قومی زبان

طوفانی رات کی آواز

اے رونے والے بادل چپ ہو جا دستک دینے والے جھینگر باہر آ کوئل مجھ میں کوک رہی ہے ڈالی مجھ میں سوکھ رہی ہے خزاں کا سورج نکل رہا ہے میں بھی چپ ہوں تو بھی چپ ہو جا میں بھی سونے والا ہوں تو بھی کسی دہقان کے گھر سو جا اے رونے والے بادل چپ ہو جا

مزید پڑھیے

درویش

میں ایک بوڑھے برگد کا درخت ہوں جس کی شاخیں کٹ چکی ہیں اور پتے بکھر چکے ہیں میرے سینے میں ایک خلا ہے جس میں ایک دن ایک بوڑھے بندر نے پناہ لی تھی نہیں اے بوڑھے برگد تم اس گنبد والی عمارت سے بہتر ہو جس میں ایک ظالم بادشاہ کی قبر ہے نہیں تم نہیں جانتے اس گنبد کے پیچھے جھونپڑیوں میں کچھ ...

مزید پڑھیے

ملاقات

بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں مجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیں جادو کیسے کیسے جادو چلتے ہیں گلزاروں سے گیسو کیسے کیسے گیسو اڑتے ہیں رخساروں سے شمعیں کیسی کیسی شمعیں جلتی ہیں دیواروں پر پردے کیسے کیسے پردے گرتے ہیں نظاروں پر نیند کے ماتے اندھیاروں ...

مزید پڑھیے

قصۂ چہار خواب

اول حلقۂ یاراں میں کنعاں رات کے پچھلے پہر بستیوں سے دور نہروں کے کنارے خیمہ زن وہ درختوں کی ہواؤں میں ستارے خیمہ زن بستیوں سے دور صحرا کے نظارے خیمہ زن حلقۂ یاراں میں کتنے نازنیں نازک کمر دوم رقص کے ہنگام کتنے بازوؤں کا پیچ و خم دیکھنے والوں کی نظروں میں اتر آنے کو ہے یہ بدن کا ...

مزید پڑھیے

کپاس کا پھول

تم مجھے قتل نہ کرو میں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گا میرا ایک ٹکڑا کپاس کا پھول بن جائے گا اور دوسرا وہ آگ جو کپاس کے پھول سے روشن ہوتی ہے تم مجھے قتل نہ کرو میں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گا میرا ایک ٹکڑا دریا بن جائے گا اور دوسرا وہ چاند جو اس دریا میں ڈوب جاتا ہے ہاں مجھے قتل نہ ...

مزید پڑھیے

وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا

وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا مرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھا سفر میں شام ہو جاتی تو دل میں شمعیں جل اٹھتیں لہو میں پھول کھل جاتے جہاں غنچہ چٹکتا تھا کبھی میں سرو کی صورت نظر آتا تھا یاروں کو کبھی غنچے کی صورت اپنے ہی دل میں دھڑکتا تھا خدا جانے میں اس کے ...

مزید پڑھیے

ایک پتھر کہ دست یار میں ہے

ایک پتھر کہ دست یار میں ہے پھول بننے کے انتظار میں ہے اپنی ناکامیوں پہ آخر کار مسکرانا تو اختیار میں ہے ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئے دن قیامت کے انتظار میں ہے اپنی تصویر کھینچتا ہوں میں اور آئینہ انتظار میں ہے کچھ ستارے ہیں اور ہم ہیں جمیلؔ روشنی جن سے رہ گزار میں ہے

مزید پڑھیے

دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں

دست جنوں میں دامن گل کو لانے کی تدبیر کریں نرم ہوا کے جھونکو آؤ موسم کو زنجیر کریں موسم ابر و باد سے پوچھیں لذت سوزاں کا مفہوم موجۂ خوں سے دامن گل پر حرف جنوں تحریر کریں آمد گل کا ویرانی بھی دیکھ رہی ہے کیا کیا خواب ویرانی کے خواب کو آؤ وحشت سے تعبیر کریں رات کے جاگے صبح کی ہلکی ...

مزید پڑھیے

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں میں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میں تم بھی دنیا کو سناتے ہو کہانی جھوٹی میں نے بھی پردے گرا رکھے ہیں آئینے میں پھر نکل آئے گی سورج کی سنہری زنجیر ایسے موسم بھی اٹھا رکھے ہیں آئینے میں میں نے کچھ لوگوں کی تصویر اتاری ہے جمیلؔ اور کچھ لوگ ...

مزید پڑھیے

غم جاناں کی خبر لاتی ہے

غم جاناں کی خبر لاتی ہے کوئی آواز اگر آتی ہے جانے کس سمت ہوا کی زنجیر کھینچ کر مجھ کو لیے جاتی ہے کیسا عالم ہے کہ تنہائی بھی در و دیوار سے ٹکراتی ہے ناگہاں آئی تھی ہم پر بھی جمیلؔ وہ قیامت جو گزر جاتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1909 سے 6203