گمشدہ روایتیں
صاف و شفاف جھیلوں کی وہ مچھلیاں وہ تڑپتی ہوئی مچھلیاں خوبصورت تھیں اور ایک دن وہ انہیں مار کر کھا گئے صاف و شفاف جھیلوں میں اب خون کی دھار ہے
صاف و شفاف جھیلوں کی وہ مچھلیاں وہ تڑپتی ہوئی مچھلیاں خوبصورت تھیں اور ایک دن وہ انہیں مار کر کھا گئے صاف و شفاف جھیلوں میں اب خون کی دھار ہے
ہم وہاں پہ بیٹھے تھے بعد میں ہوا معلوم میں وہاں اکیلا تھا بھوت میں نے دیکھے تھے خوف سے میں لرزا تھا اور آج تک تب سے دل مرا دھڑکتا ہے جب بھی کوئی دیتا ہے دل کے پردے پر دستک مجھ کو ایسا لگتا ہے یہ ہوا کا جھونکا تھا ہم تو جانے والے تھے ایک ساتھ ہی لیکن جب وہاں پہ پہنچے ہم میں وہاں اکیلا ...
سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتا ندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتا وہ جب بھی روتا ہے میں ساتھ ساتھ روتا ہوں مزے کی بات ہے اس کو پتا نہیں ہوتا مسافروں کے لیے منزلیں ہی ہوتی ہیں مسافروں کے لیے راستہ نہیں ہوتا تماشا گاہ میں کس کا تماشا ہوتا ہے تماش بینوں کو اس کا پتا نہیں ہوتا میں ...
وہ سالمیت تھی ایک وحدت وہ کاملیت کسی طرح ایک غیر مضبوط ثانیے میں بکھر گئی تو الگ ہوا اس کا ایک حصہ! وہ ایک عنصر کا ایک حصہ جھٹک کے دامن خلا کے گہرے عمیق لا وقت فاصلوں کو عبور کرتا ہزاروں صدیوں کی دوریوں پر چلا گیا ہے....! کوئی نہیں جانتا کے کیسے وہ نامکمل شکستہ عنصر ادھورے پن کی ...
دوریوں کی دھند میں گم ہو چکا ہے کارواں اب اٹھ رہا ہے دور تک کالا دھواں جو مڑ کے اس کو تک رہا ہے گھپ اندھیرے غار کی تہ میں اکیلی ناتواں اک زندگی پنجوں کے بل پتھر کی اونچی سیڑھیوں پر ہانپتی کوشش کی بیساکھی کو تھامے رینگتی ہے! پانیوں کی آگ میں جھلسی ہوئی نظریں ٹکی ہیں دور اونچائی پہ ...
جب بھی دل بھر آیا آنکھیں چھلکیں تنہائی کے اک گوشے میں اس کے کاندھے پہ سر رکھ کر اس سے دل کی باتیں کہہ کر جی کچھ تو ہلکا ہوتا تھا اس کی دل جوئی کی انگلی میری پلکوں سے رخشاں گوہر چن چن کر اپنی پلکوں کے دھاگے میں پرو کے رکھ لیتی تھی اک دن شام کے گہرے سائے شجر کے زردی مائل آنسو قطرہ قطرہ ...
مہرباں نازک رداؤں کی تہوں میں نرم باہوں کی پناہوں میں ہے رقصاں یہ زمیں وہ اک سپر بن کر جھلسنے سے بچا لیتی ہیں اس کو نغمہ گر صیقل فضائیں سبز ریشم کی قبا پہنے زمیں ہاتھوں میں تھامے نسترن نرگس سمن نازک تہوں میں زندگی ہے کس قدر محفوظ لیکن....... لحظہ لحظہ ہر پرت معدوم ہوتی جا رہی ...
خواب تعبیر کے اسیر نہ تھے رہ گزر تھے یہ راہگیر نہ تھے رہنما تھے کبھی وہ سچ ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ میرے پیر نہ تھے ہم نے زنداں کی باغبانی کی موسم گل کے ہم اسیر نہ تھے پتھر آئے تھے آئینے بن کے ورنہ ہم اتنے بے ضمیر نہ تھے اپنا انداز زیست ہے پیغامؔ یہ تماشے تھے ناگزیر نہ تھے
اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی رات پہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی رات اک پردے کو اٹھ جانا تھا اک چہرے کو آنا تھا کتنی حسیں تھی کتنی دل کش شرمائی شرمائی رات ہر شاخ گل میں تھی یہ نرمی غنچے تک گر جاتے تھے آج ہر اک ٹہنی پتھر ہے کیسی آندھی لائی رات ایک کرشمہ ...
میں نے آج رات کے آخری پہر خواب دیکھا ہے کہ میری کھوپڑی کے اندر بہت سارے چمگادڑ پھڑپھڑا رہے ہیں