نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا
نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا عجب نظارۂ لا سمتیت نظر میں تھا عتاب تھا کسی لمحے کا اک زمانے پر کسی کو چین نہ باہر تھا اور نہ گھر میں تھا چھپا کے لے گیا دنیا سے اپنے دل کے گھاؤ کہ ایک شخص بہت طاق اس ہنر میں تھا کسی کے لوٹنے کی جب صدا سنی تو کھلا کہ میرے ساتھ کوئی اور ...