ٹیڑھا سوال
میز کے اوپر رکھے تھے کانسے کے بندر کمرے میں تھا ایک دھندلکا ہلکا ہلکا میں نے دیکھا اک بندر تھا ہاتھ رکھے اپنی آنکھوں پر اک ہونٹوں پر اک کانوں پر ایک ہنسی ہونٹوں پر آئی گونج ابھی باقی تھی اس کی میں نے آنکھیں مل کر دیکھا آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹائے بندر مجھ کو گھور رہا ہے یوں گویا ...