قومی زبان

ٹیڑھا سوال

میز کے اوپر رکھے تھے کانسے کے بندر کمرے میں تھا ایک دھندلکا ہلکا ہلکا میں نے دیکھا اک بندر تھا ہاتھ رکھے اپنی آنکھوں پر اک ہونٹوں پر اک کانوں پر ایک ہنسی ہونٹوں پر آئی گونج ابھی باقی تھی اس کی میں نے آنکھیں مل کر دیکھا آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹائے بندر مجھ کو گھور رہا ہے یوں گویا ...

مزید پڑھیے

برف

کل شب جب سورج نے اپنی آنکھیں موندیں اپنا دامن کھینچا اور ہوا کا سرپٹ گھوڑا باندھ دیا اور فلک پر اک جانب سے چادر مٹیالی سی تانی پریاں ہلکے سیمیں ان کے پر رفتار خراماں اتریں دھیرے دھیرے جیسے پر ہوں دوش ہوا پر اتریں پریاں مل کر رقصاں رقص کی لے مدھم سی آہٹ روشن شبنم سی لے ہلکی سر ...

مزید پڑھیے

افسانے کے حرف

تم سے بچھڑے صدیاں بیتیں لیکن دل میں یاد تمہاری اب بھی ہے پر اس صورت سے جیسے تفتیدہ کاغذ پر حرف کسی افسانے کے ہوں

مزید پڑھیے

جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی اجلے موسم کی طرح ایک فضا ہوں میں بھی ہاں دھنک ٹوٹ کے بکھری تھی مرے بستر پر اے سکوں لمس ترے ساتھ جیا ہوں میں بھی راہ پامال تھی چھوڑ آیا ہوں ساتھی سوتے کوری مٹی کا گنہ گار ہوا ہوں میں بھی کتنا سرکش تھا ہواؤں نے سزا دی کیسی کاٹھ کا مرغ ہوں اب باد ...

مزید پڑھیے

میں سنگلاخ زمینوں کے راز کہتا ہوں

میں سنگلاخ زمینوں کے راز کہتا ہوں میں گیت بن کے چٹانوں کے بیچ گونجا ہوں طلوع صبح کا منظر عجیب ہے کتنا مرا خیال ہے میں پہلی بار جاگا ہوں مرا وجود غنیمت ہے سوچئے تو سہی میں خشک ڈال کا پتا ہرا ہرا سا ہوں بجا کہ روز اندھیرا مجھے نگلتا ہے میں روز اک نیا خورشید بن کے اٹھتا ہوں کسی نے ...

مزید پڑھیے

کیا بات تھی کہ جو بھی سنا ان سنا ہوا

کیا بات تھی کہ جو بھی سنا ان سنا ہوا دل کے نگر میں شور تھا کیسا مچا ہوا تم چھپ گئے تھے جسم کی دیوار سے پرے اک شخص پھر رہا تھا تمہیں ڈھونڈتا ہوا اک سایہ کل ملا تھا ترے گھر کے آس پاس حیران کھویا کھویا سا کچھ سوچتا ہوا شاید ہوائے تازہ کبھی آئے اس طرف رکھا ہے میں نے گھر کا دریچہ کھلا ...

مزید پڑھیے

سوچیے گرمئ گفتار کہاں سے آئی

سوچیے گرمئ گفتار کہاں سے آئی لب بہ لب خواہش اظہار کہاں سے آئی کس حنا ہاتھ سے آنگن ہے معطر اتنا وقت خوش ساعت بیدار کہاں سے آئی ہاں یہ ممکن ہے نیا موڑ ہو پھولوں جیسا پھر یہ پازیب کی جھنکار کہاں سے آئی خون میں نشۂ اظہار کا خنجر پیوست درمیاں چپ کی یہ تلوار کہاں سے آئی ہم خرابے کے ...

مزید پڑھیے

کم نگہی

شہر کے باہر، ویرانے میں اک پگڈنڈی پر تنہا سا ننھا سا اک پیڑ کھڑا تھا شاخیں اس کی چھوٹی چھوٹی پتے کم کم پھل بھی تھوڑے اکا دکا جیسے کسی نے توڑ لیے ہوں لیکن سایہ گھنا گھنا تھا میں نے دیکھا ایک مسافر اس کی چھاؤں میں سستاتا تھا تھوڑی دیر میں وہ اٹھ بیٹھا ساماں اس نے سفر کا ...

مزید پڑھیے

نیا سال

راز کیا چاند نے تاروں سے کہا رات کا پچھلا پہر بھیگ گیا وقت کی آنکھ سے آنسو ٹپکا صبح جب آنکھ کھلی تو دیکھا اک نیا پھول تھا کھڑکی میں کھلا

مزید پڑھیے

عرفان

رات اماوس کی تھی میں نے ناگ پھنی کے اک کانٹے پر ایک پل کے سوویں حصے تک سورج کو روشن دیکھا تھا پھیل گیا میری آنکھوں میں سو راتوں کا گھور اندھیرا اور مجھے محسوس ہوا یوں گھور اندھیرے کے سینے میں میں بجلی کا اک کوندا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 1735 سے 6203