قومی زبان

رات کا تاج

شہر کی گلیوں کے روشن زاویے رات کی تنہائیوں کے ہم سفر آسماں کے نیلے نیلے حاشیے چاند کی رعنائیوں کے نوحہ گر تیرگی لپٹی ہوئی دیوار سے صبح کی تابانیوں کی منتظر راستوں کے پیچ و خم بازار سے لوٹ کر آئے ہوں جیسے بار بار ایک ویرانی ہے میری غم گسار کچھ سیہ کچھ سرخ کچھ خاکستری رنگ کے کتوں پہ ...

مزید پڑھیے

سرخ گلاب

خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلاب جنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغ رات گئے جب چاند کا چہرہ دیکھتے ہیں شرماتے ہیں اور کسی غمگین شجر کے سائے میں سو جاتے ہیں دیکھو اپنے دل کی لگن میں بہنے والے سرخ گلاب آخر اپنے دل کی لگن میں اپنا پا جاتے ہیں سراغ یعنی خواب میں ...

مزید پڑھیے

دجلہ کے خواب

یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیز وہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلے کاکلوں کے سنبلستاں عارضوں پر عکس ریز جیسے ساحل کا نظارا آب دریا پر چلے اک تأثر ہے کہ رقصاں ہو رہا ہے ہر طرف شمعیں روشن ہیں چراغاں ہو رہا ہے ہر طرف آگ کے اطراف روشن جیسے اک فانوس رقص رقص کرتی لڑکیاں کچھ آگ کے ...

مزید پڑھیے

کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں

کس سفر میں ہیں کہ اب تک راستے نادیدہ ہیں آسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر خوابیدہ ہیں کتنی نم ہے آنسوؤں سے یہ صنم خانے کی خاک یہ طواف گل کے لمحے کتنے آتش دیدہ ہیں یہ گلستاں ہے کہ چلتے ہیں تمناؤں کے خواب یہ ہوا ہے یا بیاباں کے قدم لرزیدہ ہیں ایک بستی عشق کی آباد ہے دل کے قریب لیکن اس ...

مزید پڑھیے

ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں

ہم کہ مجنوں کو دعا کہتے ہیں روئے لیلیٰ کو صبا کہتے ہیں کتنی افسردہ ہے یہ شام بہار جس کو ہم تازہ ہوا کہتے ہیں اپنی آنکھوں میں نہ جانے کب کا خواب ہے جس کو خدا کہتے ہیں پھول میں اس کا لہو بہتا ہے چاند کو اس کی قبا کہتے ہیں انہی خوباں کی ہتھیلی پہ رہو اس لئے تم کو حنا کہتے ہیں ہم وہ ...

مزید پڑھیے

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا یار عجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا ہاتھ میں سب کے جلد تھی جس کے عجیب رنگ تھے جس پہ عجیب نام تھے اور کوئی ورق نہ تھا جیسے عدم سے آئے ہوں لوگ عجیب طرح کے جن ...

مزید پڑھیے

ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کا

ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کا دیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کا ناچ رہی ہے ایک شجر پر ساری بہار اور یہاں بھی شور بہت ہے زاغوں کا دل کے اندر جھگڑا دیکھنے والوں میں دل کے اندر میلہ ایک چراغوں کا دیکھو اب بھی میرے محل میں رہتا ہے ایک عجب ویرانہ میرے داغوں کا

مزید پڑھیے

خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہے

خواب میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس کا دکھانا مشکل ہے آئینے میں پھول کھلا ہے ہاتھ لگانا مشکل ہے اس کے قدم سے پھول کھلے ہیں میں نے سنا ہے چار طرف ویسے اس ویران سرا میں پھول کھلانا مشکل ہے تنہائی میں دل کا سہارا ایک ہوا کا جھونکا تھا وہ بھی گیا ہے سوئے بیاباں اس کا آنا مشکل ہے شیشہ ...

مزید پڑھیے

شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھ (ردیف .. ت)

شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھ ایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی رات خواب میں جیسے گھر سے نکل کر گھوم رہا ہو کوئی رات میں اکثر یوں بھی پھری ہے تیرے لیے اک ذات چند بگولے خشک زمین پر اور ہوائیں تیز اس صحرا میں کیسی بہاریں کیسی بھری برسات شور مچائیں بستی بستی سوچ ...

مزید پڑھیے

شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں

شیخ کے گھر کے سامنے آب حرام ڈال دوں جام و سبو کی آگ میں اپنا کلام ڈال دوں شہر کے اس ہجوم میں جینے کا حوصلہ رکھوں اپنے جنوں کی آگ میں شہر کی شام ڈال دوں صبح سے کچھ عجیب غم دشت میں ہیں ہمارے ساتھ ان کے سروں پہ میں ذرا چادر شام ڈال دوں بستر مرگ پر مجھے جینے کے خواب دے گئے جاؤں انہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1910 سے 6203