یہ کیسی گھڑی ہے
یہ کیسی گھڑی ہے زمانی تسلسل کا پہیہ گھما کر یہاں وقت کو جیسے فطرت سے کاٹا گیا ہے خلیجیں جو رکھی گئیں نور و ظلمت کے مابین ان سب کو پاٹا گیا ہے سمے رات کا ہے مگر دھوپ سورج سے لے کر اجازت ہمارے سرہانے کھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے کہ جیسے ہمارے سرہانے کا بالکل ہماری ہی ...