قومی زبان

دنیا کا وبال بھی رہے گا

دنیا کا وبال بھی رہے گا کچھ اپنا خیال بھی رہے گا شعلوں سے تجھے گزار دیں گے ہم سے یہ کمال بھی رہے گا بانہوں میں سمٹ کے حسن تیرا کچھ دیر نڈھال بھی رہے گا اے جان تجھے خراب کر کے تھوڑا سا ملال بھی رہے گا مجھ کو تری نازکی کا احساس دوران وصال بھی رہے گا

مزید پڑھیے

ہوا نے بادل سے کیا کہا ہے

ہوا نے بادل سے کیا کہا ہے کہ شہر جنگل بنا ہوا ہے جہاں مری کشتیاں نہیں تھیں وہاں بھی سیلاب آ گیا ہے امید اور خوف ناچتے ہیں وہ ناچ گھر ہے مکان کیا ہے سب اس کی باتیں گھسی پٹی ہیں مگر وہ پیکر نیا نیا ہے وہ جا چکا ہے پر اس کا چہرہ اسی طرح میز پر سجا ہے سجیلی المایوں کے پیچھے نوکیلے ...

مزید پڑھیے

اک اپنے سلسلے میں تو اہل یقیں ہوں میں

اک اپنے سلسلے میں تو اہل یقیں ہوں میں چھ فیٹ تک ہوں اس کے علاوہ نہیں ہوں میں روئے زمیں پہ چار عرب میرے عکس ہیں ان میں سے میں بھی ایک ہوں چاہے کہیں ہوں میں ویسے تو میں گلوب کو پڑھتا ہوں رات دن سچ یہ ہے اک فلیٹ ہے جس کا مکیں ہوں میں ٹکرا کے بچ گیا ہوں بسوں سے کئی دفعہ اب کے جو حادثہ ...

مزید پڑھیے

فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا

فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا ہوا میں دھول تھی میں نے ہوا سے کچھ نہ کہا یہی خیال کہ برسے تو خود برس جائے سو عمر بھر کسی کالی گھٹا سے کچھ نہ کہا ہزار خواب تھے آنکھوں میں لالہ زاروں کے ملی سڑک پہ تو باد صبا سے کچھ نہ کہا وہ راستوں کو سجاتے رہے انہوں نے کبھی گھروں میں ناچنے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو دن بھر چہرے جمع کئے ہیں کھو جائیں گے شام کو سارے پیڑ سفر میں ہوں گے اور گھروں کے سامنے جتنے پیڑ ہیں اتنے سائے لہرائیں گے شام کو دن کے شور میں شامل شاید کوئی تمہاری بات بھی ہو آوازوں کے الجھے دھاگے سلجھائیں گے شام کو شام سے پہلے درد کی ...

مزید پڑھیے

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا جتنے بھی ہیں روپ تمہارے جیتے جی دکھلا دینا رات اور دن کے بیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں میں تم سے اک بات کہوں گا تم بھی کچھ فرما دینا اب کی رت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار ملے میرے بدن کی مٹی کو بھی رنگوں میں نہلا دینا دل دریا ...

مزید پڑھیے

اونچی اونچی شہنائی ہے

اونچی اونچی شہنائی ہے پاگل کو نیند آئی ہے ایک برہنہ پیڑ کے نیچے میں ہوں یا پروائی ہے میری ہنسی جنگل میں کسی نے دیر تلک دہرائی ہے روشنیوں کے جال سے باہر کوئی کرن لہرائی ہے خاموشی کی جھیل پہ شیاما کنکر لے کر آئی ہے دھیان کی ندیا بہتے بہتے ایک دفعہ تھرائی ہے کھیت پہ کس نے سبز ...

مزید پڑھیے

میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں

میں تو ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم میں رہوں کوئی تصویر نہیں جو ترے البم میں رہوں گھر جو آباد کیا ہے تو یہ سوچا میں نے تجھ کو جنت میں رکھوں آپ جہنم میں رہوں تو اگر ساتھ نہ جائے تو بہت دور کہیں دن کو سورج کے تلے رات کو شبنم میں رہوں جی میں آتا ہے کسی روز اکیلا پا کر میں تجھے قتل کروں ...

مزید پڑھیے

گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے

گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے بوجھل آنکھیں کب تک آخر نیند کے وار بچائیں گی پھر وہی سب کچھ دیکھنا ہوگا صبح سے جو کچھ دیکھا ہے دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے آدھی عمر کے پس ...

مزید پڑھیے

کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں

کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں بہت برا نہیں اتنا برا تو میں بھی ہوں خرام عمر ترا کام پائمالی ہے مگر یہ دیکھ ترے زیر پا تو میں بھی ہوں بہت اداس ہو دیوار و در کے جلنے سے مجھے بھی ٹھیک سے دیکھو جلا تو میں بھی ہوں تلاش گم شدگاں میں نکل چلوں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہوا تو میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1775 سے 6203