قومی زبان

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا کیا دوبارہ مجھے دلگیر کیا جائے گا اس کی آنکھوں میں کھڑا دیکھ رہا ہوں خود کو کون سے پل مجھے تسخیر کیا جائے گا میری آنکھوں میں کئی خواب ادھورے ہیں ابھی کیا مکمل انہیں تعبیر کیا جائے گا مجھ کو بیکار میں حیرت نے پکڑ رکھا ہے شہر تو دشت میں تعمیر کیا ...

مزید پڑھیے

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے

زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے میں ڈھیر ہو گیا طول سفر سے ڈرتے ہوئے دکھا کے لمحۂ خالی کا عکس لاتفسیر یہ مجھ میں کون ہے مجھ سے فرار کرتے ہوئے بس ایک زخم تھا دل میں جگہ بناتا ہوا ہزار غم تھے مگر بھولتے بسرتے ہوئے وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات ...

مزید پڑھیے

عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا

عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا اسے بہانہ ملا مجھ سے بات کرنے کا پھر ایک موج تہہ آب اس کو کھینچ گئی تماشہ ختم ہوا ڈوبنے ابھرنے کا مجھے خبر ہے کہ رستہ مزار چاہتا ہے میں خستہ پا سہی لیکن نہیں ٹھہرنے کا تھما کے ایک بکھرتا گلاب میرے ہاتھ تماشہ دیکھ رہا ہے وہ میرے ڈرنے کا یہ آسماں ...

مزید پڑھیے

قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا

قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا ہوا بندھی تھی یہاں پیٹھ پر سنبھلتے کیا پھر اس کے ہاتھوں ہمیں اپنا قتل بھی تھا قبول کہ آ چکے تھے قریب اتنے بچ نکلتے کیا یہی سمجھ کے وہاں سے میں ہو لیا رخصت وہ چلتے ساتھ مگر دور تک تو چلتے کیا تمام شہر تھا اک موم کا عجائب گھر چڑھا جو دن تو یہ ...

مزید پڑھیے

کاٹا سفر تو ہم نے بڑی ہی لگن کے ساتھ

کاٹا سفر تو ہم نے بڑی ہی لگن کے ساتھ منزل پہ جا کے بیٹھے تو بیٹھے تھکن کے ساتھ گو شہر اجنبی میں کوئی آشنا نہ تھا لیکن ملا جو شخص ملا اپنے پن کے ساتھ کوئی لباس قیمتی پہنے نہیں گیا جو بھی گیا گیا ہے وہ کورے کفن کے ساتھ عرفان ذات کی طرف کرتے نہیں رجوع ہم اور سارے کام ہیں کرتے جتن کے ...

مزید پڑھیے

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے

عشق تھا اور عقیدت سے ملا کرتے تھے پہلے ہم لوگ محبت سے ملا کرتے تھے روز ہی سائے بلاتے تھے ہمیں اپنی طرف روز ہم دھوپ کی شدت سے ملا کرتے تھے صرف رستہ ہی نہیں دیکھ کے خوش ہوتا تھا در و دیوار بھی حسرت سے ملا کرتے تھے اب تو ملنے کے لیے وقت نہیں ملتا ہے ورنہ ہم کتنی سہولت سے ملا کرتے ...

مزید پڑھیے

کچھ اپنی فکر نہ اپنا خیال کرتا ہوں

کچھ اپنی فکر نہ اپنا خیال کرتا ہوں تو کیا یہ کم ہے تری دیکھ بھال کرتا ہوں مری جگہ پہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے میں اپنے آپ سے اتنے سوال کرتا ہوں اگر ملال کسی کو نہیں مرا نہ سہی میں خود بھی کون سا اپنا ملال کرتا ہوں یہ چاند اور ستارے رفیق ہیں میرے میں روز ان سے بیاں اپنا حال کرتا ...

مزید پڑھیے

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم یہ شام اور کہیں پر گزارتے ہیں ہم قدم زمین پہ رکھے ہمیں زمانہ ہوا سو آسمان سے خود کو اتارتے ہیں ہم ہماری روح کا حصہ ہمارے آنسو ہیں انہیں بھی شوق اذیت پہ وارتے ہیں ہم ہماری آنکھ سے نیندیں اڑانے لگتا ہے جسے بھی خواب سمجھ کر پکارتے ہیں ہم ہم اپنے ...

مزید پڑھیے

ساتھ رونے نہ سہی گیت سنانے آتے

ساتھ رونے نہ سہی گیت سنانے آتے تم مصیبت میں مرا ہاتھ بٹانے آتے عمر بھر جاگ کے آنکھوں کی حفاظت کی ہے جانے کب لوگ مرے خواب چرانے آتے کھینچ لائی ہے ترے دشت کی وحشت ورنہ کتنے دریا ہی مری پیاس بجھانے آتے ساتھ تو خیر نبھانا تمہیں آتا ہی نہیں کم سے کم راہ میں دیوار اٹھانے آتے خوف آتا ...

مزید پڑھیے

دشت کی پیاس کسی طور بجھائی جاتی

دشت کی پیاس کسی طور بجھائی جاتی کوئی تصویر ہی پانی کی دکھائی جاتی ایک دریا چلا آیا ہے مرے ساتھ اسے روکنے کے لیے دیوار اٹھائی جاتی ہم نئے نقش بنانے کا ہنر جانتے ہیں ایسا ہوتا تو نئی شکل بنائی جاتی اب یہ آنسو ہیں کہ رکتے ہی نہیں ہیں ہم سے دل کی آواز ہی پہلے نہ سنائی جاتی صرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1691 سے 6203