قومی زبان

جاؤں میں اس نگار پر قربان

جاؤں میں اس نگار پر قربان اس سلونے سنگار پر قربان جن دلاں کے دلاں کوں دل بھنجن سر مرا اس سوار پر قربان جن دھتورا دے دل چرائی مرا اس دغاباز نار پر قربان جگ منجے بولتا کہ تو گیانی کی ہوا اس گنوار پر قربان منجھ سے عاشق کوں بوالہوس کہتے عشق کے کاروبار پر قربان دلبراں کی تو دوستی ...

مزید پڑھیے

یک ٹھار او نگار کھڑی تھی نظر پڑی

یک ٹھار او نگار کھڑی تھی نظر پڑی یک بوالہوس کے ہات چڑی تھی نظر پڑی کسوت نوی نین میں خماری بدن پہ جوت لٹ کھس پٹی سوں مکھ پہ پڑی تھی نظر پڑی موتی سوں ہور سنے سے نہ جانوں دیا ہے کن بھر سب اپس کے تن کوں مڑی تھی نظر پڑی بالاں میں تیل بر میں گلاں بھر گلا صندل تنبول کی ادھر پہ دھڑی تھی ...

مزید پڑھیے

جوں چمن کے دیکھ بلبل خوش ہوا

جوں چمن کے دیکھ بلبل خوش ہوا بولتے ہر پھول پر مضموں نوا یوں ہوس لے دل پہ ویراں باغ کے بیس باڑی پر کرے کاگا کوا او ہے قانع پھول کے یک باس پر یو نہ سمجھیا انگ بھر لایا چوا چال ایکس کی نہ یک کوں آئے گی اس سخن پر ہنستے ہنس بولیا کوا ہاں ارے تقلید سوں ہو دور بہ یک نیں مسلمانی میں ...

مزید پڑھیے

اے سکھین میں نے دیکھیا سنگ کر کے یار کا

اے سکھین میں نے دیکھیا سنگ کر کے یار کا پن نہ دیکھیا بے سمجھ ہور سنگ دل تجھ سار کا جیو لینے جانتا ہور دلبری کے تو کلا گھر میں ہے لگ آپنا ہور بھارگے پرپار کا جیو جل کہتا ہوں میں پن سن توں سنگیں ہوں نکو بول اپس کی برہ کی پر بس میں بلکھنہار کا گھاؤ کاری اچھ نہ جانا جیو ہور جم ...

مزید پڑھیے

ترک الفت کا کچھ خیال بھی ہے

ترک الفت کا کچھ خیال بھی ہے یہی ممکن مگر محال بھی ہے کیا کھلے عقدۂ حیات و ممات ہر جواب اک نیا سوال بھی ہے ورنہ کیا شے یہ گردش افلاک اس میں شامل کسی کی چال بھی ہے کچھ مرا دل بھی ہے جنوں آثار کچھ تری آنکھ کا کمال بھی ہے اس میں جینے کا بھی ہزار امکان اس میں مرنے کا احتمال بھی ہے دل ...

مزید پڑھیے

آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف

آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف اشفاق عنایات کرم مہر تلطف اے گریہ پس قافلہ دل نام ہے اک یار یہ خستہ بھی نبھ جائے جو یک دم ہو توقف ہے ڈول تو نالہ کا وہی دل بھی وہی لیک تاثیر نہ اب اس میں ہے نہ اس میں تصرف صوفی ہے وہ بے علم ہو جو ہستی سے اپنی کس کام پڑھا تو نے جو یوں علم تصوف خاموشی ...

مزید پڑھیے

اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہم

اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہم پھر تجھ کو نہ منہ دکھائیں گے ہم مشکل ہے نہ آنا تجھ گلی میں پر یہ بھی سہی نہ آئیں گے ہم جو آگے کہا کئے ہیں تجھ سے سو اب کے وہ کر دکھائیں گے ہم ایسا ہی جو دل نہ رہ سکے گا ٹک دور سے دیکھ جائیں گے ہم ہاں کیوں نہ ملیں گے تجھ سے ظالم جب گالییں نت کی کھائیں گے ...

مزید پڑھیے

کیا میں کیا اعتبار میرا

کیا میں کیا اعتبار میرا خواری بس افتخار میرا ناصح بولے ہے یوں کہ گویا دل پر ہے کچھ اختیار میرا اے شاہ سوار اند کے جہد زخمی ہے نپٹ شکار میرا ٹک بچیو صبا کہ ہر قدم پر اس کوچہ میں ہے غبار میرا وہ کشتئ مے دے اب کے ساقی جس میں کھیوا ہو پار میرا صد بحر در آستیں ہے جو ابر وہ جیب ہے یا ...

مزید پڑھیے

جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں

جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں ٹک منتظر جنبش باد سحری ہوں نے گریۂ شب ہوں میں نہ آہ سحری ہوں جوں بانگ جرس ہم نفس بے اثری ہوں جاتا ہوں میں جیدھر کو وہ منہ پھیرے ہے مجھ سے گویا کہ میں گرد قدم رہ گزری ہوں دیکھا نہ میں جز سایۂ بازوئے شکستہ حرماں زدہ جوں حسرت بے بال و پری ہوں میں ...

مزید پڑھیے

جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں

جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں پھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میں ہے گو کہ جذب مرا تار عنکبوت سے سست یہ شیر پھانسے ہیں اکثر اسی کمند سے میں کبھو دے بزم میں اپنی مجھے بھی رخصت سوز گیا اثر میں مری جان کیا سپند سے میں جو تلخئیں کہ ذخیرہ میں کی ہیں غم میں ترے نہ ان سے ایک کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1849 سے 6203