اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا
اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا مرے نجم آب مجھے بتا وہ کہاں گیا جو لکیر پانی پہ نقش تھی وہ کدھر گئی جو بنا تھا خاک پہ زائچہ وہ کہاں گیا کہاں ٹوٹے میری طناب جسم کے حوصلے جو لگا تھا خیمہ وجود کا وہ کہاں گیا جو زمین پاؤں تلے بچھی تھی کدھر گئی وہ جو آسمان سروں پہ تھا وہ کہاں ...