قومی زبان

یہ کیسی گھڑی ہے

یہ کیسی گھڑی ہے زمانی تسلسل کا پہیہ گھما کر یہاں وقت کو جیسے فطرت سے کاٹا گیا ہے خلیجیں جو رکھی گئیں نور و ظلمت کے مابین ان سب کو پاٹا گیا ہے سمے رات کا ہے مگر دھوپ سورج سے لے کر اجازت ہمارے سرہانے کھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے یہ کیسی گھڑی ہے کہ جیسے ہمارے سرہانے کا بالکل ہماری ہی ...

مزید پڑھیے

غار میں بیٹھا شخص

چاند ستارے پھول بنفشی پتے ٹہنی ٹہنی جگنو بن کر اڑنے والی برف لکڑی کے شفاف ورق پر مور کے پر کی نوک سے لکھے کالے کالے حرف اجلی دھوپ میں ریت کے روشن ذرے اور پہاڑی درے ابر سوار سہانی شام اور سبز قبا میں ایک پری کا جسم سرخ لبوں کی شاخ سے جھڑتے پھولوں جیسے اسم رنگ برنگ طلسم جھیل کی تہہ ...

مزید پڑھیے

مہرباں فرش پر

اک معلق خلا میں کہیں ناگہاں مہرباں فرش پر پاؤں میرا پڑا میں نے دیکھا کھلا ہے مرے سامنے زر نگار و منقش بہت ہی بڑا ایک در خواب کا مہرباں فرش کے مرمریں پتھروں سے ہویدا ہوا عکس مہتاب کا میں نے ہاتھ اپنے آگے بڑھائے اور اس کو چھوا گھنٹیاں میرے کانوں میں بجنے لگیں جاوداں اور غنائی رفاقت ...

مزید پڑھیے

عجیب ما فوق سلسلہ تھا

عجیب ما فوق سلسلہ تھا شجر جڑوں کے بغیر ہی اگ رہے تھے خیمے بغیر چوبوں کے اور طنابوں کے آسرے کے زمیں پہ استادہ ہو رہے تھے چراغ لو کے بغیر ہی جل رہے تھے کوزے بغیر مٹی کے چاک پر ڈھل رہے تھے دریا بغیر پانی کے بہہ رہے تھے سبھی دعائیں گرفتہ پا تھیں رکی ہوئی چیزیں قافلہ تھیں پہاڑ بارش کے ...

مزید پڑھیے

وہی مخدوش حالت

ہمیشہ سے وہی مخدوش حالت ایک آدھی مینگنی دم سے لگی ہے ناک میں بلغم بھرا ہے ہڈیاں ابھری ہوئی ہیں پشت کی دو روز پہلے ہی منڈی ہے اون میری سردیوں کے دن ہیں چٹیل بے نمو میدان میں ریوڑ کے اندر سر جھکائے گھاس کی امید میں مدھم شکستہ چال چلتا خشک ڈنٹھل اور پولیتھین کے مردہ لفافوں کو ...

مزید پڑھیے

مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے

مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے اک جنین ناتواں ہوں جس گھڑی رکھی گئی بنیاد میری اس گھڑی سے تیرگی کے پیٹ میں ہوں خون کی ترسیل آنول سے غذا جاری ہے کچی آنکھ کے آگے تنی موہوم سی جھلی ہٹا کر دیکھتا ہوں! دیکھتا ہوں گرم گہرے لیس کے دریا میں کچھووں، مینڈکوں جل کیکڑوں کے پارچوں میں اوجھڑی کے ...

مزید پڑھیے

کیک کا ایک ٹکڑا

کہنہ تر زین بدلی گئی پھر نئی نعل بندی ہوئی اور فرس ہنہنایا سوار اب سواری پر مجبور تھا میں اکیلا عزا دار کتنے یگوں سے اٹھائے ہوئے جسم کا تعزیہ خود ہی اپنے جنم دن پہ مسرور تھا کپکپاتی چھری کیک کو وسط تک چیر کر رک گئی دل لرزنے لگا ضعف کی ماری پھونکوں نے ایک ایک کر کے بھڑکتی لوؤں کو ...

مزید پڑھیے

گنبد نما شفاف شیشہ

گنبد نما شفاف شیشہ محدب بیچ سے ابھرا ہوا گنبد نما شفاف شیشہ جس میں سے چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں یہ دیکھو ایک چیونٹی ہشت پا مکڑے کی صورت چل رہی ہے اوس کا قطرہ مصفا حوض کے مانند ساکن لگ رہا ہے ریت کا ذرہ پہاڑی کی طرح افلاک کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے گھنے پانی میں جرثومے کی جنبش ...

مزید پڑھیے

کہیں تم ابد تو نہیں ہو

کہو کون ہو تم ازل سے کھڑے ہو نگاہوں میں حیرت کے خیمے لگائے افق کے گھنے پانیوں کی طرف اپنا چہرہ اٹھائے کہو کون ہو تم بتاؤ بتاؤ کہیں تم طلسم سماعت سے نا آشنا تو نہیں ہو کہیں تم وہ در تو نہیں ہو جو صدیوں کی دستک سے کھلتا نہیں یا قدیمی شکستہ سی محراب ہو جس میں کوئی چراغ رفاقت بھی جلتا ...

مزید پڑھیے

لال بیگ اڑ گیا

طعام گاہوں کی بچی کھچی غذا پہ پل رہا تھا نم زدہ شگافوں گھن لگے درازوں میں چھپا ہوا وہ مطمئن تھا غیر مرئی نالیوں سے مین ہول تک غلاظتیں بہا کے لانے والی سست و تیز ساری لائنوں میں گھومتا تھا ایک روز ہست کی گرہ میں اس کی لانبی ٹانگ اک انوکھے پیچ میں الجھ گئی تو ٹیس درد کی اٹھی وجود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1790 سے 6203