قومی زبان

نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس

نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس دوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاس دشمنوں کا مری قسمت سے ہے قابو مجھ پر یار کے پاس ہے دل یار ہے اغیار کے پاس یاد رکھنا جو ہوئی وعدہ خلافی ان کی بسترہ آن جمے گا تری دیوار کے پاس قیدیٔ زلف کی قسمت میں ہے رخسار کی سیر شکر ہے باغ بھی ہے مرغ ...

مزید پڑھیے

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں دن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیں آج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میں کیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں بہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ اڑیں گے گیسو یہ کبوتر تو گرہ باز نظر آتے ہیں جھوٹ خود ...

مزید پڑھیے

میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں

میں چپ رہوں تو گویا رنج و غم نہاں ہوں بولوں تو سر سے پا تک حسرت کی داستاں ہوں مسرور ہو تو مجھ سے میں تجھ سے شادماں ہوں تو میرا میہماں ہو میں تیرا میزباں ہوں کہتی ہے ان کی مستی ہوش آئے تو میں پوچھوں اے بے خودی بتا دے اس وقت میں کہاں ہوں ارشاد پر نظر ہے خاموش ہوں کہ گویا چاہو تو بے ...

مزید پڑھیے

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق

دل میں تیر عشق ہے اور فرق پر شمشیر عشق کیا بتائیں پڑ گئی ہے پاؤں میں زنجیر عشق دیکھنے والے یہ کہتے ہیں کتاب دہر میں تو سراپا حسن کا نقشہ ہے میں تصویر عشق کوہ کن اور قیس مل جائیں تو میں ان سے کہوں لے گئے کیا ساتھ ہی قبروں میں تم تاثیر عشق واہ رے انصاف اتنا بھی نہ واں پوچھا گیا یہ ...

مزید پڑھیے

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں

کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں حباب آ کر بنے ہر سمت سے بلبل سمندر میں ہمارے آہ و نالہ سے زمانہ ہے تہ و بالا کبھی ہے شور صحرا میں کبھی ہے غل سمندر میں کسی دن مجھ کو لے ڈوبے گا ہجر یار کا صدمہ چراغ ہستیٔ موہوم ہوگا گل سمندر میں نہ چھیڑو مجھ کو میں غواص ہوں دریائے معنی کا نہ ...

مزید پڑھیے

میں چپ کم رہا اور رویا زیادہ

میں چپ کم رہا اور رویا زیادہ یقیناً زمیں کم ہے دریا زیادہ شب وصل مرغ سحر یاد رکھنا زباں کاٹ لوں گا جو رویا زیادہ میں نازک مزاجی سے واقف ہوں قاصد اسی وجہ خط میں نہ لکھا زیادہ دو بوسے لئے اس نے دو گالیاں دیں نہ لینا زیادہ نہ دینا زیادہ وہ سیر چمن کے لئے آ رہا ہے اکڑنا نہ شمشاد ...

مزید پڑھیے

بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں

بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں محبت کے سبق برسوں رٹے ہیں جنوں میں ہو گیا ہے اب یہ درجہ کہ ہے حالت ردی کپڑے پھٹے ہیں حرم سے واپسی پر میری دعوت ہوئی مے خانہ میں میکش ڈٹے ہیں بہت پیر مغاں ذی حوصلہ ہے شراب ناب کے ساغر لٹے ہیں ریاض و زہد کے جتنے تھے دھبے وہ سارے نقش باطل اب مٹے ...

مزید پڑھیے

غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا

غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا یہ پیش خیمہ ہے ظالم تری تباہی کا خدنگ آہ کو روکے رہا ہوں فرقت میں خیال ہے مجھے افلاک کی تباہی کا امید کیسے ہو محشر میں سرخ روئی کی ہمیشہ کام کیا ہو جو رو سیاہی کا سلام تک نہیں لیتے کلام تو کیسا فقیری میں بھی تبختر ہے بادشاہی کا شکست و فتح کا ذمہ ...

مزید پڑھیے

دیکھو تو ذرا غضب خدا کا

دیکھو تو ذرا غضب خدا کا ظالم نے مجھی کو پہلے تاکا اللہ عطا کرے قناعت نسخہ واجب الادا کا دل دیتا ہوں مفت اور کوئی پرساں نہیں نقد ناروا کا واں مجھ پہ جفائیں ہو رہی ہیں یاں ورد ہے لفظ مرحبا کا آنا ہو تو نزع میں ہوں آؤ یہ وقت نہیں ہے التوا کا اب آئے ہو بن کے تم مسیحا جب وقت گزر چکا ...

مزید پڑھیے

میری عزت بڑھ گئی اک پان میں

میری عزت بڑھ گئی اک پان میں فرق کیا آیا تمہاری شان میں ان کو دیکھا تو کہا یوں کان میں کیوں خلل ڈالا مرے ایمان میں عاشقی ہے بحر ناپیداکنار کشتئ دل آ گئی طوفان میں ہے یہی پہچان بالی عمر کی بالیاں وہ دو فقط ہیں کان میں تیرے صدقے کے لئے حاضر ہیں سب در سمندر میں جواہر کان میں دے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1989 سے 6203