قومی زبان

کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا

کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا جس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گا ٹوٹیں گی جب نیند سے پلکیں سو جاؤں گا چپکے سے جس جنگل میں رات پڑے گی میرا گھر ہو جائے گا خوابوں کے یہ پنچھی کب تک شور کریں گے پلکوں پر شام ڈھلے گی اور سناٹا شاخوں پر ہو جائے گا رات قلم لے کر آئے گی ...

مزید پڑھیے

اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گا

اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گا چاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گا کیا خبر تھی کہ ہوا تیز چلے گی اتنی سارا صحرا مرے چہرے پہ بکھر جائے گا ہم کسی موڑ پہ رک جائیں گے چلتے چلتے راستہ ٹوٹے ہوئے پل پہ ٹھہر جائے گا بادبانوں نے جو احسان جتایا اس پر بیچ دریا میں وہ کشتی سے اتر جائے ...

مزید پڑھیے

نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئے

نہ سوال جام نہ ذکر مے اسی بانکپن سے چلے گئے ترا ظرف دیکھ کے تشنہ لب تری انجمن سے چلے گئے کبھی تو نے سوچا بھی صبح نو کہ تمام رات گزار کے جنہیں ڈس گئی تری روشنی وہ کہاں وطن سے چلے گئے مجھے دھن کہ کاکل زندگی جو بکھر گئی ہے سنوار دوں تمہیں غم کہ عشق کے تذکرے مرے شعر و فن سے چلے ...

مزید پڑھیے

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی آپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی اڑ گئی خاک دل و جاں تو وہ رونے بیٹھے بستیاں جل گئیں جب ٹوٹ کے برسات ہوئی تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھا شمع جس موڑ پہ چھوٹی ہے وہیں رات ہوئی اس محبت سے ملا ہے وہ ستم گر ہم سے جتنے شکوے نہ ہوئے اتنی ...

مزید پڑھیے

زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوں

زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوں جو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوں زلفوں کو گھٹائیں کہتا ہوں رخسار کو شعلہ کہتا ہوں تم جتنے اچھے لگتے ہو میں اس سے اچھا کہتا ہوں اب ریت یہی ہے دنیا کی تم بھی نہ بنو بیگانہ کہیں الزام نہیں دھرتا تم پر اک جی کا دھڑکنا کہتا ...

مزید پڑھیے

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا میں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھا کیا درد ٹوٹ ٹوٹ کے برسا ہے رات بھر اتنا غبار تو مرے چہرے پہ کل نہ تھا پتھراؤ کر رہا ہے وہ خود اپنی ذات پر کیا دل کے مسئلے کا کوئی اور حل نہ تھا شاخیں لدی ہوئی تھیں تو پتھر نہ تھا نصیب پتھر پڑے ملے تو ...

مزید پڑھیے

میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھا

میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھا دعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھا ہوا گم سم تھی سونا آشیاں تھا پرندہ رات بھر جانے کہاں تھا ہواؤں میں اڑا کرتے تھے ہم بھی ہمارے سامنے بھی آسماں تھا مری تقدیر تھی آوارہ گردی مرا سارا قبیلہ بے مکاں تھا مزے سے سو رہی تھی ساری بستی جہاں میں تھا وہیں ...

مزید پڑھیے

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا آدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتا دل کا احوال نہ پوچھو کہ بہت روز ہوئے اس خرابے کی طرف میں نہیں آتا جاتا زندگی تشنہ دہانی کا سفر تھی شاید ہم جدھر جاتے اسی راہ پہ صحرا جاتا شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا رکھنی تھی جب دریچے سے ہوا آتی تو دیکھا ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگا

ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگا یہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگا پونچھتے جائیے دامن سے لہو ماتھے کا سوچتے جائیے دیوار کو سر کیسا لگا ہٹ گئی چھاؤں مگر لوگ وہیں بیٹھے ہیں دشت کی دھوپ میں جانے وہ شجر کیسا لگا در و دیوار ہیں میں ہوں مری تنہائی ہے چاندنی رات سے پوچھو مرا گھر ...

مزید پڑھیے

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے سورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھے رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرم چادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے میں بک گیا تھا بعد میں بے صرفہ جان کر دنیا مری دکان پہ لوٹا گئی مجھے دریا پہ ایک طنز سمجھئے کہ تشنگی ساحل کی سرد ریت میں دفنا گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1899 سے 6203