قومی زبان

وہ بام پہ پھر جلوہ نما میرے لئے ہے

وہ بام پہ پھر جلوہ نما میرے لئے ہے گل بار و ضیا بار فضا میرے لئے ہے پر نور ہوا جاتا ہے ہر جادۂ مغزل پیشانیٔ سیمیں کی ضیا میرے لئے ہے تا حد نظر پھیل گیا رنگ فضا میں خوش رنگ وہ تحریر حنا میرے لئے ہے رخسار و لب و گیسو و ابرو کے جہاں میں ہر گام پہ اک حشر بپا میرے لئے ہے کچھ درد کی شدت ...

مزید پڑھیے

جب تک مجھے نصیب تری دوستی رہی

جب تک مجھے نصیب تری دوستی رہی ہر جادۂ حیات میں اک دل کشی رہی دل میں ترے خیال کی تابانیوں کے ساتھ درد شب فراق کی بھی تیرگی رہی یوں تو ہر ایک غمزہ و عشوہ تھا دل فریب لیکن وہ اک نگاہ جو دل پر جمی رہی پھر اس کے بعد ہو گئی تاریک راہ زیست جب تک تمہارا ساتھ رہا روشنی رہی ساقی تری نوازش ...

مزید پڑھیے

پھر ان کی نگاہوں کے پیام آئے ہوئے ہیں

پھر ان کی نگاہوں کے پیام آئے ہوئے ہیں پھر قلب و نظر بخت پہ اترائے ہوئے ہیں پیمانہ بکف بیٹھ کے میخانے میں ساقی ہم گردش حالات کو ٹھہرائے ہوئے ہیں ماحول منور ہے معطر ہیں فضائیں محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ آئے ہوئے ہیں گیسو ہیں کہ برسات کی گھنگھور گھٹائیں عارض ہیں کہ گل دودھ میں نہلائے ...

مزید پڑھیے

گزارے تم نے کیسے روز و شب ہم سے خفا ہو کر

گزارے تم نے کیسے روز و شب ہم سے خفا ہو کر نہ ہم کو راس آئی زندگی تم سے جدا ہو کر فقط اہل جنوں واقف ہیں اس راز حقیقت سے حیات جاوداں ملتی ہے الفت میں فنا ہو کر کہاں ان کے دلوں میں وہ خلش سوز محبت کی ترے تیر نظر سے جو رہے نا آشنا ہو کر تمہاری بے وفائی کا فسانہ ہر زباں پر ہے زمانے کو ...

مزید پڑھیے

جب فراز بام پر وہ جلوہ گر ہوتا نہیں

جب فراز بام پر وہ جلوہ گر ہوتا نہیں کوئی عالم ہو نظر میں معتبر ہوتا نہیں رفتہ رفتہ ہو رہا ہے وہ ستم گر مہرباں کون کہتا ہے محبت میں اثر ہوتا نہیں ہے وفائی نے کیا ہے قصۂ غم کو طویل اب کسی صورت یہ قصہ مختصر ہوتا نہیں کب نگاہوں میں نہیں ہوتا تری فرقت کا غم کون سا عالم ہے جب درد جگر ...

مزید پڑھیے

ندیمؔ ان کی زباں پر پھر ہمارا نام ہے شاید

ندیمؔ ان کی زباں پر پھر ہمارا نام ہے شاید ہماری فکر میں پھر گردش ایام ہے شاید سر کوئے بتاں جو ایک انبوہ حریفاں ہے فراز بام پر اب بھی وہ جلوہ عام ہے شاید مرے احباب بھی خوش ہیں مری بربادئ دل پر سلوک دوستاں لوگو اسی کا نام ہے شاید سر محفل نگاہوں کا تصادم دیکھنے والو کسی کو پھر کسی ...

مزید پڑھیے

ہم گردش دوراں کے ستم دیکھ رہے ہیں

ہم گردش دوراں کے ستم دیکھ رہے ہیں بیچارگئ اہل کرم دیکھ رہے ہیں ہم دل پہ سہے جاتے ہیں ہر تیر جفا کو ہے کس کا جگر دیکھے جو ہم دیکھ رہے ہیں ہے یہ تو یقیں بدلے گا انداز زمانہ فی الحال تو ہم شدت غم دیکھ رہے ہیں ایثار و مروت ہیں جو تم دیکھ رہے ہو بیداد و تغافل ہیں جو ہم دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

ترا غم اشک بن کر آ گیا ہے

ترا غم اشک بن کر آ گیا ہے کہ پھر آگے سمندر آ گیا ہے بظاہر خشک سالی ہے گھروں پر مگر سیلاب اندر آ گیا ہے نیا پیغام شیشے پر لکھوں گا کہ میرے ہاتھ پتھر آ گیا ہے سہارا کیا دیا گرتے مکاں کو کہ ملبہ میرے اوپر آ گیا ہے یہاں پر بھی وہی صحرا ہے راحتؔ میں سمجھا تھا مرا گھر آ گیا ہے

مزید پڑھیے

وہ طمطراق سکندر نہ قصر شاہ میں ہے

وہ طمطراق سکندر نہ قصر شاہ میں ہے جو بات راحتؔ خستہ کی خانقاہ میں ہے اسے ہٹانا پڑے گا جنوں کی ٹھوکر سے یہ کائنات رکاوٹ مری نگاہ میں ہے میں اس سماج کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ عشق جیسی عبادت جہاں گناہ میں ہے خیال رکتے نہیں آہنی فصیلوں سے کہ آہ خلق کہاں قدرت سپاہ میں ہے کہ یہ بھی ...

مزید پڑھیے

عہد گم گشتہ کی نشانی ہوں

عہد گم گشتہ کی نشانی ہوں ایک بھولی ہوئی کہانی ہوں وہ خوشی ہوں جو درد سلگائے آگ جس سے لگے وہ پانی ہوں ایک آنسو ہوں چشم عشرت کا زیست کا رنج شادمانی ہوں اپنی بربادیوں پہ یاد آیا کتنی آبادیوں کا بانی ہوں سینۂ دشت پر ہوں موج سراب خشک دریاؤں کی روانی ہوں آئنہ خانۂ زمانہ میں عکس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1743 سے 6203