سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے
سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے چار جانب کھینچ دیں اس نے لکیریں آگ کی میں کہ چلایا بہت بستی میں گھر میرا بھی ہے جانے کس کا کیا چھپا ہے اس دھوئیں کی صف کے پار ایک لمحے کا افق امید بھر میرا بھی ہے راہ آساں دیکھ کر سب خوش تھے پھر میں نے ...