قومی زبان

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ سر شام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھ وہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواح جاں میں کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیر آب سا کچھ کبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو کیا ہے یہ شے ہمیں کیوں ہے سینے میں اس سبب اضطراب سا کچھ وہ فضا نہ جانے سوال کرنے کے بعد ...

مزید پڑھیے

جانے وہ کون تھا اور کس کو صدا دیتا تھا

جانے وہ کون تھا اور کس کو صدا دیتا تھا اس سے بچھڑا ہے کوئی اتنا پتہ دیتا تھا کوئی کچھ پوچھے تو کہتا کہ ہوا سے بچنا خود بھی ڈرتا تھا بہت سب کو ڈرا دیتا تھا اس کی آواز کہ بے داغ سا آئینہ تھی تلخ جملہ بھی وہ کہتا تو مزہ دیتا تھا دن بھر ایک ایک سے وہ لڑتا جھگڑتا بھی بہت رات کے پچھلے ...

مزید پڑھیے

محراب نہ قندیل نہ اسرار نہ تمثیل

محراب نہ قندیل نہ اسرار نہ تمثیل کہہ اے ورق تیرہ کہاں ہے تری تفصیل اک دھند میں گم ہوتی ہوئی ساری کہانی اک لفظ کے باطن سے الجھتی ہوئی تاویل میں آخری پرتو ہوں کسی غم کے افق پر اک زرد تماشے میں ہوا جاتا ہوں تحلیل واماندۂ وقت آنکھ کو منظر نہ دکھا اور ذمے ہے ہمارے ابھی اک خواب کی ...

مزید پڑھیے

خط کوئی پیار بھرا لکھ دینا

خط کوئی پیار بھرا لکھ دینا مشورہ لکھنا دعا لکھ دینا کوئی دیوار شکستہ ہی سہی اس پہ تم نام مرا لکھ دینا کتنا سادہ تھا وہ امکاں کا نشہ ایک جھونکے کو ہوا لکھ دینا کچھ تو آکاش میں تصویر سا ہے مسکرا دے تو خدا لکھ دینا برگ آخر نے کہا لہرا کے مجھے موسم کی انا لکھ دینا ہاتھ لہرانا ہوا ...

مزید پڑھیے

اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا

اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا قائل ہی تری بات کا اندر سے نہیں تھا ہر آنکھ کہیں دور کے منظر پہ لگی تھی بیدار کوئی اپنے برابر سے نہیں تھا کیوں ہاتھ ہیں خالی کہ ہمارا کوئی رشتہ جنگل سے نہیں تھا کہ سمندر سے نہیں تھا اب اس کے لئے اس قدر آسان تھا سب کچھ واقف وہ مگر سعی مکرر سے ...

مزید پڑھیے

چھپی ہے تجھ میں کوئی شے اسے نہ غارت کر

چھپی ہے تجھ میں کوئی شے اسے نہ غارت کر جو ہو سکے تو کہیں دل لگا محبت کر ادا یہ کس کٹے پتے سے تو نے سیکھی ہے ستم ہوا کا ہو اور شاخ سے شکایت کر نہ ہو مخل مرے اندر کی ایک دنیا میں بڑی خوشی سے بر و بحر پر حکومت کر وہ اپنے آپ نہ سمجھے گا تیرے دل میں ہے کیا خلش کو حرف بنا حرف کو حکایت ...

مزید پڑھیے

صرف بچے ہی نہیں شور مچانے آتے (ردیف .. ن)

صرف بچے ہی نہیں شور مچانے آتے سیر کرنے یہاں بیمار بھی آ جاتے ہیں دل بھی ہو جاتا ہے خوش اپنا تماشا کر کے اور نبھانے ہمیں کردار بھی آ جاتے ہیں کس قدر دکھ ہے تمہیں دل کے اجڑ جانے کا عشق میں کام تو گھربار بھی آ جاتے ہیں ہم بھی آ جاتے ہیں بازار میں آنکھیں لے کر شام ہوتے ہی خریدار بھی ...

مزید پڑھیے

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں مجھ سے ملنے مرے احباب نہیں آتے ہیں شہر کی بھیڑ سے خود کو تو بچا لاتا ہوں گو سلامت مرے اعصاب نہیں آتے ہیں تشنگی دشت کی دریا کو ڈبو دے نہ کہیں اس لیے دشت میں سیلاب نہیں آتے ہیں ڈوبتے وقت سمندر میں مرے ہاتھ لگے وہ جواہر جو سر آب نہیں آتے ہیں یا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے جیسے یہ زندگی اسی کی ہے وہ کہیں آس پاس ہے موجود ہو بہ ہو یہ ہنسی اسی کی ہے خود میں اپنا دکھا رہا ہوں دل اس میں لیکن خوشی اسی کی ہے یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میں یعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے کیا مرے خواب بھی نہیں میرے کیا مری نیند بھی اسی کی ہے

مزید پڑھیے

ہمارا خواب اگر خواب کی خبر رکھے

ہمارا خواب اگر خواب کی خبر رکھے تو یہ چراغ بھی مہتاب کی خبر رکھے اٹھا نہ پائے گی آسودگی تھکن کا بوجھ سفر کی گرد ہی اعصاب کی خبر رکھے تمام شہر گرفتار ہے اذیت میں کسے کہوں مرے احباب کی خبر رکھے نہیں ہے فکر اگر شہر کی مکانوں کو تو کوئی دشت ہی سیلاب کی خبر رکھے

مزید پڑھیے
صفحہ 1690 سے 6203