غیر ہے غیر کا احوال سنتے ہیں وہ خوب اس لئے احوال میرا غیر ہے ہے تری تیغ نگہ میں کیا اثر وار ہو ہم پر تو کٹتا غیر ہے غیر سمجھا ہے یہاں تک ہم کو یار بوسہ مانگیں ہم تو پاتا غیر ہے اگلے یاروں میں تمہارے تھا نسیمؔ آج سمجھے ہم کہ اگلا غیر ...

مزید پڑھیے

زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر

زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر کیجے نگاہ حال سلیمان و مور پر روک اپنے نفس بد کو کہ حاصل ہے اختیار بیمار پر حکیم کو حاکم کو چور پر ہو آبرو بڑھانی تو یہ کہہ اب بحر کو ملتا ملائمت سے ہے کس زور و شور پر اک عمر سے وظیفہ ہے صاحب کے نام کا ناخن کے خط ہیں انگلیوں کے پور پور پر نرگس ...

مزید پڑھیے

جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی

جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی حلقۂ غم میں طبیعت گھر گئی فوج مژگاں میں میرے خوں کے لیے چشم کی گردش سے کوڑی پھر گئی محتسب کی آنکھ پر جب سے چڑھی دخت رز شیشہ کے دل سے گر گئی نا توانوں کے لئے طوفان کیا قطرۂ شبنم میں جوہی تر گئی ساقیا کوئی بلا تھا محتسب خیریت گزری جو خم کے سر ...

مزید پڑھیے

دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے

دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے بند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہے دل سے ہے آنکھ تک آئی اثر گرمیٔ شوق اشک حسرت سے نگہ آبلہ پا آتی ہے گل ہوا کوئی چراغ سحری او بلبل ہاتھ ملتی ہوئی پتوں سے صدا آتی ہے آئینہ صاف سکندر کو دکھایا تو نے خوب اے خضر تجھے راہ بتا آتی ہے چھو لیا دھوکے سے ...

مزید پڑھیے

بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں

بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں کسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیں تیرگی اوڑھ کے آئی ہے گھٹا کی چادر اور فانوس کوئی آہ کا جلتا بھی نہیں کل مرے سائے میں سستائی تھی صدیوں کی تھکن آج وہ پیڑ ہوں جس پر کوئی پتا بھی نہیں دھوپ کے دشت کا درپیش سفر ہے مجھ کو ساتھ دینے کو مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2004 سے 6203