اوس میں بھیگی ہوئی تنہائیوں کے جسم سے
اوس میں بھیگی ہوئی تنہائیوں کے جسم سے آ رہی ہے تیرے پیراہن کی خوشبو اس طرح نرم خوابوں کے شبستانوں میں لہراتی ہوئی گنگنائے رات کی الھڑ جوانی جس طرح
اوس میں بھیگی ہوئی تنہائیوں کے جسم سے آ رہی ہے تیرے پیراہن کی خوشبو اس طرح نرم خوابوں کے شبستانوں میں لہراتی ہوئی گنگنائے رات کی الھڑ جوانی جس طرح
جھک گئیں مل کے اجنبی آنکھیں دل سے دل ہم کلام ہو نہ سکا ہائے مجبوریاں محبت کی ہاتھ اٹھے سلام ہو نہ سکا
کتنے سپنوں کے مکٹ ٹوٹ گئے اک پل میں کتنی یادوں کے تلک وقت کے ماتھے سے دھلے میں نے دھوئے ہوئے ہیں دھول بھرے پاؤں مگر اپنی آنکھوں کے محبت بھرے گنگا جل سے
پھر بجے میرے خیالوں میں سنہرے کنگن بھولے بسرے ہوئے لمحات مجھے یاد آئے عید کے روز کسی نے بھی دعا جب مانگی دو حسیں مہندی لگے ہات مجھے یاد آئے
کچی دیوار سے گرتی ہوئی مٹی کی طرح کانپ کانپ اٹھتا ہے برباد محبت کا وجود حسرتیں سوت کے دھاگوں کی طرح نازک ہیں درد کی کوڑیاں کس طرح بندھیں گی ان میں کون گھٹنوں میں لئے سر کو اکیلا تنہا روز روتا ہے مرادوں کے حسیں منڈپ میں کتنی ویران ہے اجڑے ہوئے خوابوں کی منڈیر بھولی بسری ہوئی یادوں ...
تیری خوش رنگ چوڑیاں اب تک ذہن میں بج رہی ہیں کچھ ایسے جیسے پاگل کے پاؤں میں زنجیر یا بھکاری کی جیب میں پیسے
اپنے ماتھے پر سجائے ہوئے صندل کا تلک آج آئی ہے تری یاد کی جوگن ایسے آرتی میری اتارے گی مرے ہی گھر میں اور پھر لوٹ کے جائے گی نہ شاید جیسے
جھلملاتے ہوئے سپنوں کا سویمبر بن کر بجلیاں سی مرے احساس میں لہرائی ہیں نظر آتا نہیں کچھ بھی ترے جلووں کے سوا تیری آنکھیں مری آنکھوں میں اتر آئی ہیں
نہ اہل مے کدہ نے مسکرا کر بات کی ہم سے نہ تیری ہی جبیں سے بے رخی کے بل گئے ساقی اگرچہ بزم میں صہبا بھی تھی مینا بھی تھی لیکن خود اپنی تشنگی کی آگ میں ہم جل گئے ساقی
کتنے پاکیزہ ہیں نوخیز جوانی کے کلس نظر آتا ہے ترا جسم شوالے کی طرح اپنے گیتوں کے مدھوبن میں بلاتا ہے تجھے میرا بچپن کسی گوکل کے گوالے کی طرح