قومی زبان

کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی

کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی دشت پر نور ہوئے بڑھ گئی ظلمت گھر کی اب نہ دروازے کی رونق نہ وہ آنگن کا ہجوم کس قدر بار ہے آنکھوں پہ زیارت گھر کی سب کی دہلیز پہ جلتے ہیں تعصب کے چراغ کیا کرے گا کوئی ایسے میں حفاظت گھر کی خامشی فرضی روایات عنایت ایثار انہیں بنیادوں پہ ...

مزید پڑھیے

سیاست

مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سے بہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سے ضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئی جہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سے یہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہے سیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے نہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداری سکھاتی ہے پرستاروں کو ...

مزید پڑھیے

کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی

کیا سے کیا ہو گئی اس دور میں حالت گھر کی دشت پر نور ہوئے بڑھ گئی ظلمت گھر کی سب کی دہلیزوں پہ جلتے ہیں تعصب کے چراغ کیا کرے گا کوئی ایسے میں حفاظت گھر کی خامشی فرض روایات عنایت ایثار انہیں بنیادوں پہ موقوف ہے عظمت گھر کی جن کے حصے میں کوئی سایۂ دیوار نہیں وہ بھی انساں ہیں انہیں ...

مزید پڑھیے

بکھرا بکھرا ہستی کا شیرازہ ہے

بکھرا بکھرا ہستی کا شیرازہ ہے دیواروں پر خون ابھی تک تازہ ہے تم پر کوئی وار نہ ہوگا پیچھے سے دوست نہیں یہ دشمن کا دروازہ ہے اک اک کر کے ساری قدریں ٹوٹ گئیں یہ اپنی خودداری کا خمیازہ ہے کون کسی کی سنتا ہے اس بستی میں چیخ تمہاری صحرا کا آوازہ ہے اندر سے سب قاتل ہیں سب خونی ...

مزید پڑھیے

کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں

کبھی رستے کو روتے ہیں کبھی مشکل کو روتے ہیں جو ناکام سفر ہوتے ہیں وہ منزل کو روتے ہیں ذرا انداز تو دیکھے کوئی ان دل فگاروں کا پلٹتے ہیں ورق ماضی کا مستقبل کو روتے ہیں خدایا کس قدر نادان ہیں یہ کشتیاں والے سمندر پر نظر رکھتے ہیں اور ساحل کو روتے ہیں بدل دیں انقلاب وقت نے قدریں ...

مزید پڑھیے

کس طرح رکھ لوں ساتھ کسی ہم سفر کو میں

کس طرح رکھ لوں ساتھ کسی ہم سفر کو میں پہچانتا ہوں خوب ہر اک معتبر کو میں دامن میں جس کے کھیل رہی ہو شب سیاہ کیسے کروں قبول بھلا اس سحر کو میں روتا ہے دل سیاست عہد جدید پر جب دیکھتا ہوں غم سے پریشاں بشر کو میں عمر دراز خضرؔ مبارک ہو آپ کو اپنا رہا ہوں زندگیٔ مختصر کو میں رہبرؔ ...

مزید پڑھیے

ماحول تیرگی کا مقدر بڑھا گیا

ماحول تیرگی کا مقدر بڑھا گیا گھر کا چراغ گھر کے اجالے کو کھا گیا دیکھا ہے ہم نے جلنے لگی ہیں وہ بستیاں جن بستیوں سے ہو کے کوئی رہنما گیا انسانیت غریب بھٹکتی ہے در بدر ہر شخص اپنے خول انا میں سما گیا ہم نے پلایا خون ہر اک انقلاب کو ہم کو ہی انقلاب کا دشمن کہا گیا رہبرؔ یہ زندگی ...

مزید پڑھیے

تخلیق کسے کہتے ہیں ہے عظمت فن کیا

تخلیق کسے کہتے ہیں ہے عظمت فن کیا آواز فروشوں کے لیے شعر و سخن کیا پھولوں کی تجارت کا چلن عام ہے اب بھی لٹتی ہی رہے گی یوں ہی تقدیس چمن کیا مظلوم کی چیخوں کو بھی سنتا نہیں کوئی اس شہر میں بستے ہیں سبھی سنگ بدن کیا ہم آ تو گئے بن کے ضیا ظلمت شب میں اس گھور اندھیرے میں مگر ایک کرن ...

مزید پڑھیے

انجام انتہائے سفر دیکھتے چلیں

انجام انتہائے سفر دیکھتے چلیں اب گاؤں آ گئے ہیں تو گھر دیکھتے چلیں گزرے نہیں ہیں ہم بھی کبھی اس دیار سے کیسا ہے خواہشوں کا نگر دیکھتے چلیں پھر اہتمام معرکۂ مرگ و زیست ہے تیغوں سے کھیلتے ہوئے سر دیکھتے چلیں ساحل پہ سہمے سہمے زمانہ گزر گیا دریا کا آج زیر و زبر دیکھتے چلیں جن ...

مزید پڑھیے

زندگی ہے جیب و دامن پر گراں اپنی جگہ

زندگی ہے جیب و دامن پر گراں اپنی جگہ خواہشیں لیتی ہیں دل میں چٹکیاں اپنی جگہ وقت کے طوفاں میں قصر سنگ ڈھ کر رہ گئے ہیں مگر موجود شیشے کے مکاں اپنی جگہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ہی ہیں جزو کائنات جنگ و شر اپنی جگہ امن و اماں اپنی جگہ کر دیے روشن جنوں والوں نے عظمت کے چراغ اہل عقل و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1742 سے 6203