قومی زبان

خواہشوں کو سر پہ لادے یوں سفر کرنے لگے

خواہشوں کو سر پہ لادے یوں سفر کرنے لگے لوگ اپنی ذات کو زیر و زبر کرنے لگے اس جنوں کا اس سے بہتر اور کیا ہوگا صلہ ہم خود اپنے خون سے دامن کو تر کرنے لگے دھوپ میں جلتے رہے ہیں سرو کی صورت مگر یہ غضب ہے چاند پر پھر بھی نظر کرنے لگے دوستوں نے تحفتاً بخشے جو زخموں کے گلاب ان کی بو ...

مزید پڑھیے

شام کے شعلے سے کیا شمعیں فروزاں ہو گئیں

شام کے شعلے سے کیا شمعیں فروزاں ہو گئیں خواب سی پرچھائیاں بھی جیسے انساں ہو گئیں درد کی فصلیں ہری رت کو ترستی ہی رہیں اب کے شاید بے اثر آنکھوں کی جھڑیاں ہو گئیں وقت کی ریگ رواں میں گم ہوئے کتنے سراب دل کو اس اندھے سفر پر نکلے صدیاں ہو گئیں وہ نہیں تو سب نے گہری چپ کی چادر اوڑھ ...

مزید پڑھیے

جواں مرگ کا نوحہ

ہمیں جوانی میں موت آئے گی بھیگتے تکیے کے سرد سینے پہ اپنی سانسوں میں گرم بانہوں کی پیاس لے کر سلگنے والی ہر ایک دوشیزہ جانتی ہے کہ آنکھ جب خواب کے صحیفے کو چاٹ لے گی تو نوح کیپسول سے پکارے گا پیارے بیٹے، اماں میں آؤ لو، میں نے جو قبر عمر کے بیلچے سے اپنے لئے بنائی ہے اس کی رانوں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں

ٹوٹی ہوئی دیوار کی تقدیر بنا ہوں میں کیسا فسانہ ہوں کہاں لکھا ہوا ہوں کوئی بھی مرے کرب سے آگاہ نہیں ہے میں شاخ سے گرتے ہوئے پتے کی صدا ہوں مٹھی میں لیے ماضی و امروز کی کرنیں میں کب سے نئے دور کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں اس شہر پر آشوب کے ہنگامہ و شر میں زیتون کی ڈالی ہوں کہیں شاخ حنا ...

مزید پڑھیے

باہم سلوک خاص کا اک سلسلہ بھی ہے

باہم سلوک خاص کا اک سلسلہ بھی ہے وہ کون ساتھ ساتھ ہے لیکن جدا بھی ہے برگ خزاں کی زرد سی تحریر ہے مگر دست شفق میں پھول سنہرا کھلا بھی ہے ایتھر کی دھند میں ہیں گئے موسموں کے نقش اک ہاتھ پیٹھ پر ہے دیا اک جلا بھی ہے افکار جیسے شخص برہنہ نگر کے ہیں! الفاظ اجنبی کہ نیا ناروا بھی ...

مزید پڑھیے

کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو

کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیا نہ ہو گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو اب لوگ اپنے آپ کو پہچانتے نہیں پیش نگاہ جیسے کوئی آئینا نہ ہو وحشی ...

مزید پڑھیے

بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے

بوندیں پڑی تھیں چھت پہ کہ سب لوگ اٹھ گئے قدرت کے آدمی سے عجب سلسلے رہے وہ شخص کیا ہوا جو مقابل تھا! سوچیے! بس اتنا کہہ کے آئنے خاموش ہو گئے اس آس پر کہ خود سے ملاقات ہو کبھی اپنے ہی در پہ آپ ہی دستک دیا کئے پتے اڑا کے لے گئی اندھی ہوا کہیں اشجار بے لباس زمیں میں گڑے رہے کیا بات ...

مزید پڑھیے

کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا

کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا پیڑ پھل دار میں اک راہ گزر کا ہوتا اپنی آواز کے جادو پہ بھروسا کرتے مور جو نقش تھا دیوار پہ ناچا ہوتا ایک ہی پل کو ٹھہرنا تھا منڈیروں پہ تری شام کی دھوپ ہوں میں کاش یہ جانا ہوتا ایک ہی نقش سے سو عکس نمایاں ہوتے کچھ سلیقے ہی سے الفاظ کو برتا ...

مزید پڑھیے

کیا ہی تپتا ہے سلگتا ہے دھواں دیتا ہے

کیا ہی تپتا ہے سلگتا ہے دھواں دیتا ہے ہجر کی شام تو دل باندھ سماں دیتا ہے کون کمبخت نہ چاہے گا نکلنا لیکن اتنی مہلت ہی ترا دام کہاں دیتا ہے قول تو ایک بھی پورا نہ ہوا اب دیکھوں کیا دلیل اس کی مرا شعلہ بیاں دیتا ہے طبع نازک پہ گزرتا ہے گراں تو گزرے زیب وحشی کو یہی طرز فغاں دیتا ...

مزید پڑھیے

آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں

آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں اس قدر تو گئے گزرے بخدا ہم بھی نہیں اب انا کو کرے سجدہ تو محبت ہی کرے جبہہ سا آپ نہیں ناصیہ سا ہم بھی نہیں جائیے جائیے مت دیکھیے مڑ کر پیچھے ایسے شوقین جفا خار وفا ہم بھی نہیں چارۂ سرکشئ دل کریں اللہ اللہ وہ خدا بندہ نواز آپ تو کیا ہم بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1736 سے 6203