کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا
کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا جس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گا ٹوٹیں گی جب نیند سے پلکیں سو جاؤں گا چپکے سے جس جنگل میں رات پڑے گی میرا گھر ہو جائے گا خوابوں کے یہ پنچھی کب تک شور کریں گے پلکوں پر شام ڈھلے گی اور سناٹا شاخوں پر ہو جائے گا رات قلم لے کر آئے گی ...