وہ بام پہ پھر جلوہ نما میرے لئے ہے
وہ بام پہ پھر جلوہ نما میرے لئے ہے گل بار و ضیا بار فضا میرے لئے ہے پر نور ہوا جاتا ہے ہر جادۂ مغزل پیشانیٔ سیمیں کی ضیا میرے لئے ہے تا حد نظر پھیل گیا رنگ فضا میں خوش رنگ وہ تحریر حنا میرے لئے ہے رخسار و لب و گیسو و ابرو کے جہاں میں ہر گام پہ اک حشر بپا میرے لئے ہے کچھ درد کی شدت ...