قومی زبان

نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا

نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا ہمیں خود کو بدل کر دیکھنا تھا بلا کی خوب صورت ہے یہ دنیا اسے گھر سے نکل کر دیکھنا تھا بہت ممکن تھا رستے راس آتے ہمیں کچھ دور چل کر دیکھنا تھا ہم اپنے آپ سے اکتا گئے ہیں ہمیں خود سے نکل کر دیکھنا تھا ان آنکھوں کو غلط لت لگ گئی ہے حسیں منظر سنبھل ...

مزید پڑھیے

میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص

میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص میں وہ ہوں مجھ پہ ڈال سکے گی نہ دام حرص ہے کچھ نہ کچھ ہر آدمی کو لا کلام حرص لیکن نہ اس قدر کہ بنا لے غلام حرص اے زلف پھیل پھیل کے رخسار کو نہ ڈھانک کر نیم روز کی نہ شہ ملک شام حرص واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے ہے سر سے پاؤں تک یہ ستمگر تمام حرص دل ...

مزید پڑھیے

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں

جو چار آدمیوں میں گناہ کرتے ہیں خدا کی دی ہوئی عزت تباہ کرتے ہیں بتوں کے ہوتے جو مہ پر نگاہ کرتے ہیں قسم خدا کی بڑا ہی گناہ کرتے ہیں بڑا ہی ظلم خدا کی پناہ کرتے ہیں ہم آہ آہ تو وہ واہ واہ کرتے ہیں وہ بوسہ دیتے نہیں گورے گورے گالوں کا تمہیں گواہ ہم اے مہر و ماہ کرتے ہیں بتو تمہیں ...

مزید پڑھیے

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل

بدلی ہوئی ہے چرخ کی رفتار آج کل ہو بند راست گوئی کا بازار آج کل علم و ہنر ہے ملک کو درکار آج کل ہم خود بھلے برے کے ہیں مختار آج کل ہے اور ہی طریقۂ بازار آج کل جنس نفیس کے ہیں خریدار آج کل غفلت کا دور ملک سے شاید گزر گیا مخلوق ہوتی جاتی ہے بیدار آج کل گل گونۂ ترقیٔ تہذیب و علم ...

مزید پڑھیے

ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع

ہے اپنے قتل کی دل مضطر کو اطلاع گردن کو اطلاع نہ خنجر کو اطلاع بے پردہ آج نکلے گا پردہ نشیں مرا کر دے یہ کوئی مہر منور کو اطلاع چھپ چھپ کے اب جو نکلو تو معلوم ہو مزہ کر دی ہے میں نے آپ کے گھر بھر کو اطلاع بلبل نہ باز آئیو فریاد و آہ سے کب تک نہ ہوگی قلب گل تر کو اطلاع کس طرح کر دیا ...

مزید پڑھیے

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں

دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں روک رکھا ہے مجھے گل زار میں فرق کیا مقتل میں اور گل زار میں ڈھال میں ہیں پھول پھل تلوار میں لطف دنیا میں نہیں تکرار میں لیکن ان کے بوسۂ رخسار میں تھا جو شب کو سایۂ رخسار میں تازگی کتنی ہے باسی ہار میں فرط مایوسی نے مردہ حسرتیں دفن کر دی ہیں دل ...

مزید پڑھیے

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا

نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا کسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھا ہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا صدا سنتے ہی گویا مردنی سی چھا گئی مجھ پر یہ شور صور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا خدا کا دوست ہے تعمیر دل جو ...

مزید پڑھیے

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک

کریں گے ظلم دنیا پر یہ بت اور آسماں کب تک رہے گا پیر یہ کب تک رہوگے تم جواں کب تک خداوندا انہیں کس دن شعور آئے گا دنیا کا رہیں گی بے پڑھی لکھی ہماری لڑکیاں کب تک پھرے گا اور کتنے دن خیالی پار گھوڑے پر اڑے گا شعر گوئی میں نہ انجن کا دھواں کب تک عنان حکمرانی دیکھیے کس دن خدا لے ...

مزید پڑھیے

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں یہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں عقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں گویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں واعظ کو لعن طعن کی فرصت ہے کس طرح پوری ابھی خدا کی طرف لو لگی ...

مزید پڑھیے

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی وہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی صبح کوئے یار میں باد صبا پکڑی گئی یعنی غیبت میں گلوں کی مبتلا پکڑی گئی دل چڑھا مشکل سے طاق ابروئے خم دار پر سو جگہ رستہ میں جب زلف رسا پکڑی گئی جان کر آنکھیں چرائیں تو نے ہم سے بزم میں تیری چوری دیکھ لی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1988 سے 6203