قومی زبان

جھکا ہوا ہے جو مجھ پر وجود میرا ہے

جھکا ہوا ہے جو مجھ پر وجود میرا ہے خود اپنے غار کا پتھر وجود میرا ہے یہ چاپ، تیرگی، نیچے کو جا رہا زینہ اسی سرنگ کے اندر وجود میرا ہے نہیں ہے اس میں کسی کی شراکت نفسی یہ بات طے ہے سراسر وجود میرا ہے مشابہ دونوں ہیں پھر بھی رخ تمنا سے ترے وجود سے بڑھ کر وجود میرا ہے یہ حد خیرگی ...

مزید پڑھیے

میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لوں

میں ہوا کو منجمد کر دوں تو کیسے سانس لوں ریت پر گر جاؤں اور پھر اکھڑے اکھڑے سانس لوں کب تلک روکے رکھوں میں پانیوں کی تہہ میں سانس کیوں نہ اک دن سطح دریا سے نکل کے سانس لوں قلعۂ کہسار پر میں رکھ تو دوں زریں چراغ لیکن اتنی شرط ہے کہ اس کے بدلے سانس لوں خواب کے متروک گنبد سے نکل کر ...

مزید پڑھیے

اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا

اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا مرے نجم آب مجھے بتا وہ کہاں گیا جو لکیر پانی پہ نقش تھی وہ کہاں گئی جو بنا تھا خاک پہ زائچہ وہ کہاں گیا کہاں ٹوٹے میری طناب جسم کے حوصلے جو لگا تھا خیمہ وجود کا وہ کہاں گیا جو زمین پاؤں تلے بچھی تھی کدھر گئی وہ جو آسمان سروں پہ تھا وہ کہاں ...

مزید پڑھیے

انا کو خود پر سوار میں نے نہیں کیا تھا

انا کو خود پر سوار میں نے نہیں کیا تھا تمہارے پیچھے سے وار میں نے نہیں کیا تھا وہ خود گرا تھا لہو فروشی کی پستیوں میں اسے نحیف و نزار میں نے نہیں کیا تھا پکے ہوئے پھل ہی توڑے تھے میں نے ٹہنیوں سے شجر کو بے برگ و بار میں نے نہیں کیا تھا نشانہ باندھا تھا آشیانوں کی سمت لیکن کوئی ...

مزید پڑھیے

اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنیں لگا دے گا

اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنیں لگا دے گا وہ اندھا داؤ پر اب کے مری آنکھیں لگا دے گا مسلسل اجنبی چاپیں اگر گلیوں میں اتریں گی وہ گھر کی کھڑکیوں پر اور بھی میخیں لگا دے گا فصیل سنگ کی تعمیر پر جتنا بھی پہرہ ہو کسی کونے میں کوئی کانچ کی اینٹیں لگا دے گا میں اس زرخیز موسم میں بھی ...

مزید پڑھیے

یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہت

یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہت بنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہت جو چشم یار ہے ہوش و خرد شکار بہت دل و نظر پہ ہمیں بھی ہے اختیار بہت ہم اپنے وقت کی تصویر مسخ صورت ہیں دکھائے ہم کو نہ آئینہ روزگار بہت خدا وہ وقت نہ لائے کہ آزمائش ہو تعلقات تمہیں سے ہیں استوار بہت کسی بھی ...

مزید پڑھیے

نیند کے آب رواں کو مات دینے آؤں گا

نیند کے آب رواں کو مات دینے آؤں گا اے شب نا خواب تیرا ساتھ دینے آؤں گا جب ستارے نقطۂ انفاس پر بجھ جائیں گے میں خدا کو جان بھی اس رات دینے آؤں گا نور کی موجیں مرے ہم راہ ہوں گی اور میں رات کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دینے آؤں گا آسماں کے نیلے گنبد سے نکل کر ایک دن میں زمیں کو قرمزی ...

مزید پڑھیے

میں اک پہاڑی تلے دبا ہوں کسے خبر ہے

میں اک پہاڑی تلے دبا ہوں کسے خبر ہے بڑی اذیت میں مبتلا ہوں کسے خبر ہے کسے خبر ہے کہ میرا ہر عکس گم ہوا ہے میں ایک خم دار آئینہ ہوں کسے خبر ہے کسی کو کیا علم ہے کہ میں کس مدار میں ہوں میں ایک بے انت فاصلہ ہوں کسے خبر ہے عجب شب و روز کا تصادم ہوا ہے مجھ میں میں اک ستارہ ہوں یا ہوا ہوں ...

مزید پڑھیے

کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں

کبھی زخمی کروں پاؤں کبھی سر پھوڑ کر دیکھوں میں اپنا رخ کسی جنگل کی جانب موڑ کر دیکھوں سمادھی ہی لگا لوں اب کہیں ویران قبروں پر یہ دنیا ترک کر دوں اور سب کچھ چھوڑ کر دیکھوں مجھے گھیرے میں لے رکھا ہے اشیا و مظاہر نے کبھی موقع ملے تو اس کڑے کو توڑ کر دیکھوں اڑا دوں سبز پتوں میں ...

مزید پڑھیے

خیمۂ خواب کی طنابیں کھول

خیمۂ خواب کی طنابیں کھول قافلہ جا چکا ہے آنکھیں کھول اے زمیں میرا خیر مقدم کر تیرا بیٹا ہوں اپنی بانہیں کھول ڈوب جائیں نہ پھول کی نبضیں اے خدا موسموں کی سانسیں کھول فاش کر بھید دو جہانوں کے مجھ پہ سربستہ کائناتیں کھول پڑ نہ جائے نگر میں رسم سکوت قفل لب توڑ دے زبانیں کھول

مزید پڑھیے
صفحہ 1792 سے 6203