رات کا تاج
شہر کی گلیوں کے روشن زاویے رات کی تنہائیوں کے ہم سفر آسماں کے نیلے نیلے حاشیے چاند کی رعنائیوں کے نوحہ گر تیرگی لپٹی ہوئی دیوار سے صبح کی تابانیوں کی منتظر راستوں کے پیچ و خم بازار سے لوٹ کر آئے ہوں جیسے بار بار ایک ویرانی ہے میری غم گسار کچھ سیہ کچھ سرخ کچھ خاکستری رنگ کے کتوں پہ ...