قومی زبان

اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا

اسے شوق غوطہ زنی نہ تھا وہ کہاں گیا مرے نجم آب مجھے بتا وہ کہاں گیا جو لکیر پانی پہ نقش تھی وہ کدھر گئی جو بنا تھا خاک پہ زائچہ وہ کہاں گیا کہاں ٹوٹے میری طناب جسم کے حوصلے جو لگا تھا خیمہ وجود کا وہ کہاں گیا جو زمین پاؤں تلے بچھی تھی کدھر گئی وہ جو آسمان سروں پہ تھا وہ کہاں ...

مزید پڑھیے

سحر تک اس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں

سحر تک اس پہاڑی کے عقب میں رو کے آتا ہوں میں نقطہ ہائے گریہ پر اکٹھا ہو کے آتا ہوں ادھر رستے میں چوتھے کوس پر تالاب پڑتا ہے میں خاک اور خون سے لتھڑی رکابیں دھو کے آتا ہوں یہاں اک دشت میں فرعون کا اہرام بنتا ہے میں اپنی پشت پر چوکور پتھر ڈھو کے آتا ہوں ابھی کچھ بازیابی کا عمل ...

مزید پڑھیے

مرا پاؤں زیر زمین ہے پس آسماں مرا ہاتھ ہے

مرا پاؤں زیر زمین ہے پس آسماں مرا ہاتھ ہے کہیں بیچ میں مرا جسم ہے کہیں درمیاں مرا ہاتھ ہے یہ نجوم ہیں مری انگلیاں یہ افق ہیں میری ہتھیلیاں مری پور پور ہے روشنی کف کہکشاں مرا ہاتھ ہے مرے جبر میں ہیں لطافتیں مری قدر میں ہیں کثافتیں کبھی خالق شب تار ہے کبھی ضو فشاں مرا ہاتھ ہے کسی ...

مزید پڑھیے

عجب پانی ہے

عجب پانی ہے عجب ملاح ہے سوراخ سے بے فکر آسن مار کے کشتی کے اک کونے میں بیٹھا ہے عجب پانی ہے جو سوراخ سے داخل نہیں ہوتا کوئی موج نہفتہ ہے جو پیندے سے کسی لکڑی کے تختے کی طرح چپکی ہے کشتی چل رہی ہے سر پھری لہروں کے جھولے میں ابھی اوجھل ہے جیسے ڈوبتی اب ڈوبتی ہے جیسے بطن آب سے جیسے ...

مزید پڑھیے

سواری اونٹ کی ہے

سواری اونٹ کی ہے اور میں شہر شکستہ کی کسی سنساں گلی میں سر جھکائے ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر اس گھر کی جانب جا رہا ہوں جس کی چوکھٹ پر ہزاروں سال سے اک غم زدہ عورت مرے وعدے کی رسی ریشۂ دل سے بنی مضبوط رسی سے بندھی ہے آنسوؤں سے تر نگاہوں میں کسی کہنہ ستارے کی چمک لے ...

مزید پڑھیے

درد ہوتا ہے

بہر کیف جو درد ہوتا ہے وہ درد ہوتا ہے ایڑی میں کانٹا چبھے تو بدن تلملاتا ہے دل ضبط کرتا ہے روتا ہے جو برگ ٹہنی سے گرتا ہے وہ زرد ہوتا ہے چکی کے پاٹوں میں دانے تو پستے ہیں پانی سے نکلے تو مچھلی تڑپتی ہے طائر قفس میں گرفتار ہوں تو پھڑکتے ہیں بادل سے بادل ملیں تو کڑکتے ہیں بجلی چمکتی ...

مزید پڑھیے

جھلملاتی ہوئی نیند سن

اے چراغوں کی لو کی طرح جھلملاتی ہوئی نیند، سن میرا ادھڑا ہوا جسم بن خواب سے جوڑ لہروں میں ڈھال اک تسلسل میں لا نقش مربوط کر نرم، ابریشمیں کیف سے میری درزوں کو بھر میری مٹی کے ذرے اٹھا میری وحشت کے بکھرے ہوئے سنگ ریزوں کو چن اے چراغوں کی لو کی طرح جھلملاتی ہوئی نیند، سن میرا ...

مزید پڑھیے

مجھ سا مبہوت عاشق

کیسی مخلوق تھی آگ میں اس کا گھر تھا الاؤ کی حدت میں مواج لہروں کو اپنے بدن کی ملاحت میں محسوس کرتی تھی لیکن وہ اندر سے اپنے ہی پانی سے ڈرتی تھی کتنے ہی عشاق اپنی جوانی میں پانی میں اک ثانیہ اس کو چھونے کی خواہش میں نیچے عمق میں بہت نیچے اترے مگر پھر نہ ابھرے سمندر نے منتھن سے ان کے ...

مزید پڑھیے

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا پھر دور کسی نور کے ہالے میں رہوں گا رکھوں گا کبھی دھوپ کی چوٹی پہ رہائش پانی کی طرح ابر کے ٹکڑے میں رہوں گا یہ شب بھی گزر جائے گی تاروں سے بچھڑ کر یہ شب بھی میں کہسار کے درے میں رہوں گا سورج کی طرح موت مرے سر پہ رہے گی میں شام تلک جان کے خطرے ...

مزید پڑھیے

خطا ہونے لگے تھے رعد سے اوسان میرے

خطا ہونے لگے تھے رعد سے اوسان میرے عجب شور قیامت میں گھرے تھے کان میرے فضا میں ایک لحظے کے لیے جب برق چمکی اندھیری رات سے طے ہو گئے پیمان میرے لہو جمنے کے نقطے پر جو پہنچا تو اچانک الٹ ڈالے ہوا نے مجھ پہ آتش دان میرے میں مٹی آگ اور پانی کی صورت منتشر تھا پھر اک دن سب عناصر ہو گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1791 سے 6203