یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ
یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ سر شام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھ وہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواح جاں میں کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیر آب سا کچھ کبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو کیا ہے یہ شے ہمیں کیوں ہے سینے میں اس سبب اضطراب سا کچھ وہ فضا نہ جانے سوال کرنے کے بعد ...