قومی زبان

نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا

نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا کہیں آنا نہ جانا زائر بت خانہ بن جانا تمہاری دیدۂ مخمور کو یہ خوب آتا ہے کبھی شیشہ کبھی ساغر کبھی پیمانہ بن جانا عجب عالم ہے مدہوشوں کا تیری جوش مستی میں کبھی دیوانہ بن جانا کبھی مستانہ بن جانا دل سوزاں دکھانا جلوہ حسن و عشق دونوں کا کہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے

کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے ابھی اس کی دنیا کو لذت نہیں ہے اگر تم کو ملنے کی فرصت نہیں ہے مجھے بھی زیادہ ضرورت نہیں ہے بہت خوش نما ہے گلستان عالم مگر سیر کرنے کی فرصت نہیں ہے بہت سے گھروں میں خزانے ہیں مدفوں نہیں ہے تو گنج قناعت نہیں ہے کہاں تک نہ بے ہوش و بے خود کرے گی مئے وصل ہے ...

مزید پڑھیے

پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ

پہلو و پشت و سینہ و رخسار آئنہ ہے رزم گاہ حسن کا یہ چار آئنہ کف آئنہ بر آئنہ رخسار آئنہ ہے سر سے پاؤں تک وہ ستم گار آئنہ ہٹتا نہیں جو سامنے سے اس کے رات دن ہم سے سوا ہے طالب دیدار آئنہ یہ تو مرا رقیب ہے میں مانتا نہیں کیوں دیکھتا ہے آپ کو ہر بار آئنہ رخ کا ہے عکس دل میں تو رخ میں ...

مزید پڑھیے

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم مل جائیں گے کبھی نہ کبھی کارواں سے ہم رہ رہ کے پوچھتے ہیں یہی باغباں سے ہم لے جائیں چار تنکے کہاں آشیاں سے ہم مجبور کس قدر ہیں دل بد گماں سے ہم دیکھے کوئی کہ چپ ہیں کھڑے بے زباں سے ہم اللہ رے عروج تخیل کے حوصلے چل کر مکاں سے بڑھ گئے کچھ لا مکاں ...

مزید پڑھیے

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا جو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا وہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ وہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا ادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر سمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا غریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا دل ناتواں کو نہ ٹھکرائیے گا خبر بھی ہے کچھ بار عصیاں کی شوقؔ ہوئی واں جو ...

مزید پڑھیے

کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوا

کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوا اور پھر لو بھی لگی ایسی کہ دیوانہ ہوا ساقیٔ سر مست سے جب تک کہ لینے کو بڑھوں ہاتھ سے گرتے ہی چکنا چور پیمانہ ہوا دل حریم ناز سے لے کر تو ہم نکلے مگر ہو گیا عالم کچھ ایسا سب سے بیگانہ ہوا خیر تھی الفت میں دل نے رنگ کچھ بدلا نہ تھا اب تماشہ ...

مزید پڑھیے

حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں

حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں کہاں کا سجدہ کسے ہوش ہے نماز کہاں مجھے خبر ہی نہیں ہے حریم ناز کہاں نیاز مند کہاں اور بے نیاز کہاں پڑی ہے کیا اسے حسرت زدوں میں آنے کی یہ میری بزم کہاں اور وہ محو ناز کہاں یہ مانا حسن حقیقت عیاں مجاز میں ہے مگر وہ جلوہ ہے اے چشم امتیاز کہاں علاج ...

مزید پڑھیے

وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے

وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے ایسا تو ہو کوئی کہ مسیحا کہیں جسے پرسان حال کوئی نہیں جس کا نام لیں اک درد دل ہی ہے کہ شناسا کہیں جسے مشکل یہ ہے کہ آپ تو سنتے ہی کچھ نہیں روداد عشق وہ کہ فسانہ کہیں جسے جلوے سے دیکھیے کہیں آنکھیں جھپک نہ جائیں یوں چشم وا ہو ذوق تماشا کہیں جسے اللہ ...

مزید پڑھیے

وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیا

وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیا جفا‌ پرست یہ کیا شیوہ اختیار کیا اٹھائے سے نہ اٹھا دل کا پردۂ غفلت خطا ہوئی کہ ان آنکھوں پہ اعتبار کیا نگاہ مست حقیقت تو دے چکی تھی جواب مگر یہ دل ہی تھا پھر اس نے ہوشیار کیا نہ وہ تڑپ رہی دل میں نہ وہ رہی سوزش علاج کیا تھا یہ کیا تو نے غم گسار ...

مزید پڑھیے

چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں (ردیف .. ر)

چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں ابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پر مریض عشق کی حالت کبھی نہ سنبھلے گی مجھے تو چھوڑ دے اے چارہ گر مقدر پر ہمارے نالے بھی تھک تھک کے اب تو بیٹھ رہے گئے وہ دن کہ اٹھاتے تھے آسماں سر پر ہمارے مے کدہ کو چھوڑ کر نہ جا زاہد ملے گا قطرہ نہ کمبخت حوض ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1991 سے 6203