قومی زبان

گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو

گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو شاید آ جائے سمندر کو بلا کر دیکھو دشت کی آگ بڑی چیز ہے آنکھوں کے لیے شہر بھی خوب ہی جلتا ہے جلا کر دیکھو تم نے خوشبو سے کبھی عہد وفا باندھا ہے روشنی کو کبھی بستر میں لٹا کر دیکھو کس نے توڑا ہے زمیں اور قدم کا رشتہ آج کی رات یہی کھوج لگا کر ...

مزید پڑھیے

جوئے تازہ کسی کہسار کہن سے آئے

جوئے تازہ کسی کہسار کہن سے آئے یہ ہنر یوں نہیں آتا ہے جتن سے آئے لوگ نازک تھے اور احساس کے ویرانے تک وہ گزرتے ہوئے آنکھوں کی جلن سے آئے شہر گل کاسۂ درویش بنا بیٹھا ہے کوئی شعلہ کسی جلتے ہوئے بن سے آئے درد کی موج سبک سیر میں بہہ جاؤں گا چاہے وہ جان سے چاہے وہ بدن سے آئے صبح کے ...

مزید پڑھیے

کہہ رہے تھے لوگ صحرا جل گیا

کہہ رہے تھے لوگ صحرا جل گیا پھر خبر آئی کہ دریا جل گیا دیکھ لو میں بھی ہوں میرا جسم بھی بس ہوا یہ ہے کہ چہرہ جل گیا میرے اندازے کی نسبت وہ چراغ کم جلا تھا پھر بھی اچھا جل گیا شارٹ سرکٹ سے اڑیں چنگاریاں صدر میں اک پھول والا جل گیا آگ برسی تھی بدی کے شہر پر اک ہمارا بھی شناسا جل ...

مزید پڑھیے

ریت کا شہر

مجھے اپنے شہر سے پیار ہے نہ سہی اگر مرے شہر میں کوئی کوہ سر بہ فلک نہیں کہیں برف پوش بلندیوں کی جھلک نہیں یہ عظیم بحر جو مرے شہر کے ساتھ ہے مری ذات ہے

مزید پڑھیے

آج کا دن

تاک دھنا دھن آج کا دن کل سے اچھا آج کا دن آج کا دن جو آیا ہے سورج کو بھی لایا ہے چوں چوں کرتی چڑیا نے ننھے منے پنکھ ہلائے اوس کی ننھی بوندوں نے کلیوں کے چہرے چمکائے جاگے سوئے رستوں پر اسکولوں کے بچے آئے الجھی سلجھی گلیوں میں صدا لگاتا ہاکر جائے تاک دھنا دھن آج کا دن

مزید پڑھیے

ننھی منی قوالی

ان کی بھی سنیں ان کی بھی سنیں چھوٹے جو ہوئے سنتے ہی رہیں کچھ بھی نہ کہیں چھوٹے جو ہوئے ہم پر کھلی ہوئی تو سبھی کی زبان ہے یہ مہربان ہے کبھی وہ مہربان ہے آئے کسی سے خوف کسی کا ادب کریں اپنی تو ہر طرح سے مصیبت میں جان ہے ددھیال میں پھوپی ہیں ننھیال میں خالہ ہیں یہ ان سے بھی بڑھ کر ...

مزید پڑھیے

یہ باتیں چھوڑ دو

اجی ہٹاؤ چھوڑو بھی ان باتوں میں کیا رکھا ہے امی نے کہا بس کھیل چکو اور منا منی روٹھ گئے یوں شکل بنائی دونوں نے دل جیسے سچ مچ ٹوٹ گئے باجی نے کہا اس کیاری میں جو پھول تھا کس نے توڑ لیا یہ بات تھی جس پر آپ بہت ناراض ہوئے منہ موڑ لیا بھیا سے ہماری کٹی ہے کیوں کڑوی دوائی لائے ہیں ابو سے ...

مزید پڑھیے

ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں

ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں ابھی یہ موج ہے بیگانگی کے صحرا میں سمندروں میں ستاروں کی آگ پھیلی ہے مہک رہا ہے لہو لذت نظارہ میں ہوا نے ابر بہاراں سے بے وفائی کی خبر کرو کسی آرام گاہ تنہا میں دلوں کے بند دریچوں سے جھانک کر دیکھو کسی فساد کی پرچھائیاں ہیں دنیا میں فریب تھا جو ...

مزید پڑھیے

دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں

دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں راستے الجھے ہوئے ہیں پاؤں میں بستیوں میں ہم بھی رہتے ہیں مگر جیسے آوارہ ہوا صحراؤں میں ہم نے اپنایا درختوں کا چلن خود کبھی بیٹھے نہ اپنی چھاؤں میں کس قدر نادان ہیں اہل جہاں ہم گنے جانے لگے داناؤں میں سامنے کچھ دیر لہراتے رہے پھر وہ ساحل بہہ ...

مزید پڑھیے

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے یہ شام ہے کہ کوئی فرش پائمال سا ہے ترے دیار میں کیا تیز دھوپ تھی لیکن گھنے درخت بھی کچھ کم نہ تھے خیال سا ہے کچھ اتنے پاس سے ہو کر وہ روشنی گزری کہ آج تک در و دیوار کو ملال سا ہے کدھر کدھر سے ہواؤں کے سامنے آؤں چراغ کیا ہے مرے واسطے وبال سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1774 سے 6203