قومی زبان

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے

سلسلہ روشن تجسس کا ادھر میرا بھی ہے اے ستارو اس خلا میں اک سفر میرا بھی ہے چار جانب کھینچ دیں اس نے لکیریں آگ کی میں کہ چلایا بہت بستی میں گھر میرا بھی ہے جانے کس کا کیا چھپا ہے اس دھوئیں کی صف کے پار ایک لمحے کا افق امید بھر میرا بھی ہے راہ آساں دیکھ کر سب خوش تھے پھر میں نے ...

مزید پڑھیے

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا

کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا ندی کے دونوں طرف ساری کشتیاں گم تھیں بہت ہی تیز تھا اب کے نشہ روانی کا میں کیوں نہ ڈوبتے منظر کے ساتھ ڈوب ہی جاؤں یہ شام اور سمندر اداس پانی کا پرندے پہلی اڑانوں کے بعد لوٹ آئے لپک اٹھا کوئی احساس رائیگانی کا میں ...

مزید پڑھیے

ہری سنہری خاک اڑانے والا میں

ہری سنہری خاک اڑانے والا میں شفق شجر تصویر بنانے والا میں خلا کے سارے رنگ سمیٹنے والی شام شب کی مژہ پر خواب سجانے والا میں فضا کا پہلا پھول کھلانے والی صبح ہوا کے سر میں گیت ملانے والا میں باہر بھیتر فصل اگانے والا تو ترے خزانے سدا لٹانے والا میں چھتوں پہ بارش دور پہاڑی ہلکی ...

مزید پڑھیے

عکس کوئی کسی منظر میں نہ تھا

عکس کوئی کسی منظر میں نہ تھا کوئی بھی چہرہ کسی در میں نہ تھا صبح اک بوند گھٹاؤں میں نہ تھی چاند بھی شب کو سمندر میں نہ تھا کوئی جھنکار رگ گل میں نہ تھی خواب کوئی کسی پتھر میں نہ تھا شمع روشن کسی کھڑکی میں نہ تھی منتظر کوئی کسی گھر میں نہ تھا کوئی وحشت بھی مرے دل میں نہ تھی کوئی ...

مزید پڑھیے

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے یہ اور کون مرے ساتھ امتحاں میں ہے یہ رات گزرے تو دیکھوں طرف طرف کیا ہے ابھی تو میرے لئے سب کچھ آسماں میں ہے کٹے گا سر بھی اسی کا کہ یہ عجب کردار کبھی الگ بھی ہے شامل بھی داستاں میں ہے تمام شہر کو مسمار کر رہی ہے ہوا میں دیکھتا ہوں وہ محفوظ کس مکاں ...

مزید پڑھیے

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے

مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے اک اور ذات میں ڈھلتا ہوا سا کچھ تو ہے مری صدا نہ سہی ہاں مرا لہو نہ سہی یہ موج موج اچھلتا ہوا سا کچھ تو ہے کہیں نہ آخری جھونکا ہو مٹتے رشتوں کا یہ درمیاں سے نکلتا ہوا سا کچھ تو ہے نہیں ہے آنکھ کے صحرا میں ایک بوند سراب مگر یہ رنگ بدلتا ہوا سا ...

مزید پڑھیے

خاک و خوں کی وسعتوں سے با خبر کرتی ہوئی

خاک و خوں کی وسعتوں سے با خبر کرتی ہوئی اک نظر امکاں ہزار امکاں سفر کرتی ہوئی اک عجب بے چین منظر آنکھ میں ڈھلتا ہوا اک خلش سفاک سی سینے میں گھر کرتی ہوئی اک کتاب صد ہنر تشریح زائل کا شکار ایک مہمل بات جادو کا اثر کرتی ہوئی جسم اور اک نیم پوشیدہ ہوس آمادگی آنکھ اور سیر لباس ...

مزید پڑھیے

دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا

دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا تلاش کرتی ہے پل پل ہوا نہ جانے کیا ذرا سا کان لگا کے کبھی سنو گئے رات کہیں سے آتی ہے گم صم صدا نہ جانے کیا مسافروں کے دلوں میں عجب خزانے تھے زیاں سفر تھا مگر راستہ نہ جانے کیا وہ کہہ رہا تھا نہ جھانکوں گا آج صبح اس میں مجھے دکھائے یہی آئینہ ...

مزید پڑھیے

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا

دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا ذرا سے لمس نے روشن کیا بدن اس کا وہ خاک اڑانے پہ آئے تو سارے دشت اس کے چلے گداز قدم تو چمن چمن اس کا وہ جھوٹ سچ سے پرے رات کچھ سناتا تھا دلوں میں راست اترتا گیا سخن اس کا عجیب آب و ہوا کا وہ رہنے والا ہے ملے گا خواب و خلا میں کہیں وطن اس کا تری ...

مزید پڑھیے

بہت کچھ منتظر اک بات کا تھا

بہت کچھ منتظر اک بات کا تھا کہ لمحہ لاکھ امکانات کا تھا بچا لی تھی ضیا اندر کی اس نے وہی اک آشنا اب رات کا تھا رفاقت کیا کہاں کے مشترک خواب کہ سارا سلسلہ شبہات کا تھا بگولے اس کے سر پر چیختے تھے مگر وہ آدمی چپ ذات کا تھا حنائی ہاتھ کا منظر تھا بانیؔ کہ تابندہ ورق اثبات کا تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 1687 سے 6203