پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ
پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ چلے آتے ہیں آدھی رات کو مے خانہ روزانہ محبت جان بھی دیتی ہے ترساتی بھی ہے یارو کبھی پیمانہ برسوں میں کبھی پیمانہ روزانہ پریشاں ہوں کنول جیسی یہ آنکھیں چوم لینے دو کہ ان پھولوں پہ منڈلائے گا یہ بھونرا نہ روزانہ شرابوں کو نہ جانے لوگ ...