نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس
نرگسیں آنکھ بھی ہے ابروئے خم دار کے پاس دوسری اور بھی تلوار ہے تلوار کے پاس دشمنوں کا مری قسمت سے ہے قابو مجھ پر یار کے پاس ہے دل یار ہے اغیار کے پاس یاد رکھنا جو ہوئی وعدہ خلافی ان کی بسترہ آن جمے گا تری دیوار کے پاس قیدیٔ زلف کی قسمت میں ہے رخسار کی سیر شکر ہے باغ بھی ہے مرغ ...