قومی زبان

نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورت

نکالی جائے کس ترکیب سے تقریر کی صورت وہ آئینہ کی صورت اور میں تصویر کی صورت گرفتار محبت کر لیا باتوں ہی باتوں میں تسلسل سے نمایاں ہو گئی زنجیر کی صورت زیادہ آئینہ سے ہے منور مصحف عارض اور اس پر خال مشکیں آیۂ تطہیر کی صورت ترے تیور بدلتے ہی زمانہ ہو گیا دشمن ہلال عید بھی ظاہر ...

مزید پڑھیے

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح بلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح بیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کو پھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح بد قسمتوں کو گر ہو میسر شب وصال سورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہو نور صبح پو پھٹتے ہی ریاض جہاں خلد بن گیا غلمان مہر ساتھ لئے آئی حور صبح مرغ سحر ...

مزید پڑھیے

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ

پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخ ہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ یاں بادۂ احمر کے چھلکتے ہیں جو ساغر اے پیر مغاں دیکھ کہ ہے ساری دکاں سرخ پی بادۂ احمر تو یہ کہنے لگا گل رو میں سرخ ہوں تم سرخ زمیں سرخ زماں سرخ کیا پان کی سرخی نے کیا قتل کسی کو شدت سے ہے کیوں آج تری تیغ زباں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد ساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل برسے گر پانی کی جا آب بقا میرے بعد چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم ماتمی رنگ میں ہے زلف رسا میرے بعد روئیں گے مجھ کو مرے دوست سب آٹھ آٹھ آنسو برسے گی قبر پہ گھنگھور ...

مزید پڑھیے

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں

وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں روز اقرار بھول جاتے ہیں وہ جو بے وجہ مسکراتے ہیں سیکڑوں وہم دل میں آتے ہیں اشک حسرت نکل کے دامن میں جان سے ہاتھ دھوئے آتے ہیں جب تم آتے نہیں ہو وعدہ پر ملک الموت کو بلاتے ہیں سو گیا بخت جب سے رو رو کر سارے ہم سایوں کو جگاتے ہیں ان کو شرم و حیا نہیں ...

مزید پڑھیے

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں

نیک و بد کی جسے خبر ہی نہیں شر ہے کم بخت وہ بشر ہی نہیں وہ ہیں کس حال میں خبر ہی نہیں سر بھی نیچا ہے اک نظر ہی نہیں ہاتھ خالی ہے مال و زر ہی نہیں کیا اڑیں جبکہ بال و پر ہی نہیں مے کی بابت خیال کر واعظ اس میں نفعے بھی ہیں ضرر ہی نہیں شرم سے تیرے روئے روشن کے شمس بھی زرد ہے قمر ہی ...

مزید پڑھیے

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا میری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار اگلے برس اسے خط گل زار دیکھنا جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی منظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا میں نے کہا کہ ہجر میں کچھ مشغلہ نہیں بولے کہ رات دن در و دیوار دیکھنا کہتا ...

مزید پڑھیے

جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض

جو دل مرا نہیں مجھے اس دل سے کیا غرض چلنی نہ ہو جو راہ تو منزل سے کیا غرض ڈوبوں گا گر ہے میرے مقدر میں ڈوبنا غواص بحر عشق کو ساحل سے کیا غرض وہ دل کو دیکھتا ہے نہ اعمال ظاہری لیلیٰ کے خواست گار کو محمل سے کیا غرض سنتا ہے کون عاشقوں کی آہ و زاریاں گوش چمن کو شور عنادل سے کیا ...

مزید پڑھیے

پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنا

پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنا اپنی الفت دیکھنا میری محبت دیکھنا دو ہی دن میں کیا سے کیا تم ہو گئے آئنے میں اپنی صورت دیکھنا ڈھونڈھنے پر بھی نشاں ملتا نہیں مر مٹوں کی شان غربت دیکھنا آہ سے در پردہ اس کو لاگ ہے آئنے کی یہ کدورت دیکھنا داد مہجوری کی پھر ہے جستجو دے نہ دھوکا اپنی ...

مزید پڑھیے

جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں

جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں کچھ غرض اس سے نہیں کوئی جفا کرتے ہیں خوگر درد ہیں سب کچھ وہ سہا کرتے ہیں دشمنوں سے نہیں مطلب کہ وہ کیا کرتے ہیں ہم جگر تھام کے جب آہ رسا کرتے ہیں اک قیامت میں قیامت ہی بپا کرتے ہیں چارہ گر کا ہو بھلا کون رہین منت ہم تو خود اپنی ہی زخموں کو سیا کرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1990 سے 6203