قومی زبان

نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا

نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا عجب نظارۂ لا سمتیت نظر میں تھا عتاب تھا کسی لمحے کا اک زمانے پر کسی کو چین نہ باہر تھا اور نہ گھر میں تھا چھپا کے لے گیا دنیا سے اپنے دل کے گھاؤ کہ ایک شخص بہت طاق اس ہنر میں تھا کسی کے لوٹنے کی جب صدا سنی تو کھلا کہ میرے ساتھ کوئی اور ...

مزید پڑھیے

چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں

چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں نئے انوکھے موڑ بدلنے والا میں تم کیا سمجھو عجب عجب ان باتوں کو آگ کہیں ہو یہاں ہوں جلنے والا میں بہت ذرا سی اوس بھگونے کو میرے بہت ذرا سی آنچ، پگھلنے والا میں بہت ذرا سی ٹھیس تڑپنے کو میرے بہت ذرا سی موج، اچھلنے والا میں بہت ذرا سا سفر بھٹکنے ...

مزید پڑھیے

ذرا سا امکان کس قدر تھا

ذرا سا امکان کس قدر تھا فضا میں ہیجان کس قدر تھا میں کس قدر تھا قریب اس کے وہ میری پہچان کس قدر تھا لباس پر تھا ذرا سا اک داغ بدن پریشان کس قدر تھا یہی کہ اس سے کبھی نہ ٹوٹے ہمیں کہ اک دھیان کس قدر تھا نہ جانے کیا لوگ بچھڑے ہوں گے وہ موڑ سنسان کس قدر تھا وہ سارے غم کیا ہوئے ...

مزید پڑھیے

غائب ہر منظر میرا

غائب ہر منظر میرا ڈھونڈ پرندے گھر میرا جنگل میں گم فصل مری ندی میں گم پتھر میرا دعا مری گم صر صر میں بھنور میں گم محور میرا ناف میں گم سب خواب مرے ریت میں گم بستر میرا سب بے نور قیاس مرے گم سارا دفتر میرا کبھی کبھی سب کچھ غائب نام کہ گم اکثر میرا میں اپنے اندر کی بہار بانیؔ ...

مزید پڑھیے

ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی

ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی کوئی تو موج تھی دریا کے پار لے آئی وہ لوگ جو کبھی باہر نہ گھر سے جھانکتے تھے یہ شب انہیں بھی سر رہ گزار لے آئی افق سے تا بہ افق پھیلتی بکھرتی گھٹا گئی رتوں کا چمکتا غبار لے آئی متاع وعدہ سنبھالے رہو کہ آج بھی شام وہاں سے ایک نیا انتظار لے آئی اداس ...

مزید پڑھیے

آج تو رونے کو جی ہو جیسے

آج تو رونے کو جی ہو جیسے پھر کوئی آس بندھی ہو جیسے شہر میں پھرتا ہوں تنہا تنہا آشنا ایک وہی ہو جیسے ہر زمانے کی صدائے معتوب میرے سینے سے اٹھی ہو جیسے خوش ہوئے ترک وفا کر کے ہم اب مقدر بھی یہی ہو جیسے اس طرح شب گئے ٹوٹی ہے امید کوئی دیوار گری ہو جیسے یاس آلود ہے ایک ایک گھڑی زرد ...

مزید پڑھیے

لباس اس کا علامت کی طرح تھا

لباس اس کا علامت کی طرح تھا بدن روشن عبارت کی طرح تھا فضا صیقل سماعت کی طرح تھی سکوت اس کا امانت کی طرح تھا ادا موج تجسس کی طرح تھی نفس خوشبو کی شہرت کی طرح تھا بساط رنگ تھی مٹھی میں اس کی قدم اس کا بشارت کی طرح تھا گریزاں آنکھ دعوت کی طرح تھی تکلف اک عنایت کی طرح تھا خلش بے ...

مزید پڑھیے

آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی

آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی کوئی تصویر روانی میں نہ تھی ولولہ مصرعۂ اول میں نہ تھا حرکت مصرعۂ ثانی میں نہ تھی کوئی آہنگ نہ الفاظ میں تھا کیفیت کوئی معانی میں نہ تھی خوں کا نم سادہ نوائی میں نہ تھا خوں کی بو شوخ بیانی میں نہ تھی کوئی مفہوم تصور میں نہ تھا کوئی بھی بات کہانی ...

مزید پڑھیے

گھنی گھنیری رات میں ڈرنے والا میں

گھنی گھنیری رات میں ڈرنے والا میں سناٹے کی طرح بکھرنے والا میں جانے کون اس پار بلاتا ہے مجھ کو چڑھی ندی کے بیچ اترنے والا میں رسوائی تو رسوائی منظور مجھے ڈرے ڈرے سے پاؤں نہ دھرنے والا میں مرے لیے کیا چیز ہے تجھ سے بڑھ کر یار ساتھ ہی جینے ساتھ ہی مرنے والا میں سب کچھ کہہ کے توڑ ...

مزید پڑھیے

اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا

اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا آج گھر کی چھت سے دیکھا آسماں ایسا نہ تھا کب سے ہے گرتے ہوئے پتوں کا منظر آنکھ میں جانے کیا موسم ہے خوابوں کا زیاں ایسا نہ تھا کوئی شے لہرا ہی جاتی تھی فصیل شب کے پار دور افق میں دیکھنا کچھ رائیگاں ایسا نہ تھا پیڑ تھے سائے تھے پگڈنڈی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1688 سے 6203